بلوچستانعابد میرکالملکھاری

عابد میر کا کالم : حال حوال کے بند ہونے کا قصہ

پانچ سال پہلے پانچ دوستوں نے مل کر ”حال حوال“ کے نام سے ایک اردو بلاگنگ ویب سائٹ کا ڈول ڈالا تو یہ بلوچستان میں ایک نئی اختراع تھی۔ انگریزی کی کچھ ویب سائٹس چند نوجوان نجی سطح پر چلا رہے تھے یا اخبارات کی اپنی نیوز ویب سائٹس تو موجود تھیں مگر اردو میں بلاگنگ ویب سائٹ کا اجرا ایک نیا تجربہ تھا۔
مقصد اس تجربے کا یہ تھا کہ مین اسٹریم یا مقامی میڈیا آؤٹ لیٹس سے محروم بلوچستان کے نوجوان لکھنے والوں کی آواز آن لائن میڈیا کا حصہ بن سکے۔ اور یہ مقصد خوب حاصل بھی ہوا۔ نئے لکھنے والوں کی ایک زبردست کھیپ ابھری۔ سوشل میڈیا کی کچی تحریروں کو ایڈیٹنگ کی بھٹی سے گزار کر پکا بنانے کی کوشش کی۔ درجنوں لکھنے والوں نے اس تجربے سے جلا پائی۔
گزشتہ ایک برس سے مگر ویب سائٹ ڈاؤن رہی ہے۔ وجوہات کئی ہیں مگر سب سے اہم بنیادی ٹیم ممبرز کی ترجیحات میں یکسوئی نہ ہونا ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی اب مکمل جرنلسٹ یا عملی صحافی نہیں رہا۔ غمِ روزگار نے کسی کو یہاں پھینکا تو کسی کو وہاں۔ یوں ویب سائٹ لاوارث سی ہو گئی۔ ہم نے پچھلے سال بھی اعلان کیا کہ کوئی اسے رضاکارانہ بنیادوں پر چلانا چاہے تو ڈومین حاضر ہے۔ کچھ نوجوان آئے مگر جلد واپس ہو گئے۔ کچھ کے ہاں خود زبان کے مسائل تھے، انہیں ایڈیٹنگ کا کام نہیں سونپا جا سکتا تھا۔ ایک آدھ رہ گیا تو وہ بھی ہماری طرح برائے نام۔
سو، کل ہم نے بیٹھ کر طے کیا کہ اس طرح گھسیٹ گھسیٹ کر ڈمی نیوز پیپر کی طرح چلانے سے بہتر ہے اسے اعلانیہ بند کر دیا جائے۔ اس میں نہ کوئی شکست ہے نہ کوئی مایوسی۔ آپشن یہ بھی تھا کہ اسے بیچ دیا جائے یا پھر ری لانچ کر کے کمرشل ٹائپ بنا دیا جائے۔ مگر اراکین کی اکثریت کا اتفاق ان دونوں تجاویز پہ نہ ہو سکا۔ بہتر خیال کیا گیا کہ فی الحال اسے معطل کر دیا جائے۔ چار چھ ماہ بعد دیکھتے ہیں کہ کیا عملی صورت حال بنتی ہے۔
خواب تو ہمارا اسے ایک ویب چینل تک لے جانے کا ہے۔ جس کے لیے ظاہر ہے خطیر سرمایہ چاہیے۔ ویب سائٹ کے مالی معاملات میں کچھ احباب کی مالی معاونت ہمیں حاصل رہی۔ پہلے دو سال ہم چندہ کر کے فیس ادا کرتے رہے۔ پھر ایک مہربان نے تین سال کی فیس یکجا کر کے دے دی۔ اب بھی ایسی آفرز ہیں کہ اس کا سالانہ خرچ ادا ہو سکتا ہے۔ مگر ایک اہم معاملہ اسے ٹائم دینے کا ہے۔ دوسرا ہمیں لگتا ہے کہ اب یہ کوئی اہم پراڈیکٹو ایکٹویٹی نہیں رہی۔ حال حوال کے بعد کوئی چار پانچ ویب سائٹس لانچ ہوئی ہیں جو یہی کام کر رہی ہیں۔ اس لیے یہ اسپیس اب خالی نہیں۔ البتہ اس سے بہتر اگر کوئی کام ہو سکتا ہے تو اس پہ سوچا جائے۔
ہمارا ماننا ہے کہ کمرشل ادارہ بنائے بغیر اس کا کوئی مستقبل نہیں۔ بلوچستان میں اب تک میڈیا سورس اخبارات ہیں یا کچھ چینلز اور یہ سب سرکاری سبسڈی پر ہی چلتے ہیں۔ ہم نے کوشش کی آن لائن میڈیا کے لیے بھی ایسا کوئی سورس بن سکے۔ مگر ذاتی طور پر یک شخصی ویب سائٹس چلانے والوں نے اس میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لی۔ حکومت بھی اس بارے میں اب تک قانون سازی سے قاصر ہے۔
بلوچستان میں انٹرنیٹ کی عدم دستیابی ایک اور ایشو ہے۔ آدھے سے زیادہ بلوچستان اس سے محروم ہے۔ لوگ بمشکل فری فیس بک اور واٹس ایپ پہ گزارہ کرتے ہیں۔ ایسے میں لکھنے اور پڑھنے والوں، دونوں کو کسی لنک کی بجائے فیس بک یا واٹس ایپ کے ذریعے ٹیکسٹ پڑھنے میں زیادہ سہولت ہوتی ہے۔ اس نے لکھنے والوں کو بھی تساہل پسند بنا دیا۔ کون اپنے لکھے کی ایڈیٹنگ اور پھر اپلوڈنگ کا انتظار کرتا پھرے۔ سیدھا لکھ کر فیس اور واٹس ایپ گروپس میں پوسٹ کیا اور فوری ریسپانس لے لیا۔
تو کل ملا کر یہ عوامل ہیں جو حال حوال کی معطلی کا باعث بنے ہیں۔ جو احباب چاہتے ہیں کہ حال حوال جاری رہے، ان سے گزارش ہے کہ ایسی تجاویز دیں جو قابلِ عمل بھی ہوں اور جو سماج میں کوئی بامعنی پراڈکٹ بھی دے سکیں۔ نیز یہ بھی بتائیں کہ ان تجاویز میں آپ کا عملی حصہ کیا ہو گا۔ خالی خولی ہمدردی یا گپ بازی نہیں، عملی بات کریں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker