گزشتہ سے پیوستہ
ایک تہذیب کی نشوو نما کے لیے آبیاری جاری ہے۔ابھی ادھر سے فارغ ہوئے نہیں کہ اگلی وادی میں ایک اور میرج ہال تیار ہے۔ سارا فنکشن سمو کے نام پر ہوتا۔مست توکلی ٹھہرے پانیوں جیسے سڑاند دیتے ویلیو سسٹم کا باغی ہے۔وہ محفل سجا کر اپنے انقلابی ایجنڈے کا مرغوب فقرہ ضرور کہتا ہے:” یک بریں سمو را جا جھاڑ، ناتیں ما گوژ دہ نہ وروں ” _(ص206) (پہلے سمو کی رعیت یعنی آس پاس خیموں میں موجود عورتوں کو کھانا کھلادو،وگرنہ ہم نہ کھائیں گئے)
سمو کی رعیت کا حصہ منصفانہ طور پر بانٹنے کے بعد،مست محفل میں موجود لوگوں میں بانٹ دیتا ہے۔
مست لیڈیز فرسٹ کا ایٹی کیٹ جدید دور کی بناوٹ دکھاوٹ کے بغیر دیانت اور خلوص کے ساتھ اپلائی کرتا نظر آتا ہے۔پھر سمو بیلی اپنا اور اپنے دوست کا کھانا وصول کرتا ہے اور محفل سے ذرا دور جاکر بیٹھ جاتا ہے۔اپنے نادیدہ دوست سمو کو کھانا پیش کرتا اور محو گفتگو نظر آتا ہے۔یہاں عورت چوڑیاں چھنکاتی پازیب بجاتی نظر نہیں آتی۔ وہ پارٹنر ہے وہ دوست ہے ، بیلی ہے، وہ ہمدم دمساز ہے،ہم نوالہ ہم پیالہ ہے۔
آج بھی ہمارے دیہاتی اور قصباتی علاقوں میں تقریبات میں پہلے کھانا مردووں کے لیے کھلتا ہے۔آج بھی بچے اور عورتیں دوسرے درجے میں شمار ہوتے ہی۔آج بھی اس عورت کو آئیڈیلائز کیا جاتا ہے جو ننگی پیری،سر پر روٹیوں کا چھابا اور کمر پر مٹکی لسی کی اٹھائے کھیتوں میں جاتی ہے۔شوہر (مالک) کھانا کھاتا ہے وہ نزدیک بیٹھ کر پنکھیاں جھلتی ہے۔آج بھی اشتہاروں میں عورتیں کھانا سرو کرتی ہیں۔مرد برانڈڈ مصالحوں کی تعریف کرتے ہوئے تناول فرماتے ہیں۔ آج بھی کام سے واپسی پر مرد صوفے پر نیم دراز استراحت کرتا ہے عورت کام کی واپسی پر سیدھا کچن میں جا بسرام کرتی ہے۔ ہمارے ہاں تو عورت ایک استعمال کی چیز سے بڑھ کر کچھ نہیں۔اس کی مامتا کو ڈالڈا کا ہم پلہ قرار دے کر جذباتی بلیک میلنگ سے اُسے قربانی کی بکری بنا دیا جاتا ہے۔ اور اگر بد قسمتی سے عورت کا شمار استحصال زدہ طبقے میں ہے تو اس کو دوہرے تہرے استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ہمارے سماج میں آج بھی بے نظیروں کو دیکھ کر افسران اپنی ٹوپیاں بغل میں دبا لیتے ہیں کہ کہیں احترام کے اظہاریے میں سیلوٹ نہ کرنا پڑ جائے۔ شاید کبھی ایسوں پر مست کے اس ایک مصرعے کی مار پڑے: ہے تئی دست بھراثاں،تہ سمو سری پرینتہ
(ارے تیرا ہاتھ ٹوٹ جائے،تو نے سمو کی چادر گرادی)
سماج میں سر کی چادر عورت کے احترام کی علامت ہے۔سر سے چادر اور دستار کا گر جانا بدشگونی اور تضحیک کی علامت ہے۔
مست عورت کی عزت اور احترام پر کہیں بھی کمپرومائز کرتا نظر نہیں آتا۔چاہے احترام کی کمی انجانے میں سرزد ہو۔
دوستہ پڑدایئے مں فکرداراں
(دوست کے وقار کی فکر میں رہتا ہوں)
