اسلام دین معاشرت اور دین اجتماع ہے فطری بنیادوں پر استوار اس نظام الہی میں انسان ایک دوسرے سے مربوط رشتوں رویوں اور احساسات سے جڑا ایک حسین کردار ہے۔۔جو معاشرے میں رواداری محبت ایثار اور قربانی کے خوبصورت جذبوں کے ساتھ خدا کا نمائندہ قرار پاتا ہے ۔۔معاشرتی اور سماجی رشتوں کے حقوق جس میں ہمسایوں کے حقوق ،راہ چلتے سائلین کے حقوق ،رشتوں کے حقوق معاشرے میں موجود سماجی تعلقات کے حقوق یہاں تک کہ امام زین العابدین نے رسالہ حقوق لکھ کر ایک ہزار حق جو انسان پر معاشرے کی طرف عایئد ہیں تشریح فرمائی ہے۔۔جدید دور کا مادہ پرست لادین اور دنیا پرست نظام انسان کو تنہا کرنے پر آمادہ ہے ۔اس لیے اسے پرائیویسی ،خود ستائی، خود پسندی اور خود غرضی کے راستے دکھا کر ایک ایسے راستے کا مسافر بنا رہا ہے جہاں پر ذہنی دباؤ خود پرستی کی تکلیف دہ تنہائی اس کا مقدر بن چکی ہے ۔
نفسیاتی ماہرین کے مطابق موجودہ دور میں انسان کی ذہنی بیماریاں نفسیاتی دباؤ ڈپریشن اور ٹینشن اسی تنہا طرز زندگی کا نتیجہ ہے ان کے مطابق انسان کا اپنے رشتوں میں میل ملاقات کرنا ایک دوسرے سے بات چیت کرنا اور اپنے اہل علاقہ سے اچھے تعلقات رکھنا انسان کو زندہ اور خوش رکھتا ہے ۔۔اس کی خوبصورت تعبیر دین فطرت کے سماجی نظام میں موجود ہے۔۔اسلام میں ایک دوسرے کو سلام کرنے میں پہل کرنے کی عادت کو بے انتہا سراہا گیا ہے سلام کرنا دلوں میں محبت خلوص اور انس پیدا کرتا ہے اور ایک ایسے رشتے کی بنیاد رکھتا ہے جو رشتہ خالص انسانی بنیادوں پر استوار ہوتا ہے اور اس رشتے کے ثمرات سماجی زندگی میں خوبصورت تبدیلیاں لاتے ہیں اس وقت مادہ پرست دور نہیں اپنی دنیا طلبی میں انسان کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ وہ اپنے فلیٹ میں کئی کئی دن کے بعد لاش کی صورت میں برآ مد ہوتا ہے سلام کرنے والے شخص کی غیر موجودگی پورا علاقہ محسوس کرتا ہے۔۔معاشرے سے جڑا ہوا ہے انسان اصل معنوں میں اپنی بھرپور زندگی جیتا ہے۔اس کے علاوہ ماہرین نفسیات کے نزدیک دینے کا جذبہ فرد معاشرہ کو خوش اور تر و تازہ رکھتا ہے دینے کے ذیل میں صرف مال دنیا لوگوں کے سپرد کر دینا اس صحت مند رویے کی مکمل تشریح نہیں ہے بلکہ لوگوں کو وقت دینا ،لوگوں کو راستہ دینا، لوگوں کو مشورہ دینا، فکری روش دینا، مایوس ذہنوں کو روشن خواب دینااور اپنے ہونے کا احساس دلانا ایک ایسا خوبصورت طرز زندگی ہے جو انسان کو کبھی نفسیاتی دباؤ کا شکار ہونے نہیں دیتا روحانی مسرت انسان کے جسم پر بھی اثر انداز ہوتی ہے اور الہی سنت پر عمل کرتے ہوئے لوگوں میں نعمتیں تقسیم کرنے کا ہنر ، اپنے وجود کی چھاؤں مہیا کرنے تڑپ ،اور خلق خدا سے انس اور محبت کی طمانیت بھری کیفیت دل کو کبھی مضطرب اور پریشان نہیں ہونے دیتی اس کا دماغ تر و تازہ اور اس کا جسم متحرک رہتا ہے ماہرین نفسیات کے نزدیک اپنی زندگی میں موجود نعمتوں پر خوش رہنا انسان کو ذہنی دباؤ اورڈپریشن سے دور رکھتا ہے دین فطرت بھی ہمیں موجود نعمتوں پر شکر گزار ہونے کا درس دیتا ہے۔
