کہانی جنگل کی ہے اور میں نے بچپن میں سنی تھی ۔ کس سے سنی یہ بھی اب یاد نہیں لیکن اتنا مجھے یاد ہے کہ کہانی جنگل کی ہے اور جنگل میں ہونے والے ایک جھگڑے کی ہے جس نے خونریزی کی شکل اختیار کر لی تھی اور جنگل کے امن کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا تھا ۔ ایسے میں جنگل کے بادشاہ نے جو شیر نہیں چوہا تھا سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کر لیا تاکہ اس سنگین صورت حال پر غور کیا جا سکے ۔ آپ کو حیرت ہو گی کہ چوہا بھلا جنگل کا بادشاہ کیسے بن سکتا ہے کہ جنگل کا بادشاہ تو ہمیشہ سے شیر ہی ہوتا ہے لیکن یہ ہمارے بچپن کی کہانی ہے اور جس جنگل کی کہانی ہے وہاں یہ منصب چوہے کے سپرد ہی کیا گیا تھا ۔
اب جنگل میں چوہا بادشاہ ہو یا شیر اس سے بھلا کیا فرق پڑتا ہے ۔ جنگل کا اپنا قانون ہوتا اور اس قانون کے کچھ رکھوالے بھی ہوتے ہیں جو کسی کو قانون شکنی بھی نہیں کرنے دیتے ۔ اور کسی میں یہ جرات بھی نہیں کہ وہ ان کی کسی بات پر چوں چراں کر سکے ۔
جنگل کے حالات ٹارزان کی وجہ سے خراب ہوئے تھے ۔ ٹارزان نہ جنگل کے قانون کو مانتے تھے اور نہ کسی کے حکم کو خاطر میں لاتے تھے ۔ ٹارزان کا ایک پورا قبیلہ تھا جو خود کو ٹارزن کی اولاد کہتا تھا ۔ ان کی جسامت اور قد کاٹھ تو ٹارزن والا نہیں تھا لیکن ان ٹارزان نے بڑی بڑی پگڑیاں باندھ کر اورلمبی لمبی مونچھیں اور داڑھیاں رکھ کر خود کو بارعب بنا رکھا تھا ۔ ان وحشیوں سے سب کو خوف آتا ۔ وہ جب اور جہاں سے چاہتے جنگل کو آگ لگا دیتے تھے ۔ ٹارزان کی ان حرکتوں پر جنگل کے باسی بہت پریشان ہوئے ۔ اور ان کی شکایت کے لیے سلامتی کونسل کا اجلاس بھی طلب کر لیا ۔ جنگل میں ان دنوں ایک وبا بھی پھیلی ہوئی تھی جس کی وجہ سے مختلف جانور اپنے اپنے علاقوں تک محدود تھے ۔ سلامتی کونسل میں چونکہ لدھڑ اور لگڑ بگڑ نے ویٹو پاور حاصل کر لی تھی اس لیے سلامتی کونسل عملی طور پر ان کے ہاتھوں غیر مؤثر ہو چکی تھی ۔ ایسے میں سلامتی کونسل کے اجلاس کی بجائے شاہ عالمی طاقتوں نے جنرل اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا ۔ اب جنگل میں یہ جھگڑا کھڑا ہو گیا کہ اس اجلاس سے کون خطاب کرے کہ مسئلہ صرف ٹارزان کا نہیں ایک عدد خنزیر کا بھی تھا ۔
مسئلہ خنزیر یہ تھا کہ خنزیر اپنی تھوتھنی کے ساتھ جنگل والوں پر حملے کرتا تھا اور جب جانور اپنے بچاؤ کے لیے اس کے آگے سے ہٹ جاتے تو سیدھا پوری رفتار کے ساتھ درخت سے ٹکرا جاتا تھا ۔ خنزیر نے جنگل کے کئی درخت ٹکریں مار کر گرا دیے تو ماحولیاتی مسئلہ بھی پیدا ہو گیا ۔ جنگل کے بڑوں نے ہنگامی بنیادوں پر شجرکاری مہم شروع کر دی تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک لہلہاتا ہوا سرسبز و شاداب کلین اینڈ گرین جنگل تیار کیا جاسکے ۔
جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کسے بھیجنا چاہیے اس پر طویل مشاورت ہوئی اور بادشاہ سلامت نے اپنے تمام وزیروں ، مشیروں اور معاونین خصوصی سے مشورے کے بعد فیصلہ کیا کہ سفر چونکہ دور پار کا ہے اور وباء کی وجہ سے راستے بھی بند ہیں اس لیے کسی ایسے جانور کو یہ ذمہ داری سونپی جائے جو درختوں کی ٹہنیوں پر جھولتا ہوا اجلاس میں پہنچ جائے اور پھر وہاں جا کر ٹارزان کا راستہ بھی روکے اور شاہ عالمی برادری کو خنزیر کے مسئلے پر بھی اعتماد میں لے ۔ اس کام کے لیے بندر سے بہتر بھلا کون ہو سکتا تھا ۔ بندر نے پہلے تو نخرے دکھائے لیکن پھر ملک کے وسیع تر مفاد میں اس پر خطر سفر پر روانہ ہو گیا ۔ اس نے روانگی سے پہلے بندریا سے ملاقات کی اور کہا میری غیر موجودگی میں گھر کے دروازے بند رکھنا ۔ جنگل میں چور ڈاکو دندنا رہے ہیں ۔ واپس آ کر میں ایک ایک سے پائی پائی کا حساب لوں گا ۔ لیکن جب بندر واپس آیا تو سب کچھ بدل چکا تھا ۔ جنگل میں جمہوریت کی بساط لپیٹی جا چکی تھی ۔ بندر نے باقی عمر ٹہنی پر ایک الو کے ہمراہ اداس بیٹھ کر گزاری ۔
تو پیارے بچو سبق اس کہانی سے یہ نکلا ۔۔ کیا نکلا ۔۔ کچھ بھی نہیں کہانی سبق کے لیے تو نہیں ہوتی ۔
فیس بک کمینٹ