مست سمو کے ہاں مہمان ٹھہرتا ہے۔ سمو مہمان سے ملنے آتی ہے۔ ساتھ سمو کا بیٹا بھی ہے۔ سمو مست سے ہاتھ ملاتی ہے۔ مست اور سمو کی مہر کتھا میں کہیں بھی لک چھپ جانا نظر نہیں آتا ہے۔اگر نظر آتا ہے تو سر اٹھا کر جینا نظر آتا ہے۔سمو حال احوال کرنے کے بعد جانے کی اجازت مانگتی ہے۔مست نے کہا” ہا موکلیں ترا۔ اب چلی جاؤ ” ماں کے دوپٹے کا پلو پکڑے بیٹا بھی ساتھ تھا۔رفتار کی تفاوت کے سبب سر کی چادر کھچ گئی مست بے اختیار پکار اٹھتا ہے:” ہے تئی دست بھرا، تہ سمو سری پرینتہ”۔
مست کسی تعلق، کسی رشتے کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ عورت کی تکریم میں کمی کریں۔ ڈھور ڈنگروں سا رویہ رکھنا ایک انسان کے ساتھ انسانیت کی توہین ہے۔مست ساری زندگی ان سارے کوڑھ زدہ ریت رواجوں کو دامے درمے سخنے قدمے سماج کے بدن سے کاٹ کر الگ کرنے کی سعی میں رہا۔
دوست منی بیواکاں کثہ وانڈھو گوں بزاں
پاذ شفاذیا کوہ بن و کوڑان و گراں
ترجمہ: غلامانہ ذہنیت رکھنے والوں نے میری محبوبہ کو بکریوں کے ساتھ گھر سے بہت دور کاشر (چراگاہ) روانہ کیا ہے
وہ ننگے پیر ہے اور چٹانوں،پہاڑوں اور میدانوں میں چلنے پہ مجبور”۔
مست تو سمو کے لیے دلکشا خواب دیکھتا رہا:
سمو مں دوشی دیثہ گوں وھاو و شاذہاں
سیر سالو کی کرہ کنت بے دوشی گذاں
بریخہ کاں چماں گوں ہزار لونیں سیر مغاں
(میں نے رات سمو کو خواب میں دیکھا
وہ بہت خوش شاداں تھی
دلین بنی ہوئی تھی اور اس نے بہت اچھے کپڑے پہن رکھے تھے اس کی آنکھیں بہترین کاجل سے چمکتی تھی)۔
سمو محض ایک عورت نہیں ہے۔سمو بلوچ عورت کا استعارہ ہے اس بات کو مزید وسیع کیا جائے تو سمو عورت کا استعارہ ہے۔اس بات کو ذرا اور وسعت دی جائے تو سمو انسان کا استعارہ ہے۔ایک پسے ہوئے سماج میں مجبور مہجور، انسان کا،جس کا تعین بطور دوسرے درجے کا انسان طے کر دیا گیا ہے۔ موجودہ دور میں عام عورت،تعلیم یافتہ عورت،مڈل کلاس ورکنگ وومن یا دیہاڑی دار کھیت مزدور عورت یا پھر گھروں میں اجرت پرکام کرنے والیاں، اپنے بچوں کی پرورش اور تعلیم کی معاشی ذمہ داری بھی برابر اٹھا رہی ہیں۔ خیال آتا ہے کہ کیا وہ معاشرتی رویے جو دو سو برس قبل کی عورت سے روا رکھے گئے آج کی عورت کے لیے مختلف ہیں؟
” سمو کو دو سو برس گزر گئے مگر اب بھی اس کی رعیت کابڑا حصہ مال مویشی چراتی ہے۔انھیں پینے کا صاف پانی گھر میں نصیب نہیں ہے۔ وہ اب بھی دوراز فاصلوں سے گندہ اور کیڑوں اور جراثیم آلود پانی مشکیزوں گھڑو ں اوربالٹیوں میں سر پر رکھ کر ڈھو کر لاتی ہیں۔آج بھی “سمو کی قوم” کی اکثریت پاپوش سے محروم ہے اور ننگے پیر بھیڑ بکریوں کے پیچھے ٹھوکریں کھاتی رہتی ہے۔سیاہی سیاہ کاری،لب و فروخت غیرت و پابندی کی اسیر،سموکی یہ رعایا کسی ایسے نجات دہندہ مست کی منتظر ہے جو اپنی بڑی اور منظم عوامی مدد سے مساوات اور عدل پہ مبنی معاشرہ قائم کرے”۔
اب تو سماج نے عام عورت کے سر پر رکھی گٹھڑی مزید بھاری کر دی ہے۔آج کی عورت کماڈٹی بھی ہے اور پراڈکٹ بھی۔
جانے کب سمو آ ہنی دروازے والے قید خانے سے رہا ہوگی!
مست کی شاعری میں کہیں بھی سمو پر مالکیت جمانے کی کوشش یا اسے ملکیت رکھنے کی چاہ نہیں ہے ۔بس اپنائیت اور اپناپن۔
عرض مئیں گوں شوا بدروی بے ہوشیں جڑاں
ساکنیں سیماں گواریں سموئے بوذناں
کندغیں سمو گوں وثی جیڈی امسراں
کیزاں تئی لوڈاں گنداں گوں جیڈی امسراں
(بدرہ کے مست بادلو،تم سے درخواست کرتا ہوں
سایہ کر دو اُس کے علاقے کو، برسو سمو کے چراگاہوں پر
ہنس رہی ہے سمو اپنی سہیلیوں سنگیوں کے ساتھ
کاش میں تمیں تمہاری سہیلیوں کے بیچ حسین چال چلتے دیکھ سکوں)
یہ ایک مختلف بات ہے کہ عورت کو اس کے جسمانی زاویوں کی کشش سے بالاتر ہو کر بھی محسوس کیا جائے۔
_۔” بہار خان نے پوچھا: تؤکلی کیا ہوگیا تھا؟۔۔۔۔۔سمو سمو پکارتے تھے۔سمو آئی تو بے ہوش ہو گئے۔وہ بیٹھ بیٹھ کر بالآخر چلی گئی” کہا: ‘ بہار خان! عشق گدھا گدھی والی جنسی بات نہیں ہے۔دوست تھی،آنکھیں ملیں ملاقات ہوگئی۔اس نے مجھے دیکھا میں نے اُسے دیکھا بس ہو گیا وصل’”۔(ص235)
۔ توکلی مست اپنی محبوبہ کو چوری چھپے ملنے واسطے انگیخت نہیں کرتا، نہ جلتی تپتی دوپہر میں اُسے ننگے پیروں چھت پر بلاتا ہے۔ بلکہ وہ تو اس کی ننگے پیروں کے لیے جتڑی کی تمنا رکھتا ہے اس کے لیے آزادی خوشحالی شادمانی کا طالب ہے:
بتکہ ژہ سمو آسنیں واڑا
(رہا ہوگئی سمو آ ہنی دروازے والے قید خانے سے)
مست اپنی دوست کو جان توڑ مشقت جھیلتے،سہتے ہوئے دیکھ کر رنجیدہ ہوتا ہے۔محنت ایک اعلی انسانی صفت ہے۔گڑبڑ وہاں ہوتی ہے جہاں اس محنت کا استحصال شروع ہوتا ہے۔ اندوہناکی واں ہوتی ہے کہ جب اس محنت کا صلہ نہیں ملتا۔
دوست منی پالوشاں شتہ سندھا
دیم پہ دیریں الکہاں داثئی
پیاذغی دوست گوں امسراں ٹلی
بول تفسی ماں شیفغیں پونزا
ملغی ڈیلا جنت لوارگرمیں
ترجمہ: میری دوست جھلسا دینے والی سندھ گئی ہے
اس نے دور دراز علاقوں کا سفر کیا
پیدل گھسٹتی ہے میری محبوبہ اپنی ہم عمروں کے ساتھ
بول نامی ناک کا زیور اس کی ستواں ناک میں تپ جاتا ہے
اس کے نازک بدن کو گرم لو مار دیتی ہے
سمو کے لیے مست ایک عمدہ خوشحال زندگی تصور کرتا ہے۔
مست بلوچ سماج میں عورتوں کے حقوق کا اولین مرد چپمپئن تھا“۔
کاہان کا مری عورت کے ساتھ دکھ سکھ کی سانجھ کرتا نظر آتا ہے۔۔
” تؤکلی مست سمو کے حوالے سے عورت کی پوری زندگانی،اس زندگانی کے حالات اور شرائط کو یک دم بدل کر انسانی بنانا چاہتا تھا۔اس کی ساری بنیادی ضرورتیں پوری کرنے والا ایک نظام قائم کرنا چاہتا تھا۔وہ اپنی دوست کے لیے عمدہ زندگی کی چاہت رکھتا ہے:
قادرئے کنڈھی شلوخیں
سملئے بیلی گنوخیں
قادر کی کنڈھی(گھوڑی) سبک رفتار ہے
سمو کا بیلی دیوانہ ہے
سمو مست کے پیار میں مدہوش ہے
سمو کے گلے میں بڑگڑی (زیور) ہے
