کالمگل نوخیز اخترلکھاری

گل نو خیز اختر کا کالم:آپ کی عمر کتنی ہے؟

یہ جو مشہور ہے کہ مرد کی ایک زبان ہوتی ہے، غلط ہے۔ میرا 500سالہ تجربہ ہے کہ زبان صرف خواتین کی ایک ہوتی ہے۔مثلاً میری ایک کلاس فیلو نے آج سے پچیس سال پہلے مجھے اپنی عمر پچیس سال بتائی تھی، الحمد للہ وہ آج بھی اپنی زبان پر قائم ہیں۔ چالیس سال تک کی عورت آٹھ دس سال تک پچیس سال کی ہی رہتی ہے۔ چالیس کے بعد چونکہ اکثر بڑا بیٹا پندرہ سال کا ہوجاتاہے اس لئےمجبوراً اپنی عمر کے چھ سات سال بھی بڑھانے پڑ جاتے ہیں ورنہ دنیا شک میں پڑ جاتی ہے کہ شاید کوئی حادثہ ہوا تھا۔آج تک کوئی ایسا طریقہ دریافت نہیں ہوسکا جس سے عورت کو دیکھ کر اس کی عمر کا اندازہ لگایا جاسکے۔ اگر کوئی خاتون اپنی عمر پچیس سال تسلیم کرانے پر بضد ہوتو اس کے بازو کا ضرور جائزہ لیں، انشاء اللہ ’’پھرکی والے ٹیکے‘‘ کا نشان ضرور نظر آجائے گا، بڑی عمر کی خواتین شاید اسیلئے ہاف بازو والی قمیض پہننے سے گریز کرتی ہیں۔اپنی عمر کے حوالے سے خواتین کو اکثر یہ جملہ ازبر ہوتاہے’اصل میں میری شادی چھوٹی عمر میں ہوگئی تھی‘۔ تاہم اگر آپ موصوفہ کی کیس ہسٹری کا جائزہ لیں تو پتا چلتاہے کہ یہ ’چھوٹی عمر‘ اصل میں 28سال تھی۔میری ایک کولیگ جب چالیس سال کی ہوئیں تو انہوں نے اپنی سالگرہ پر 25کے منہ والی موم بتیاں روشن کردیں۔ شرکاء نے معنی خیز نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، میں نے جلدی سے کہا’خواتین وحضرات! نمبروں کی ترتیب الٹ ہونے پر ہم آپ سے معذرت خواہ ہیں‘۔خواتین کی عمر کا اندازہ لگانا ہو تو ان سے کچھ ایسے سوالات پوچھنے چاہئیں جن کا جواب وہ نہ چاہتے ہوئے بھی دینے پر مجبور ہوجائیں۔ مثلاً میں نے اپنی ایک ’لے پالک کولیگ‘ سے پوچھا’’ بھٹو کی پھانسی کے وقت سارا پاکستان کیوں سڑکوں پر آگیا تھا؟‘تیزی سے بولیں’سواہ تے مٹی آیا تھا بس ہم گھروں میں بیٹھ کر ہی روتے رہتے تھے اور…‘‘ اچانک ہی ان کی زبان کو بریک لگ گئی، تاہم جواب مل چکا تھا۔
لیکن کئی خواتین اس حوالے سے بڑی حاضر دماغ ہوتی ہیں، ان سے اگر پوچھا جائے کہ آپ نے 2013کے الیکشن میں کس پارٹی کو ووٹ دیا تھا تو معصوم سی شکل بنا کر کہتی ہیں’ہائے کاش اُس وقت میرا شناختی کارڈ بنا ہوتا‘۔ دنیا میں آنے والوں کی تاریخ پیدائش شناختی کارڈ سے پتا چلتی ہے جبکہ فیس بک پر آنے والوں کی پیدائش ان کے پروفائل پر درج ہوتی ہے۔ یہاں چونکہ مرضی کی تاریخ پر پیدا ہوا جاسکتا ہے لہذاکم ازکم میری فرینڈ لسٹ کے مطابق بیشتر خواتین چار پانچ سال پہلے پیدا ہوئی ہیں۔ایسی خواتین اپنی پوسٹ میں اپنے چہرے کی تصویر لگانے کی بجائے ہمیشہ اپنے ہاتھ، پاؤں کی تصاویر لگاتی ہیں، کبھی پوری تصویر لگانی بھی پڑ جائے تو منہ دوسری طرف موڑ لیتی ہیں تاکہ لوگ ڈر نہ جائیں۔