لاکھوں نعمتیں جو انسان کے پاس موجود ہوتی ہیں انسان انہیں نظر انداز کر کے دوسروں کی زندگی دیکھ کر حسد سے ہاتھ ملتا ہے تو اس کی زندگی میں ناشکری مایوسی اور اداسی جنم لیتی ہے خدا کا وعدہ ہے کہ جب تم اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو پا کر اس پر شکر گزاری کا اظہار کرو گے تو خدا ان نعمتوں کا لطف بڑھاتا چلا جائے گا اس کے علاوہ زمانہ موجود کی سب سے بڑی الجھن اور پریشانی یعنی ڈپریشن اور انزائٹی سے بچنے کا ایک اور بڑا ذریعہ نالج ہے انسان ہمیشہ سے تبدیلی کا مزہ اٹھاتا ہے اور یہی تبدیلی اس کی زندگی میں روز نئے شمس و قمر کے ساتھ طلوع ہوتی دکھائی دیتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ روحانی طور پر اور دنیاوی علوم کے نئے نئے افق تلاش کیے جائیں مطالعہ کیجئے غور و فکر کیجئے تاکہ ہر دن دوسرے دن سے مختلف ہو روحانی طور پر اگر اپ عرفانی امور کی طرف قدم بڑھائیں گے تو ہر صبح نئے لطف کے ساتھ طلوع ہوگی اور خدا اپ کو شر ح صدر جیسی نعمت عطا کرے گا ۔وادی عرفان کے مسافر صاحبان فکر زندگی کے جس حسین لطف سے دوچار ہوتے ہیں اس کا احاطہ الفاظ میں نہیں کیا جا سکتا حضرت یوسف ع کو خدا کی طرف سے حکم ہوا کہ زلیخا سے ملاقات کیجئے! جب حضرت یوسف حضرت زلیخا کے پاس پہنچے تو معلوم ہوا کہ زلیخا روحانی وادیوں میں اس عشق کو پا چکی ہے جسے عشق الہی کہتے ہیں زلیخا نے حضرت یوسف سے کہا اے یوسف اب آپ کی ضرورت نہیں ہے میرے لیے عشق کا ایسا دروازہ کھل چکا ہے جس سے زیادہ فرحت بخش احساس پوری کائنات میں کہیں نہیں ہے اسی طرح اگر دنیاوی علوم میں روز معلومات کے نئے در کھولے جائیں تو انسان کی زندگی یکسانیت اکتاہٹ اور بے چینی سے آزاد ہو جاتی ہے خود مولا علی فرماتے ہیں کہ تمہارا وہ دن جس میں تم نے کوئی نئی بات نہیں جانی وہ دن تمہاری زندگی کا ناکام ترین دن تھا۔
آقا ص کا بھی فرمان مبارک ہے کہ مہد سے لحد تک مسلسل علم حاصل کرو سو علم کی نئی نئی دنیاؤں کو ملاحظہ کیجئے اور خدا کے اس عالم حیرانی میں آگے بڑھتے جائیے جستجو اور تلاش کا سفر آپ کو کبھی تھکنے نہیں دے گا نہ اپ کے اعصاب جواب دیں گے اور نہ جستجو کی تڑپ مدہم پڑے گی ڈپریشن اور ٹینشن کا ایک اور بڑا علاج جسمانی ایکسرسائز ہے نفسیاتی علوم کے ماہرین کہتے ہیں کہ ایکسرسائز کرنے سے ذہن کا والیوم بڑھتا ہے بادام کھانے کی بجائے ایکسرسائز کرنا دماغ کو آمادہ تیار اور زیادہ متحرک کرتا ہے۔۔دین مبین کے اخلاقی اور تربیتی سلسلوں میں صبح کی سیر اور ورزش کی بہت تاکید ہے یہ چند معروضات تھے کہ جن پر عمل کر کےآپ اپنے ذہن اور جسم کو بہترین زندگی دے سکتے ہیں۔۔وہ بھرپور زندگی جو خدا اپ کو عطا کرنا چاہتا ہے۔۔ مادہ پرست دور جو صرف اور صرف کار دنیا اور مال دنیا سمیٹنے کے چکر میں انسان کو تنہائی کے زندانوں میں قید کرتا چلا جا رہا ہے اس دھوکے اور سراب سے نکل کر دین فطرت کے روشن سویروں میں سانس لیجئے لمبے سانس لیجئے اور زبان پر اس رب کریم کا شکر رواں کیجیے کہ جس نے آپ کو زندگی جیسی عظیم الشان نعمت عطا کی خدا ہم سب کو دین مبین کے فطری اصولوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
فیس بک کمینٹ

