ایس پی او بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع جعفر آباد اور صبحت پور میں متاثرین کی بحالی خصوصاً خواتین اور بچوں کے تحفظ کے پروگرام شروع کرنے جارہا ہے!!
اس حوالے سے آج صحبت پور اور جعفر آباد جانے کا اتفاق ہوا متاثرین کی حالت زار ناقابل بیان ہے ہزاروں لوگ سڑک کے کنارے اپنے مال مویشی اور بچوں کے ساتھ خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں جنکی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں گھر گر گئے ہیں کھیتوں میں کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے جبکہ سڑک کے دونوں جانب کئی بھی پانی نے انہیں گھیرا ہوا ہے جس کے اندر بدبو پیدا ہوچکی ہے!!
خیموں میں سب سے بڑی تعداد بچوں کی ہے جو اس وقت مختلف بیماریوں کا شکار ہیں خصوصاً ملیریا نے وبائی شکل اختیار کرلی ہے جلدی امراض اور ڈائریا بھی عام ہے پانی درمیان رہنے والوں کا بڑا مسئلہ پینے کی تلاش ہے!!!
صحت جہاں بچوں کا مسئلہ ہے وہیں خواتین کو صحت کے بے شمار مسائل کا سامنا ہے خواتین کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جنہیں زچگی کے حوالے سے خصوصی نگہداشت کی ضرورت ہے جس کا کوئی انتظام نہیں ہے!!
مستقبل قریب میں پانی کے نکلنے کا کوئی امکان نظر آتا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی منظم کوشش نظر آرہی ہے ایک ماہ کے بعد سردی شروع ہوجائے گی اور مسائل اور سنگین ہوسکتے ہیں!!
کچھ سماجی اداروں، انٹرنیشنل اداروں، حکومت کی جانب سے کیمپ سٹی قائم کئے گئے لیکن یہ سب کوششیں انتہائی محدود ہیں!!
اس صورت حال میں پوری قوم کو اپنے مجبور بھائی بہنوں کی مدد کے ایک منظم مہم کی ضرورت ہے!!
جس پہلا قدم ان علاقوں سے پانی کا نکاس اور صحت کی سہولیات کو وسیع کرنا اور ساتھ ساتھ بچ جانے والے مویشیوں کے لئے چارے کا انتظام بھی ضروری ہے!!
فیس بک کمینٹ

