دوہا : اتوار کو ورلڈ کپ 2022 کے آغاز پر میزبان ملک قطر اور ایکواڈور کے درمیان ہونے والے پہلے میچ میں ایکواڈور نے قطر کو صفر کے مقابلے میں دو گولوں سے شکست دیدی ہے۔اس طرح اب تک ہونے والے فٹبال کے عالمی مقابلے میں قطر وہ پہلا ملک بن گیا ہے جو میزبان ہو کر بھی اپنا پہلا میچ ہار گیا ہے۔ایکواڈور کے اینر ویلنشیا نے میچ کے پہلے ہی ہاف میں دو گول کر کے اپنی فتح کو یقینی بنا لیا تھا۔
اس سے قبل 12 سال تک سوالات، تنقید اور افواہوں کا سامنا کرنے کے بعد قطر میں فٹ بال ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کا آغاز اتوار کی شام ہوا۔
پہلی بار ایک اسلامی ملک میں منعقد ہونے والا یہ ٹورنامنٹ ابتدا سے ہی تنازعات میں گھرا رہا تاہم فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی 32 ٹیموں کو فٹ بال پر توجہ مرکوز رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
افتتاحی تقریب کے بعد ٹورنامنٹ کا آغاز میزبان قطر اور ایکواڈور کے درمیان میچ سے ہوا۔اس رپورٹ میں اس ٹورنامنٹ سے جڑے چند تناعازت کا احاطہ کیا گیا ہے اور اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے کہ اس بار فٹ بال کا عالمی چیمپیئن کون بن سکتا ہے۔
قطر میں ہونے والا عالمی ٹورنامنٹ شاید تاریخ میں سب سے متنازع کپ ہو گا جس کے بارے میں انعقاد سے قبل ہی بہت سی باتیں ہوئیں۔
مشرق وسطی کے اس چھوٹے سے ملک نے جنوبی کوریا، جاپان، آسٹریلیا اور امریکہ کے مقابلے میں میزبانی کا حق حاصل کیا تاہم اس پورے عمل کے دوران کرپشن کے کئی الزامات بھی لگے جن کی قطر تردید کرتا ہے۔
فروری 2021 میں برطانوی اخبار گارڈین نے ایک خبر میں کہا کہ فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی ملنے کے بعد سے قطر میں انڈیا، پاکستان، نیپال بنگلہ دیش اور سری لنکا سے تعلق رکھنے والے ساڑھے چھ ہزار مزدور مر چکے ہیں۔
یہ تعداد ان اعداد و شمار کی بنیاد پر دی گئی جو قطر میں موجود ان ممالک کے سفارت خانوں نے فراہم کیے۔
تاہم قطر کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اعدادوشمارگمراہ کن ہیں کیوںکہ ملک میں ہونے والی تمام اموات ان لوگوں کی نہیں جو ورلڈ کپ سے جڑے منصوبوں پر کام کر رہے تھے۔
قطر حکومت کے مطابق 2014 سے 2020 کے درمیان ورلڈ کپ سٹیڈیمز کی تعمیر کے دوران 37 اموات ہوئیں جن میں سے صرف تین کام کی وجہ سے تھیں۔
دوسری جانب انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ قطر حکومت کے اعداد و شمار درست نہیں۔
ملک میں اسلامی قوانین کے اطلاق کی وجہ سے بھی خدشات موجود رہے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ہم جنس پرست شائقین کے ساتھ قطر میں کیسا برتاؤ کیا جائے گا۔
دوسری جانب اسی معاملے پر کھلاڑیوں پر بھی دباؤ رہا کہ وہ اپنا اثر ورسوخ استعمال کریں اور اس معاملے پر کھل کر بات کریں۔
انگلینڈ کے کھلاڑی کونور کوڈی نے جمعرات کو دوحہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’ہم سیاستدان نہیں۔‘انھوں نے کہا کہ ’ہم کبھی بھی سیاست دان نہیں ہو سکتے لیکن ہماری ٹیم نے گذشتہ چند برس میں بہت کچھ کیا اور لوگوں کی مدد کی۔‘
فیفا کے سابق صدر، سیپ بلیٹر، جن کے دور میں قطر کو فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کے حقوق دیے گئے، نے گذشتہ ہفتے کہا کہ ’یہ فیصلہ ایک غلطی تھی۔‘
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

