حاجی ہدایت آج کے زمانے میں ہوتے تو ان کی دو چار آڈیوز اورپندرہ بیس ویڈیوز ضرور لیک ہوچکی ہوتیں لیکن حاجی صاحب جس زمانے میں گُل کھلاتے تھے اس زمانے میں صرف پین کی سیاہی لیک ہوا کرتی تھی۔ خود کہتے ہیں کہ ہم نے بھلے وقتوں میں سب کچھ کرلیا ورنہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہ رہتے یہ الگ بات کہ لوگ اسے ان کی خوش فہمی سمجھتے ہیں کہ وہ خود کو اب بھی منہ دکھانے کے قابل سمجھتے ہیں،منہ دکھانے کی نوبت تو اس لیے بھی نہ آئی کہ وہ کوشش کے باوجود شادی نہ کرسکے، کہتے ہیں اب ایک ہی دفعہ لوگ میرا منہ دیکھیں گے۔
حاجی ہدایت کو ان کے والدین پیار سے بے ہدایتا بھی کہتے تھے لیکن خدامعلوم ان کانام ہدایت کس نے رکھاتھا۔حاجی صاحب میں یوں تو بہت سی خوبیاں تھیں لیکن خامی صرف ایک ہی تھی کہ وہ خود تو راہ ہدایت سے دور رہتے تھے لیکن اوروں کو اس پرچلنے کی تلقین صبح و شام کرتے تھے۔حاجی صاحب کے بارے میں پہلی نظر میں تو کسی کو گمان بھی نہیں ہوتاتھا کہ وہ نام کے حاجی ہیں اور انہوں نے اپنے نام کے ساتھ حاجی تخلص کی طرح لٹکا رکھا ہے۔ بچپن میں تو وہ صرف ہدایت میاں کے نام سے جانے جاتے تھے لیکن ان کا مزاج لڑکپن سے ہی عاشقانہ بلکہ غاصبانہ بھی تھا،محلے کے مختلف جھروکوں اور گلیوں کے ساتھ ان کی آشنائی تھی اور ہرآشنا پر ملکیت جتانا وہ اپنا فرض سمجھتے تھے۔محلے کی بہت سی لڑکیوں کی شادی کے بعدحاجی صاحب پہروں اداس پھرتے اور شعر کہنے کی ناکام کوشش کرتے دکھائی دیئے۔ صرف یہی نہیں وہ توایسے مواقع پر گلوکاربننے کی سعی کرتے بھی سنائی دیتے تھے، شمار ان کا نہ شاعروں میں ہوانہ گلوکاروں میں۔
حاجی صاحب اخبار میں ”آشناکے ساتھ“ جیسی خبریں بہت ذوق و شوق سے پڑھتے اور محلے کے کنوارے لڑکوں کوتشریح کے ساتھ چٹخارے لے کر سناتے بھی تھے۔یہی خبریں پڑھتے پڑھتے ان کی عمریا بیت گئی۔ ماں ان کی شادی کی حسرت دل میں لیے اس جہان سے رخصت ہوئی تو انہوں نے اعلان کیا کہ اب میں کبھی شادی نہیں کروں گا۔ جس زمانے میں نورجہاں کی آوازمیں ”عمریا بیتی جائے، کوئی رشتہ نہ آئے“ زبان زدعام تھا اسی زمانے میں حاجی صاحب کی والدہ ان کی شادی کی حسرت دِل میں لیے اس جہان سے رخصت ہوئی تھیں ۔ان کے قریبی دوستوں کادعوی تھا کہ ہدایت میاں نام تو والدہ کالے رہے ہیں لیکن انہوں نے شادی نہ کرنے کی پہلی قسم حاجن کی شادی والے دن کھائی تھی اورحتمی قسم اس روز کھائی جب حکیم کَشتی والے کا انتقال ہواتھا۔حکیم کَشتی والے کی خوبی یہ تھی کہ وہ تمام معجونیں، مربے،پھکیاں اور کُشتے قریبی دریا میں کَشتی میں بیٹھ کر فروخت کرتے تھے اوراسی لیے ان کے مریض محبت میں انہیں حکیم کَشتی والا پکارتے ہوئے کَشتی پر ”پیش“ بھی ڈال کرانہیں حکیم کُشتی والابنا دیتے تھے۔
شادی نہ کرنے کافیصلہ کرنے کے بعد ہدایت میاں نے اپنے نام کے ساتھ ”میاں“لکھنا بھی ختم کردیا ،کہنے لگے کہ اب میں سیاست میں آنے کے بعد ہی میاں کہلاؤں گاورنہ عمربھر میاؤں میاؤں ہی کرتارہوں گا۔ اسی دوران انہوں نے خودکو حاجی کہلوانا شروع کردیا اوراس کے لیے بھی ترکیب یہ لڑائی کہ کچھ عرصہ کے لیے لاپتا ہوگئے اور جب محلے میں یہ مشہور ہوگیا کہ ہدایت میاں کسی چھاپے میں موقع پر پکڑے گئے ہیں تو ایک روز وہ اپنے گلے میں خود ہی ہار ڈال کر گھر سے باہر نکل آئے۔ محلے والوں کوآج بھی یہی یقین ہے کہ ہدایت میاں نے حج نہیں کیاتھا، ان کاخیال ہے کہ یا تو وہ واقعی پولیس کے ہتھے چڑھ گئے تھے یا پھر گھر بیٹھ کر حج کے سفرنامے منہ زبانی یاد کرتے رہے۔
حاجی مشہور ہونے کے بعد ان کی شہرت اورنیک نامی میں واقعی اضافہ ہوگیا، ان کی جو پڑوسنیں اس سے قبل ان کی للچائی ہوئی نظروں کی تاب نہ لاتی تھیں اورانہیں سامنے سے آتا دیکھ کر یک دم روپوش ہوجاتی تھیں یاغصے میں اپنے بچوں کومارنے لگتی تھیں اب وہی پڑوسنیں حاجی کہلائے جانے کے بعد ان پر اعتبار بھی کرنے لگیں۔ مزید اعتبار جمانے کے لیے حاجی صاحب نابینا ہونے اور حافظ بننے کا ڈھونگ رچانے ہی والے تھے کہ ایک روز رنگے ہاتھوں دھر لیے گئے لیکن اس سے پہلے ایک اور واقعہ بھی ہوچکا تھا۔حاجی صاحب کی کچھ نازیبا تصاویراورکچھ معطر خطوط ان کے ایک رقیب نے ایک رات محلے کے تمام گھروں میں پھینک دیئے۔ حاجی صاحب کو کئی روز تک یہ وضاحت دینا پڑی کہ یہ میری تصویریں ہرگز نہیں، محلے والوں نے تو یقین کرلیا لیکن جن کے ساتھ راہ ورسم تھے وہ سب ناراض ہوگئیں۔اسی طرح ایک روز ٹیلی فون آپریٹر نے ان کی سویٹ کال بھی سن لی تھی اور گفتگو کے دوران حاجن نے حاجی ہدایت کو تحائف اور نقد رقم بھیجنے کا جو طریقہ کار بتایاتھا آپریٹر نے عین اسی طریقے پر عمل کرتے ہوئے مقررہ وقت پر کوئی اوربچہ ان کے گھر بھیجا اور وہ تمام تحائف منگوا لیے، بعد کے دنوں میں حاجی صاحب کو کئی روز تک حاجن کے سامنے مزیدقسمیں کھانا پڑیں، حاجن کا اصل نام بھی کسی کو معلوم نہیں تھا لیکن حاجی صاحب کی طرح وہ بلاوجہ حاجن نہیں بنی تھیں۔ حاجن کوجب معلوم ہوا کہ حاجی ہدایت ان پر فریفتہ ہیں تو کچھ محلے والیوں کے کہنے پر انہوں نے حاجی صاحب کو”دھُر“ بنانے کافیصلہ کرلیا،اب گفتگو یہ ہوتی تھی کہ حاجن انہیں کہتی تھیں کہ آپ نام کے حاجی ہیں اگر آپ نے واقعی حج کیا ہے تو مجھے اس کاثبوت فراہم کریں۔ حاجی صاحب کلمے پڑھتے،ازبرسفرنامہ سناتے اور باربارکہتے کہ میں نام کانہیں کام کاحاجی ہوں لیکن حاجن ان کی ایک نہ سنتی۔ اس کہانی کاانجام اس روز ہوا جب کسی نے حاجن کو ایک کیسٹ بھیج دی جس میں حاجی صاحب کسی اور حاجن کے ساتھ گفتگو کررہے تھے۔ یہی وہ دن تھا جب حاجی ہدایت واقعی راہ ہدایت پرآگئے۔لیکن اس وقت تک ان کے محبت نامے سائفر کی طرح پورے محلے میں پھیل چکے تھے۔
( بشکریہ : روزنامہ پاکستان )
فیس بک کمینٹ

