کالملکھاریوجاہت مسعود

وجاہت مسعود کا کالم : میں فکشن کیوں نہیں لکھتا ؟

کچھ دوست سوال کیا کرتے ہیں کہ میں فکشن کیوں نہیں لکھتا۔ جب یہ سوال متعدد بار دہرایا گیا تو ردعمل میں دو خیالات پیدا ہوئے۔ ایک گمان تو یہ گزرا کہ یہ احباب دراصل میری صحافتی تحریروں سے عاجز آ چکے ہیں۔ سیدھے سبھاﺅ یہ کہنے کی بجائے کہ صحافت کی جان چھوڑو، سلیقے سے ایک دوسرا راستہ دکھاتے ہیں۔ ایک خیال یہ گزرا کہ شاید میری تحریر میں واقعی کوئی ایسا اشارہ موجود ہو جس سے اہل علم کو فکشن کا امکان نظر آیا ہو۔ دوست کی بات میں منفی کی بجائے مثبت معنی نکالنا اچھا ہوتا ہے۔ میں اب ان پیارے لوگوں کو کیسے بتاﺅں کہ پچھلے چالیس برس سے کہانی لکھنے کی خواہش دل میں لئے پھرتا ہوں۔ یہ آرزو اب تیزی سے بوڑھی ہوتی اس عورت کے خواب نیم روز کی طرح مرجھانے لگی ہے جس کے ہونٹوں نے کبھی ایسا آتشیں لمس نہیں چکھا جس کی سنسنی ناخنوں سے سفر کرتی وجود کے مرکزے میں ایسا ارتعاش پیدا کرتی کہ سانسوں کی آنچ میں اوس کے قطروں ایسی ٹھنڈک اترتی محسوس ہوتی۔ نم آلود انگلیوں کے نشانات والے پیالے کے سنسان خلا میں تخلیق کا جلترنگ سنائی دیتا۔ وجود کی مشت خاک اپنے ہم سفر کی نیم وا آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دو قدم پیچھے ہٹ کر لمحے بھر کو ایک ایسے منجدھار میں اتر جاتی جس کے توڑے رقص کے کسی نصاب میں نہیں لکھے۔
یہ دو گمان تو محض پس منظر واضح کرنے کو بیان کر دیے۔ آئیے اب کچھ سچ بولتے ہیں۔ فکشن ہماری پھیلی ہوئی زمیں پر کسی گمنام، قطعی غیر اہم اور بے نشان فرد کا اپنے زمانے، انسانی رشتوں، دکھ اور خوشی، خواہش اور وسیلے، شعور اور لاعلمی نیز ذہن انسانی کے امکان پر طاقت کے ظلم کو دستاویز کرتا ہے۔ یہ وہ بھاری ذمہ داری ہے جسے پہاڑ نہیں اٹھا سکتے، پہاڑ جیسے حوصلے والے کچھ انسان اٹھا لیا کرتے ہیں۔ ’کہاں ہر ایک سے بار نشاط اٹھتا ہے‘۔ فکشن کاغذ پر قلم سے لکیریں کھینچنے کا عمل نہیں۔ تاریخ، فلسفے، روایت، مشاہدے، ذاتی واردات اور اجتماعی تجربے کو کہانی کے تاروپود میں بن دینے کی جانکاہ مشقت ہے۔ فکشن میں پیچیدہ واقعات کے شعوری انتخاب کو ترتیب دے کر ایک واضح بیان دیا جاتا ہے لیکن فیصلے، تلقین یا نظریے کی آلودگی کی اجازت نہیں۔ فکشن عدالت کا فیصلہ نہیں، واعظ کا منبر نہیں اور جلسہ گاہ کا خروش نہیں۔ اماوس کی رات میں اڑتے جگنو کی جھلک ہے یا گہرے بادلوں کے بیچ سے لپکتا کوندا۔ یہاں راستہ خود نکالنا ہے اور منزل کی اطلاع بھی ممکن نہیں کہ دشت امکان میں ایک نقش پا کو تجسیم کرنا ہے۔ فکشن خبر کے واقعے اور بے خبری کے احساس کا مضمون ہے۔ زبان پر گرفت اور لفظیات پر دسترس کافی نہیں، کردار کی صورت حال سے ہمدردی اور تضاد کی پیچیدگی سے دست و گریبان ہونا ہے۔ اس کے لئے ایک ماں کا دل اور باپ کی آنکھ چاہیے۔
اگلے روز برادر سہیل وڑائچ نے کراچی کی ایک مجلس میں کہا کہ آج کے پاکستان میں کالم ہی افسانہ ہے، یہی آج کی غزل ہے اور یہی آج کا تخلیقی اظہار۔ سننے والے نے اتفاق کیا مگر حقیقی فکشن کی ضرورت سے انکار کا حوصلہ نہیں ہوا۔ برادر عزیز کا زاویہ کچھ مختلف پس منظر لئے تھا اور درست تھا۔ سامع کی خواہش تھی کہ ہماری دھرتی پر وہ وقت آئے جب اخبار کی خبر میں واقعیت کی کھنک ہو اور فکشن کی سطر میں شعور کا فروغ ہو۔ اخبار واقعے کے بیان کا دعویٰ کرتا ہے اور اگر واقعے کے بیان کی اجازت محدود ہو جائے تو اخبار کا منصب دھندلا جاتا ہے۔ فکشن کا آغاز ہی اس اعلان سے ہوتا ہے کہ کردار اور واقعات غیر حقیقی ہیں البتہ انسانی صورت حال کا کیف و کم، لمحہ موجود کا تضاد، تاریخ کا جبر اور فنا و بقا کے دو نشانات میں سفر کرتے فرد کا تجربہ بیان کرنے میں ہر ممکن انصاف کی کوشش کی گئی ہے۔ اخبار اور فکشن کی حد فاصل کا دھندلا جانا ایک قومی المیہ ہے۔
گزشتہ چند روز میں ہمارے ہاں چند اہم واقعات ہوئے۔ ڈینیئل پرل کے مقدمے میں سپریم کورٹ نے احمد سعید عمر شیخ کی رہائی کا حکم دیا جس پر نئی امریکی انتظامیہ نے اپنا ردعمل دیا۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹنٹ جنرل (ر) اسد درانی کے بیرون ملک سفر پر پابندی کی درخواست کی گئی۔ عمران خان نے جمہوری حکومت کی پانچ سالہ میعاد کو ایک المیہ قرار دیا۔ مولانا فضل الرحمان نے فرمایا کہ پی ڈی ایم اسٹیبلشمنٹ کی مخالف نہیں، عمران حکومت کا خاتمہ چاہتی ہے۔ ان خبروں کا پس منظر اور پیش منظر آپ خوب سمجھتے ہیں۔ مقطع عرض کیے دیتا ہوں۔ عمر شیخ کا معاملہ دہشت گردی کے بارے میں ہمارے روایتی ریاستی موقف پر دور رس سوال اٹھاتا ہے۔ ذمہ دار ترین عہدوں پر فائز رہنے والے اسد درانی ایک غیر شفاف ریاستی بندوبست کے نتائج کا کلاسیکی نمونہ ہیں۔ عمران خان کا بیان جمہوریت کا المیہ نہیں، موجودہ وزیراعظم کی سیاسی فہم کا نوحہ ہے۔ مولانا صاحب کا موقف ہماری سیاسی قوتوں میں ریڑھ کی ہڈی کے قدیمی سرطان کا بیان ہے۔ رواں مہینے ایف ٹیف کی ٹیم پاکستان آ رہی ہے۔ اگلے ماہ ایوان بالا کا نصف مدتی انتخاب ہونا ہے۔ افغان امن مذاکرات پر خدشات کے بدلیاں نمودار ہو رہی ہیں۔ شیخ عظمت سعید ہمارے احتسابی عمل کے نئے نورتن مقرر ہوئے ہیں۔ کرپٹ سیاست دانوں (حزب مخالف) کی املاک پر بلڈوزر چڑھ دوڑے ہیں اور پرویز خٹک نے مانکی شریف میں اپنے بیان کی وضاحت پیش کر دی ہے۔
ظالمو، یہ فکشن کا محل نہیں، حادثات کا دھڑکا ہے، بشارت کی گھڑی ہے۔ اخبار میں داستان عمرو عیار پڑھا کرو اور دہلی کے ہم عصر شاعر اقبال اشہر کے دو اشعار پر داد دو:
ستم تو یہ کہ ہماری صفوں میں شامل ہیں
چراغ بجھتے ہی خیمہ بدلنے والے لوگ

ہمارے دور کا فرعون ڈوبتا ہی نہیں
کہاں چلے گئے پانی پہ چلنے والے لوگ

( بشکریہ : ہم سب ۔۔لاہور )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker