ہم وفادار ہیں اور اس سے زیادہ کیا ہوں
بس ترے یار ہیں اور اس سےز یادہ کیا ہوں
ایک ہی سچ نے ہمیں ایسا کیا سرافراز
بر سرِ دار ہیں اور اس سے زیادہ کیا ہوں
میں اکیلا ہوں مری جان کے دشمن افلاک
ایک دو چار ہیں اور اس سے زیادہ کیا ہوں
نام سنتے مرا آگ بگولا ہو جائیں
مجھ سے بیزار ہیں اور اس سے زیادہ کیا ہوں
عمر بھر بات پر قائم رہے فرتاش کہ ہم
اہلِ کر دار ہیں اور اس سے زیادہ کیا ہوں
( شعری مجموعے حاشیہ سے انتخاب )
فیس بک کمینٹ

