ملتان: (محمد عبداللہ سے) گیلانی خاندان میں دربار موسی پاک شہید کی سجادہ نشینی پر تناؤ کی فضاء برقرار ، معاملہ تھانہ وعدالت جانے کے بعد باہمی فاصلے مزید بڑھنے کے امکانات زیادہ ہوگئے تاہم اکابرین گیلانی خاندان نے بھی صورتحال کو قابو میں لانے کی کوششیں شروع کردیں بعض لوگ مخالفانہ حمایت میں گروپوں کی حمایت اور مخالفت کھل کررہے بعض نے برف پگھلانے اور معاملے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے کردار ادا کرنے کی ٹھان لی تاہم تناؤ کی فضا برقرار اور گیلانی خاندان کی دو حصوں میں تقسیم پہلی بار اس قدر کھل کر سامنے آئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق گیلانی خاندان میں دربار حضرت موسیٰ پاک شہید کی سجادہ نشینی کے حوالے سے معاملات انتہاء درجے کو پہنچ گئے ۔ بعض ذرائع کے مطابق معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن کو جاپہنچے ہیں جبکہ بعض گیلانی خاندان کے ذرائع کے مطابق حالات میں بہتری معاملات ٹھنڈے ہونے کی امید بھی پیدا ہوگئی تاہم واضح عملی پیشرفت سامنے نہیں آئی۔ گیلانی خاندان میں دربار موسی پاک شہید کی سجادہ نشینی پر اس طرح کی صورتحال دوسری بار پیش آئی ہے پہلے ایک بار ماضی میں بھی ایسا ہوا 1982 میں مخدوم وجاہت گیلانی مخدوم تجمل گیلانی کے مابین بھی ایسی صورتحال پیدا ہوئی تھی تب ووٹنگ کرائی گئی تھی جس میں ایک ووٹ کی جیت سے مخدوم وجاہت گیلانی سجادہ نشین بنے جس پر مخدوم تجمل گیلانی نے کچھ عرصہ خاموشی کے بعد اپنی سجادہ نشینی کا اعلان کیا مگر اس وقت دونوں میں احترام کا رشتہ برقرار رہا ۔ مخدوم تجمل گیلانی نے ساری زندگی بڑے بھائی کا احترام کیا اور مریدین سے وابستہ رہنے کے ساتھ ساتھ سماجی فلاحی امور میں پیش پیش رہے اور مریدین کو فوکس رکھا جبکہ وجاہت گیلانی سجادہ نشینی کے ساتھ سیاست میں بھی سید یوسف رضا گیلانی کے ساتھ سیاسی طور متحرک رہے جبکہ سادات گیلانی کا مخدوم خود الیکشن نہیں لڑتا۔رضا شاہ گیلانی اور مصطفی گیلانی الیکشن لڑتے تھے اسلیئے سجادہ نشین نہیں بنتے تھے۔ اب ایک بار پھر اختلاف کی صورتحال ہے مگر کشیدگی اور تناؤ کی فضا ہے معاملات تھانے اور عدالت میں جانے کے بعد حالات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک چلے گئے مگر اب کچھ سرکردہ شخصیات نے صلح کے لئے بھی کمر کس لی ہے۔
تاہم معاملہ پولیس تھانہ تک سید ابوالحسن گیلانی کی تھانہ پاک گیٹ کو دی گئی درخواست کی صورت میں پہنچا۔ ولایت مصطفی گیلانی اور ابوالحسن گیلانی اس وقت متحرک ہیں جبکہ ولایت مصطفی گیلانی نے والد کی وفات کے بعد سجادہ نشینی کا منصب سنبھالا ہے تو دربار کے معاملات دیکھنے کے ساتھ ساتھ وہ سماجی سیاسی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی بات کا مخدوم ابوالحسن گیلانی کو رنج ہے جبکہ ابوالحسن گیلانی بھی متحرک ہیں وہ خود کو سجادہ نشینی کےلئے حق بجانب سمجھتے ہیں۔ سجادہ نشینی کےلئے ولایت مصطفی کو گولڑہ شریف ودیگر سجادہ نشینوں سمیت خاندان سے تنویر الحسن گیلانی کی اورابوالحسن گیلانی کو یوسف رضا گیلانی کی حمایت حاصل ہے ۔ تاہم ایک کھلے انداز میں خاندان گیلانیہ کی دو حصوں میں تقسیم سامنے آئی ہے۔
فیس بک کمینٹ

