کالمگل نوخیز اخترلکھاری

ہد ہد پانی پوری۔۔گل نو خیز اختر

حضرت سے میری پہلی ملاقات سڑک کنارے ایک ڈرائیور ہوٹل پر ہوئی جہاں آپ آخری میز پر بیٹھے نان کے ساتھ جلیبیاں کھا رہے تھے‘ میں نے حیرت سے ان کے ’’کھانے‘‘ کو دیکھا ‘ پھر تجسس سے مجبور ہوکر ان کے پاس آیا اور پوچھا’’آپ شاعر تو نہیں؟‘‘ آپ نے کھلا ہوا منہ اٹھایا‘ شیرے میں لتھڑی انگلیاں سر کے بالوں سے صاف کیں اور عینک درست کرتے ہوئے بولے’’صحیح پہنچے ہو‘‘۔ میں عقیدت سے دو قدم دور ہٹ گیا اور اِس عجیب و غریب کھانے کی منطق پوچھی‘ انہوں نے گہرا سانس لیا‘ جیب سے سگریٹ کی ڈبی نکالی ‘ سگریٹ کے اگلے سِرے میں نان کا ایک ٹکڑا ڈا ل کر اُسے تمباکو میں مکس کیا…میں نے جلدی سے ماچس جلائی‘ انہوں نے ایک گہرا کش لیا او رتین چار دفعہ اپنا گال رگڑ کر بولے’’آج میرے شاگرد نہیں آئے اس لیے ذاتی پیسوں سے کھانا کھا رہا ہوں اور ذاتی پیسوں سے ایسا ہی کھانا کھانا چاہیے تاکہ کوئی اور کھانے میں شریک نہ ہوسکے‘‘۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنے پیلے پیلے دانت نکالے اور بھرپور کش لے کر دھواں میرے منہ پر چھوڑ دیا۔ہدہد پانی پوری آپ کا اصل نام ہے اسی لیے احباب بھی آپ کو اصل نام سے ہی پکارنے میں طمانیت محسوس کرتے ہیں۔آپ بیک وقت شا عر‘ صحافی‘ ڈاکٹر‘ انجینئر‘پائلٹ ‘ آڑھتی اور جہازہیں۔پیازکی آڑھت آپ کا آبائی پیشہ ہےاورپیچھے بیان کیے گئے تمام پیشے اِسی ایک پیشے کی وجہ سے قائم و دائم ہیں۔آپ کا ذہن شروع ہی سے تخلیقی تھا‘ آپ دس سے بیس منٹ میں پیاز کی پوری بوری میں سے بڑے اور چھوٹے پیاز علیحدہ کر لیا کرتے تھے۔ادبی دنیا میں قدم رکھتے ہی آپ کو اندازہ ہوگیا کہ شاعری بھی پیاز کی طرح ہے جس کے اندر اصل پیاز کہیں نہیں ہوتا صرف پیاز کی پرتیں ہوتی ہیں۔ آپ کئی دفعہ سگریٹ کے بجائے انگلیوں میں پکڑے قلم سے کش لگانا شروع کر دیتے ہیں۔آپ کو صاف ستھرے لباس سے سخت نفرت ہے‘ غسل کو عذاب ِجاں قرار دیتے ہیں‘ بچپن میں کہیں ایک دفعہ والدصاحب کے خوف سے دانت صاف کر لیے تھے‘ آج تک اپنے اِس فعل پر نادم نظر آتے ہیں۔
کالم نگاری کی وجہ سے اب آپ اپنے گھر میں بھی پہچانے جانے لگے ہیں‘آپ کو ہر موضوع پر کالم لکھنے میں یدطولیٰ حاصل ہے‘ پچھلے دنوں آپ نے ملک میں بڑھتی ہوئی گرمی کے خلاف کالم لکھا تھا ‘ سنا ہے حالیہ سردیوں کی لہر آپ کے کالم کے بعد ہی شروع ہوئی ہے۔آپ نے کبھی اپنے آپ کو Under estimate نہیں کیا‘ الحمدللہ یہ فریضہ ہمیشہ دوسروں نے ہی سر انجام دیا۔حضرت ہد ہد پانی پوری سے مجھے بہت محبت ہے کیونکہ ایسے لوگ اب ادبی محفلو ں کے بجائے سبزی منڈیوں میں ہی پائے جاتے ہیں‘میں اکثر اُن کے درشن کرنے کسی نہ کسی مشاعرے میں حاضری دیتا رہتا ہوں لیکن پتا نہیں کیوں وہ ہمیشہ مجھ سے نالاں رہتے ہیں‘ ایک دفعہ میں نے دبے لفظوں میں سبب پوچھا تو گھور کر بولے’’ہر دفعہ ہاتھ پیر ہی دباکر نکل جاتے ہو‘ کبھی جیب میں سو پچاس بھی ڈال دیا کرو‘‘۔میں نے تہیہ کر لیا ہے کہ اب ہر جمعرات کو ہد ہد پانی پوری صاحب کو کم ازکم سو روپے ضرور دیا کروں گا‘ سنا ہے ایسے ملنگوں کی دعائیں سیدھی فرش پر جاتی ہیں۔میری تمام ادبی تنظیموں کے منتظمین سے بھی گزارش ہے کہ وہ لفافے والے مشاعروں میں حضرتِ کو زیادہ سے زیادہ بلائیں ‘ بے شک خالی لفافہ ہی دے دیں لیکن دیں ضرور تاکہ حضرت بھی کسی کو کہہ سکیں کہ مجھے مشاعرے میں لفافہ ملا ہے۔مجھے ہمیشہ یہ حیرت رہی کہ حضرت کے پاس تو منجن خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے‘ پھر یہ ہر ماہ اپنے ادبی آستانے پر پندرہ بیس شاعروں ادیبوں کو روزانہ چائے کیسے پلاتے ہیں؟ پتا چلا کہ ہر معاملے کی طرح اِس معاملے کے پیچھے بھی حضرت کی یوتھ ہے جواپنی شاعری سیدھی کرانے کی غرض سے دو سو روپے فی غزل کے حساب سے خطیر سرمایہ ضائع کرنے کے لیے ہر آن موجود ہوتی ہے۔
حضرت کا کمال ہے کہ بعض اوقات طبیعت موزوں نہ ہورہی ہو تو ایک ہی غزل دو نمبر ہاؤسنگ سوسائٹی کے پلاٹ کی طرح متعدد لوگوں کو بیچ دیتے ہیں تاہم رجسٹری اپنے نام رکھتے ہیں۔ادب آپ کا جنون ہے اسی لیے بیوی بچوں اور گھر بار کو ’’کھڈے لائن‘‘ لگا رکھا ہے اور دن رات ادب کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ہمارا ادبی ماحول اِس طرح کے ہدہدوں سے بھرا پڑا ہے جو ادب کی خدمت کے نام پر اپنے گھر بار سے بیگانے ہوئے پھرتے ہیں۔سچی بات تو یہ ہے کہ ادب کی خدمت کوئی نہیں کرتا‘ خود ادب لوگوں کی خدمت کرتا پھرتاہے۔ بے شمارشاعر ادیب لوگوں نے ادب کو اوڑھنا بچھونا بناتے ہوئے محنت سے کنارہ کشی اختیار کی اور اپنے سمیت اپنے بیوی بچوں کا بھی بیڑا غرق کر لیا۔یہی وجہ ہے کہ شاعروں ادیبوں کے متعلق عام لوگوں کا یہ خیال پختہ ہوتا چلا گیا کہ یہ لوگ دنیا کے بے کار ترین لوگ ہوتے ہیں‘ حالانکہ ایسا بالکل نہیں‘شاعری خوبصورت ماحول میں بھی ہوسکتی ہے‘ افسانے پاک صاف رہ کربھی لکھے جاسکتے ہیں۔ جو لوگ جان بوجھ کر اپنے گھر بار سے غافل ہوکر خود کو ادب کے لیے وقف کرنے کے دعوے کرتے ہیں اُنہیں ادب بھی قبول نہیں کرتا۔خالص ادب پیشہ نہیں ہوتا۔اگر ہوجائے تو پھر ادب نہیں رہتا۔لکھنے پڑھنے کے بے شمار کام پیشے کے زمرے میں آتے ہیں لیکن ہر لکھنے پڑھنے والا کام ادب کے زمرے میں نہیں آتا۔ ادب اظہارِ ذات کا نام ہے‘ تارک الدنیا ہونے کا نہیں۔بیوی بچوں کو بھوکا چھوڑ کر خود رات رات بھر مشاعروں میں سگریٹ پھونکے والوں کی وجہ سے ہی ادب بدنام ہوا ہے۔ادب کام کرنے اور پیسہ کمانے سے نہیں روکتا۔ روٹی روزی اور ادب میں سے کسی کو منتخب کرنا ہو تو روٹی روزی کو پہلی ترجیح دیجئے۔ میں یقین دلاتا ہوں اِس چھوٹی سی بے ادبی کے نتیجے میں نہ ادب کو جوڑوں کا درد ہوگا، نہ بخار ہوگا اورنہ وہ آپ کی خدمت کے لیے تڑپے گا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker