روح سرمستِ فسونِ رنگ وبو ، اس کی بھی تھی
چھپ چھپا کر آئنوں سے گفتگو اس کی بھی تھی
ایک میں ہی کوچہ و بازار میں رسوا نہ تھا
شہر کے لوگوں میں کچھ کچھ آ برو اس کی بھی تھی
میں سمجھتا تھا وہ میری ذات میں گم ہے کہیں
خود کو پانے کی لگن میں جستجو اس کی بھی تھی
میرے دل سے بھی گلے شکوے سبھی جاتے رہے
روٹھنے کے بعد من جانے کی خُو اُس کی بھی تھی
میری خاطر ہی نہیں وہ میکدے میں آ گیا
کچھ طبیعت مائلِ جام وسبُو اس کی بھی تھی
تھی مقدر میں ہمارے وسعتِ صحراۓ غم زندگی
میری طرح بے کاخ و کُو اس کی بھی تھی
ایک ہی عالم شب فرقت تھا ، ارشد صبح تک
جیسی کیفیت تھی میری ، ہو بہو اس کی بھی تھی
( شعری مجموعے ”ثبات “ سے انتخاب )
فیس بک کمینٹ