سمو کے ناک میں پلڑی (زیور)ہے
سمو کے سر پر چنری ہے
سمو کے پیروں میں جتڑی ہے
سملئے دوست مریوں کے ساتھ ہے
سملئے کا گھر گھروں کے ساتھ ہے
سمو! چلتی ہو تو ساتھ لے چلوں
تمیں لڑکوں کی سی بالیاں پہنادوں
سمو حج کرنے جاتی ہے
سنگتی مست کو لیے
قدیم بلوچ سماج (شاید اب بھی) اپنے دل مراد چہیتوں بیٹوں کے کانوں میں سونے کی بالیاں پہناتا ہے۔ اسے بیٹیوں پر اولیت دیتا تھا۔سمو بیلی ان اشعار میں سمو کے لیے صنفی امتیاز سے قطع نظر پہلے درجے کا متمنی ہے۔اس کے لیے ہر طرح کا سکھ امن سکون آسائش تصور کرتا ہے۔پیار کو خیرات نہیں حق سمجھتا ہے۔ مست کی تمناؤں میں سمو با اختیار رہتل بسر کرتی نظر آتی ہے۔
“‘حیف ہے تم پہ سست پروئی قبیلے والو
تمہاری سٹی گم ہے اور تمہاری ساری امارت حرام ہے
سمو خشک گھاس کاٹنے،راستے سے گزرتی ہے
میری محبوبہ دشوار گزار بلند چٹانوں پہ چڑھتی ہے
درد کی موجیں میرے جسم میں سانپ کی طرح بل کھاتی ہیں۔’”
مست کو ہجر کا دکھ ہی لاحق نہیں وہ تو سمو کی لاحاصل مشقت بھری زندگی پر بھی برابر آرزدہ ہے۔وہ سمو کے لیے ایک اچھی زندگی کی تمنا کرتا ہے۔ جس سیٹ اپ میں سمو موجود ہے اس سارے سیٹ اپ کی بہبودی کا خواہاں ہے۔سمو قریب رگ جاں دوست ہے۔اس لیے دوری بے معنی ہے کہ دوری تو ہے ہی نہیں۔
‘اپنے نازک ہونٹوں سے جام نوش کرتی ہے
ایک پیالہ خدا کے واسطے
ایک پیالہ مجھ دیوانے کے نام پی
تاکہ وہ جام میرے پیاسے دل تک پہنچے’
شاہ محمد لکھتا ہے:” مست تو اپنی سمو کو یہ سب کچھ نہ دے سکا۔ہماری نسل بھی وہ سماج قائم نہ کرسکی جہاں آج کی سموئیں اپنے عہد کی ساری نعمتوں سے بہرہ ور ہوسکیں ”
” سمو کی زندگی کی کھٹنائی کو محسوس کرنا، اس کی مشقت کا وزن و ناپ بیان کرنا،اور ان پر کڑھنا ہی تو افضل انسانیت تھی۔ بلاشبہ جب بھی بلوچستان میں عورتوں کی نجات کی تنظیم قائم ہوگی تو مست ِمقدس کا نام سرخ روشنائی میں اس کے بانی کے طور پر لکھا جائے گا۔”
آج کا انسان کیپلٹلزم کی عفریت کی گرفت میں ہے۔ اب تو رشتوں اور محبتوں کی بھی سٹاک مارکیٹ قائم ہوگئی ہے۔انسان نہ مٹنے والی بھوک میں مبتلا ہو کر ویمپائر بن گیا ہے۔
اک پیشہ عشق تھا سو غرض مانگ مانگ کر
رْسوا اسے بھی کر گئی سوداگروں کی ذات
محبت طوائف بن گئی ہے پیسوں سے خریدی جاتی ہے پیسوں پہ ہی بیچی جاتی ہے ایکسپائری ڈیٹ سمیت سودا بد و بدی ہوتا ہے۔
بظاہر فکرِ مست پاش پاش ہے۔لیکن کلام مست کا دیا کئی دلوں میں روشن ہے۔یہ ہی روشنی بڑھ کر سورج بنے گی۔سچ پر جانکنی تو طاری ہے پر سچ کو کبھی موت نہیں۔شاہ محمد لکھتا ہے: ” منڈی جس قدر چاہے وسیع و طاقت ور ہو،دنیا میں کچھ چیزیں ترازو کے لیے ہوتی ہی نہیں۔محبت ان میں سے ایک ہے_”(361)
( مکمل )
فیس بک کمینٹ

