اہم خبریں

کوئٹہ: طلبہ دھرنے کے دوران زخمی ہونے والی طالبہ ہانی بلوچ انتقال کر گئیں

کوئٹہ : صوبائی دارالحکومت میں آن لائن انٹری میڈیکل ٹیسٹ کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے دوران گزشتہ روزپولیس شیلنگ سے زخمی ہونے والی طالبہ ہانی بلوچ دم توڑ گئیں۔نجی ٹی وی ہم نیو ز کے مطابق احتجاج میں شریک طلبہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ہانی بلوچ گزشتہ روز پولیس تشدد سے شدید زخمی ہوئی تھیں اوراس کے ہاتھ اور جسم کے دیگرحصوں پر زخم آئے تھے جبکہ گھر جاتے ہی ہانی کی طبیعت خراب ہوگئی تھی۔ساتھی طلبہ کا کہنا ہے کہ ہانی بلوچ طلبہ تحریک میں فرنٹ لائن پر تھیں۔
دوسری جانب ہانی بلوچ کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ ہانی کی طبیعت کافی عرصے سے خراب تھی لیکن اس کے باوجود وہ آن لائن انٹری میڈیکل ٹیسٹ کے خلاف جاری احتجاجی تحریک میں باقاعدگی سے شرکت کرتی رہی ہیں تاہم گزشتہ روز پولیس کی جانب سے جب طلبہ کو منتشر کرنے کے لئے شیلنگ کی گئی تو اس میں وہ زخمی ہو ئی تھیں جس کے بعد انکی طبیعت زیادہ خراب ہوگئی تھی ۔ گزشتہ رات گئے ہانی کو سول ہسپتال میں منتقل کیا گیا تھا جہاں آج ان کا انتقال ہوگیا ۔
ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک ہمارے پاس میڈیکل رپور ٹ نہیں آئی ہے ، رپورٹ آنے کے بعدہی اصل صورتحال واضح ہوگی جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے بھی اس معاملے پر کوئی بیان نہیں جاری کیا گیا ہے۔
ترجمان پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ہانی بلوچ بلوچستان سٹوڈنٹ آرگنائزیشن کی رکن و لاپتہ افراد کیس میں بھی سرگرم تھیں۔ ہانی بلوچ کی موت قدرتی ہے پولیس لاٹھی چارج کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔‘ بیان میں کہا گیا کہ مبینہ طور پر ہانی بلوچ اس وقت ٹی اینڈ ٹی چوک میں دوپہر ایک بجے موجود نہیں تھیں جب پولیس نے طلبا کو منتشر کیا۔ ہانی بلوچ کی جانب سے جمعے کی صبح پولیس کو یا کسی اور کو کسی چوٹ یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں دی گئی۔
ترجمان کے مطابق ’کچھ شرپسندوں کی جانب سے پروپیگنڈا کی کوشش کی جارہی ہے، اس پروپیگنڈے کی کوشش کو ہر سطح پر رد کیا جائے گا۔‘

حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نےبھی اپنے جاری بیان میں کہا ہےکہ ہانی بلوچ کے انتقال سے متعلق پروپیگنڈہ انتہائی گمراہ کن اور افسوسناک ہے۔ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ’تنظیمی ساتھی ہانی بلوچ جوکہ سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی میں انگلش لٹریچر کی سٹوڈنٹ تھیں، ان کی 24 ستمبر کی شام کو وفات ہوئی ہے۔
طلبہ سیاست میں وہ انتہائی اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔ بالخصوص پاکستان میڈیکل کمیشن کے خلاف جاری طلبا کی تحریک کو منظم کرنے میں ان کا کلیدی کردار تھا۔ 23 ستمبر کے گرینڈ ریلی میں وہ فرنٹ لائن پر متحرک نظر آئیں اور ساتھیوں کا حوصلہ بڑھاتی رہیں۔‘
مرکزی ترجمان نے وضاحت دی ہےکہ بانک ہانی بلوچ کی طبیعت پہلے سے ناساز تھی، مگر جدوجہد کو اولیت دیتے ہوئے وہ اپنی صحت کا پرواہ کیے بغیر ریلی میں متحرک رہیں۔ شام کے وقت جب ساتھیوں نے ان کی طبیعت کو زیادہ خراب پایا تو انہیں زور دے کر گھر بھیج دیا۔ جس کے بعد رات گئے پولیس کا لاٹھی چارج اور گرفتاریاں ہوئیں۔
’متحرک ساتھیوں کے قید ہونے سے ہانی بلوچ کا ان سے رابطہ منقطع ہو گیا اور جب ساتھی رہا ہو کر واپس آئے تو یہ دردناک خبر سامنے آئی کہ ہانی بلوچ طبیعت کی زیادہ خرابی کی وجہ سے اس جہان سے کوچ کر گئی ہیں۔‘

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker