ارشد ملتانی مجھ سے 23 برس بڑے تھے مگر کسی تقریب میں ہم اکٹھے ہوتے تو وہ میرے ‘شاگرد ‘ یا چھوٹے بھائی دکھائی دیتے ۔ سو ملتان کے قرب و جوار کے ایک شہر کے مشاعرے میں انہوں نے شعر سنائے تو ایک باخبر نامہ نگار نے لکھا ” ارشد ملتانی کے کلام میں ابھی سے پختگی کے آثار ہیں “۔
دوستوں کی محفل میں ان کے ایک اور عقیدت مند کا مکتوب بھی زیر بحث آتا جس نے لکھا تھا اس خطے میں اردو سرائیکی شاعری کی ٹرین اب رواں ہو گئی ہے آپ کا مقام ٹرین کے انجن کا ہے اور ہم سب آپ کے چھکڑے ہیں (مکتوب نگار کی خود شناسی! ) ۔ارشد صاحب کا خاکہ میں نے بہت محبت سے لکھا تھا
ملتان شہریست در نواح ارشد ملتانی ( لاہور کے بارے میں داتا گنج بخش کا فقرہ یاد کیجئے ) وہ ننانوے فی صد شاعروں کے برعکس اپنی بیوی سے بہت پیار کرتے تھے اور شرما شرما کے شملہ میں ان سے اپنی پہلی ملاقات کا ذکر کیا کرتے تھے( اولیں شملہ "مذاکرات” )۔ 1992 میں ان کی محبوب بیوی (زبیدہ بیگم ) کا انتقال ہوا تو وہ بجھ سے گئے ان کے بیٹے شہزاد ( مرحوم ) اور ذیشان انہیں شام کے وقت تاج ہوٹل میں معمول کی چائے ، ہم مشرب دوستوں میں شعر گوئی ، سیاسی لطیفے اور دلچسپ باتیں کرنے اور سننے کے لئے چھوڑ جاتے ۔واپسی پر ہمارا یار مبارک احمد مجوکہ( جو اپنی کنجوسی کی وجہ سے ہم جیسے بد زبانوں کا نشانہ بنتا ) انہیں چونگی نمبر 1 والے گھر میں چھوڑ کے آتا (پاک دروازے والا اپنا گھر فروخت کرکے وہ اپنے سمدھی کی احسن کالونی میں آ گئے تھے ) ۔
تلک تلولے والا مصرعہ تو ان کی جمال پسندی کا مظہر تھا
ایک تو گورا رنگ قیامت اوپر تلک تلولے
مگر مجھے ضیا الحق دور کی بہت مقبول غزل بہت پسند تھی جس کا یہ شعر تھا
گرداب سے اب بچ کے نکل جائیں تو جانیں
ملاح نے رکھا ہے ادھر کا نہ ادھر کا
یا
حق و باطل میں ٹھن گئی ہے آج
کسی جانب تو تم بھی ہو لو نا
(میں اسلم انصاری صاحب کو چھیڑا کرتا تھا کہ ارشد صاحب آپ سے مخاطب ہیں )
ان کا یہ شعر دیکھئے
حالات ہر اک شخص کو درپیش ہیں یکساں
کچھ فرق اگر ہے تو ہے انداز نظر کا
یا یہ شعر
ہے فرق بہت زاویہ فکر و نظر کا
تو شام پر قانع ہے میں قائل ہوں سحر کا
فیس بک کمینٹ