فیس بک پر خواتین کے نام سے جعلی اکاؤنٹ بنانے والوں کی اکثریت بھی چونکہ اس رمز کو سمجھتی ہے لہذا یہ بھائی لوگ بھی لڑکی بن کر کسی ایسی حسین و جمیل لڑکی کی 18سالہ تصویر لگاتے ہیں جو کبھی کسی نے خوابوں میں بھی نہیں دیکھی ہوتی۔ عموماً لڑکیوں کے نام سے فیس بک اکاؤنٹ بنانے والے لڑکی کا نام بھی ایسا رکھتے ہیں کہ پڑھتے ہی یقین ہوجاتاہے کہ سب دو نمبری ہے۔ یہ نام عموماً ماریہ خان، سنبل خان، لائبہ خان اورشازمہ خان ہوتے ہیں۔ آپ کو یقینا کبھی کسی کلثوم چوہدری، نسرین شاہ، سرداراںبیگم، شکیلہ راجپوت وغیرہ کی فرینڈ ریکوئسٹ نہیں آئی ہوگی۔
جن خواتین کی عمر زیادہ ہوجاتی ہے انہیں اگر اپنی عمر کے حوالے سے سچ بھی بولنا پڑ جائے تو ایسے طریقے سے بولتی ہیں کہ شائبہ 25سال کا گزرتاہے۔ میں نے ایک خاتون سے پوچھا کہ آپ کی عمر کتنی ہے؟ اٹھلا کر بولیں’’تیس سال اور کچھ مہینے‘‘۔ میں نے کریدا’کتنے مہینے؟‘۔ لاپرواہی سے بولیں’یہی کوئی چارپانچ سو مہینے‘۔اکثر خواتین کو سر میں درد ہو تو وہ ایک گولی کھاتی ہیں، شوہر اگر کہے کہ دو گولیاں لینی چاہئیں تو چلا کر کہتی ہیں’’دو گولیاں تو بڑوں کےلئے ہوتی ہیں‘‘۔ اس کے بعد شوہر خاموش ہوجاتاہے اور اطمینان سے دوسرے کمرے میں جاکر دیوار کو ٹکر دے مارتاہے۔عموماً مردوں کو اپنی عمر چھپانے کی عادت نہیں ہوتی، شائد اسلئے کہ انہیں مرد کہلوانے کا زیادہ شوق ہوتاہے۔آپ نے بیس سال کے کئی ایسے لڑکے دیکھے ہونگے جو ہر کسی کو ’’بیٹا بیٹا‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔بڑی عمر کی اکثر خواتین کا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ شناختی کارڈ پر ان کی عمر ٹھیک نہیں لکھی ہوئی کیونکہ ا سکول میں داخلے کے لئے ان کے والد صاحب نے غلط عمر لکھوائی تھی ۔ الحمدللہ ہمارے معاشرے میں 45سال کی‘ لڑکیاں ‘بھی عام پائی جاتی ہیں۔ یہ کسی مرد سے بات کرتے ہی ’باربی ڈول‘ بن جاتی ہیں۔
ایک جگہ کچھ دوستوں میں بحث ہورہی تھی کہ جو عورت بات کرتے وقت زیادہ منہ کھولتی ہے اس کی عمر زیادہ ہوتی ہے اور جس کا منہ کم کھلے وہ کم عمر ہوتی ہے۔ حق اور مخالفت میں دلائل جاری تھے کہ اچانک وہاں سے 85سالہ اماں جیراں کا گزر ہوا۔ جب اماں سے اس بات کی حقیقت کےبارے پوچھا گیا تو اماں تھوڑا سا منہ کھول کر بولیں’’پُت ! مینوں کی پتہ؟‘‘ میں عمر چھپانے کے خلاف ہوں، جو چیز حقیقت ہے وہ بیان کردینی چاہئے۔ میں تلاش میں تھا کہ کوئی ایسا شخص ملے جو اپنی عمر کے حوالے سے بالکل سچ بولے۔ بالآخرکامیابی ہوئی اور وہ بندہ مرد حق مل ہی گیا۔اب آپ سے کیا چھپانا،عمر بتانے کے حوالے سے خاکسار ہی دنیا کا سب سے سچا اور کھرا انسان ہے۔میں نے آج تک اپنی عمر نہیں چھپائی لہذا مجھ سے جب بھی کسی نے میری عمر پوچھی میں نے کوئی ہینکی پھینکی نہیں ماری اور کسی احساس کمتری کا شکار ہوئے بغیر فوراً بتا دیا کہ ستائیس سال…!!!
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker