ملتان اور خانیوال سمیت ملک بھر کے 8 قومی اور 3صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے نتائج نے یہ واضح کردیا ہے کہ عوام کا سیاسی شعور اب پہلے جیسا نہیں رہا،ووٹرز نے اس بار مضبوط اور اپنے آپ کو ناقابل شکست سمجھنے والے سیاستدانوں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے جہاں یہ باورکرایا کہ وہ ملک کے اصل سٹیک ہولڈرز ہیں وہاں یہ حقیقت بھی کھل کر عیاں ہوچکی ہے کہ عام انتخابات میں کامیابی کیلئے سیاستدانوں کو اپنا طرز سیاست بدلنا ہوگا وگرنہ بڑے بڑے ناموں اور سیاسی اثرو رسوخ رکھنے والے خاندانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ملتان کے حلقہ این اے 157 کا معرکہ گو کہ گیلانی اور قریشی خاندان کے سیاسی جانشینوں علی موسی گیلانی اور مہر بانو قریشی کے درمیان تھا مگر اصل امتحان سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور وائس چیئر مین و سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا تھا کیونکہ دونوں نے پارٹی پوزیشن کے ساتھ اپنی سیاسی ساکھ کو بھی برقرار رکھنا تھا جس میں سید یوسف رضا گیلانی کامیاب اور شاہ محمود قریشی کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔اس ناکامی کے ذمہ دار کسی حد تک وہ خود بھی ہیں کیونکہ گزشتہ پونے چار سالہ دور اقتدار اور اس پہلے انہوں نے حلقہ کے عوام کو درپیش مسائل حل کرنا تو دور کی بات ووٹرز سے میل و جول کو بھی ضرورت کے مطابق رکھا ہوا تھا اور رہی سہی کسر بیٹی کو امیدوار نامزد کرکے پوری کی گئی جس پر حلقہ کے عوام نے بھرپور غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے ان کے مخالف امیدوار علی موسیٰ گیلانی کو لگ بھگ 20 ہزار کی لیڈ سے حلقہ کا ایم این اے منتخب کیا اور یوں جو سیٹ پہلے قریشی خاندان کے پاس تھی وہ اب باب القریش سے گیلانی ہاؤس کے مکین کے پاس آگئی ہے۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ علی موسیٰ گیلانی حلقہ کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے کیا اقدامات اٹھاتے ہیں اگر وہ اپنی جیت کے تسلسل کو متوقع عام انتخابات میں برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو پھر انہیں حلقہ کی محرومیوں اور پسماندگی کے خاتمے کیلئے بلا تفریق آگے بڑھنا وگرنہ جس طرح مہر بانو قریشی کو حلقہ میں بھائی اور باپ کی عدم دلچسپی کا خمیازہ ہار کی صورت میں بھگتنا پڑا یہ ان کا بھی مقدر بن سکتی ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کی جیت میں پی ڈی ایم اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں خاص طور پر ن لیگ کے رہنماوں کا کردار انتہائی مخلصانہ تھا جس کی وجہ سے علی موسی گیلانی اتنے بڑے مارجن سے کامیاب ہوئے اگر حلقہ کی رانا و ڈوگر برادری سمیت دیگر برادریاں سلمان نعیم کی طرح برائے نام گیلانی خاندان کے ساتھ کھڑی ہوتیں تو شاید یہ سیٹ بھی تحریک انصاف لے جاتی ادھر شکست کے باوجود قریشی خاندان میں مہر بانو قریشی کی شکل میں ایک اور سیاستدان کا اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ پہلے پہل جو سیاست باپ بیٹے تک محدود تھی وہ اب بیٹی میں بھی منتقل ہوگئی ہے مگرفی الحال مہر بانو کے سیاسی مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ ملتان کے کس حلقہ کی امیدوار ہوں گی یا پھر کہیں اور سے قسمت آزمائی کریں گی؟
وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ نے صوبہ میں مزید پانچ اضلاع کی منظور دے دی ہے،ان پانچ اضلاع میں جنوبی پنجاب میں بھی دو اضلاع کوٹ ادو اور تونسہ کا اضافہ کیا گیا ہے اور یوں خطہ کے اضلاع کی تعداد 11 سے 13 ہوگئی ہے،نئے بننے والے اضلاع کا اضافی چارج قریبی ضلع کے ڈپٹی کمشنرز کو سونپا گیا ہے اور انہوں نے اپنی ذمہ داریاں بھی سنبھال لی ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کوٹ ادو اور تونسہ کے ضلع بننے کے بعد جہاں مقامی افراد کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گے وہاں پر یہ چہ میگوئیا ں بھی شدت کے ساتھ گردش کررہی ہیں کہ بہت جلد لیہ کو ڈویژن کا درجہ دیتے ہوئے مظفر گڑھ اور کوٹ ادو کو اس میں شامل کردیا جائے گا اور یوں جو تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب کیلئے الگ صوبے کا وعدہ کیا تھا اس سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی جائے گی اگر حقیقی معنوں میں ایسا کچھ پلان کیا گیا ہے تو یہ خطہ کے عوام کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہوگی تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نئے اضلاع کے ساتھ جنوبی پنجاب صوبہ کے خواب کو بھی شرمندہ تعبیر بنائے تاکہ وسیب کی 75 سالہ محرومیوں اور پسما ندگی کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔
ادھر وزیر اعلیٰ پنجاب کو نشتر ہسپتال کی چھت پر لا وارث لاشیں پھینکنے کی انکوائری رپورٹ پیش کی گئی جس پر انہوں نے ایکشن لیتے ہوئے نشتر ہسپتال ملتان کے 3ڈاکٹرز،3ملازمین اور متعلقہ تھانوں کے 2ایس ایچ اوز کو معطل کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کا لاوارث لاشوں کی بے حرمتی کا بروقت نوٹس لینا،کارروائی اور ذمہ داران کو معطل کرنا خوش آئند ہے مگرتاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ لاوارث لاشوں کی تجہیز و تکفین کے حوالے سے اقدامات کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی اور واقعہ رونما نہ ہوسکا۔
فیس بک کمینٹ

