حیدر جاوید سیدکالملکھاری

حیدر جاوید سیدکاکالم:کچھ تلخ و شیریں باتیں

مفتوحہ علاقوں کی تاریخ و تہذیب کو کچلنے اور اس کے باسیوں کو یہ سمجھانے کی روایت بہت پرانی ہے کہ تم کیا تھے، گنوار تہذیب و ثقافت اور جدیدیت سے ناآشنا، یہ تو ہم تھے جنہوں نے قدم رنجہ فرمایا اور تمہیں نئے زمانوں کے ساتھ نئے علوم اور تہذیب سے آشنا کیا۔
یہ محض جذباتی باتیں ہرگز نہیں۔ دستیاب تاریخ کی کتابوں کے اوراق الٹ کر دیکھ لیجئے، قدم قدم پر آپ کو فاتحین اور ان کی نسلوں کا مفتوحہ علاقوں سے رویہ دیکھائی دے گا۔ مسلم تاریخ بھی اس سے محفوظ نہیں۔
برصغیر کی مسلم تاریخ تو عجیب سا ملغوبہ ہے۔ ذات پات، دھرم و عقیدہ، ہم ہی ہم ہیں بس۔ اس کے سوا اس میں کیا ہے۔ سوال کرو تو کھٹ سے فتویٰ ماتھے پر گولے کی طرح لگتا ہے۔ ایسی ایسی جذباتی بحثیں اٹھائی جاتی ہیں جن کا مقصد صرف مقامیوں کی توہین کرنا ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتاہے اس کا جواب چند لفظی ہے اور وہ یہ کہ ’’علم‘‘ سے محرومی۔
ان سطور میں ایک سے زائد بار یہ عرض کرچکا کہ علم اور تعلیم میں بہت فرق ہے۔ تعلیم ہی علم کے دروازے پر لے جا کھڑا کرتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ہاں جس قسم کی تعلیم دی جاتی ہے وہ علم کی طرف رہنمائی کا حق ادا کرتی ہے؟
برسوں کے مطالعے نے طالب علم کو یہ سمجھایا کہ اس سے علم کی طرف رہنمائی کے تقاضے پورے نہیں ہوتے بلکہ ہمارا نصاب تعلیم ایک مطیع نسل پیدا کرتا ہے۔
سادہ لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ ہمارا نظام تعلیم صرف منشی پیدا کرتا ہے۔ ایسے ضرورت مند منشی جن کے نزدیک زندگی کا مقصد اچھی ملازمت، اچھا گھر، بہتر خاندان میں شادی، پرآسائش زندگی اور بس۔
فرد کو سماج میں کیسے رہنا بسنا ہے اس کی سماج کے ایک رکن کے حوالے سے کیا ذمہ داری ہے، نصاب تعلیم اس سمت کوئی رہنمائی نہیں کرتا۔
اسی طرح کا مسئلہ ایک اور ہے۔ تھوڑا سا تلخ بلکہ اس سے آگے کی چیز۔ ہمارے یہاں نسل در نسل یہ متھ محبوب رہی اور ہے کہ عورت ناقص العقل ہے، پاوں کی جوتی ہے۔ ایک متھ یہ ہے کہ اس کی عقل اس کی چٹیا میں ہوتی ہے۔ دوسری طرف یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ماں کی گود اولاد کی پہلی درس گاہ ہے۔
63برس کے سفر حیات میں کم از کم میری نظر سے یہ بات نہیں گزری کہ کسی نے سوال اٹھایا ہو کہ جس عورت ذات کو کم عقل، ناسمجھ اور چٹیا کے پیچھے عقل والی کہا جارہا ہے وہ اولاد کی پہلی درس گاہ کیسے ہوسکتی ہے؟
یقیناً دونوں میں سے ایک بات تو صریحاً غلط ہوگی۔
بہت سال ہوتے ہیں ہم نے یہ سوال استاد مکرم سید عالی رضوی صاحب کے سامنے رکھا۔
ان کا مختصر جواب یہ تھا کہ برصغیر کی عمومی روایات عورت دشمنی پر مبنی ہیں۔ مقامی مذاہب میں بھی عورت کو خاص مقام حاصل نہیں تھا۔ مسلمان آئے تو وہ اس رنگ میں رنگے گئے۔ یاد پڑتا ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مسلمانوں کی اکثریت مقامیوں پر مشتمل ہے اس لئے وہ مقامی متھوں کو سینے سے لگائے جی رہے ہیں۔ عالی صاحب نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا تھا کہ خواتین کے متعلق مقامی متھوں کے مقابلہ میں مجھے رسالت مآب حضرت محمدؐ کا یہ ارشاد زیادہ محبوب ہے
’’علم حاصل کرنا ہر مرد اور عورت پر واجب ہے‘‘۔ ان کے بقول یہ حدیث مبارک اس سوچ کی نفی ہے کہ عورت ناقص العقل ہے۔
کالم کچھ زیادہ سنجیدہ نہیں ہوگیا، واقعی ایسا ہے۔ تحریر نویس کو احساس ہے لیکن کیا کیجئے یہ باتیں زیادہ ضروری ہیں۔ اور بھی غم ہیں زمانے میں مہنگائی کے سوا۔
خیر ہم اصل موضوع پر بات کرتے ہیں۔ تحریک انصاف جب سے اقتدار میں آئی یکساں تعلیمی نصاب کا بہت شور تھا اب یکساں تعلیمی نصاب کے نام پر جو کتب سامنے آئی ہیں ان میں ایسے ایسے لطیفے ہیں کہ سر پیٹنے کو جی کرتا ہے مثلاً توانائی کے بحران اور زائد قیمتوں میں کمی کے حوالے سے اس میں موجودہ حکومت کے جو کارنامے گنوائے گئے وہ ظہور پذیر ہی نہیں ہوئے۔ ایک مثال عرض کئے دیتا ہوں۔ آئی ایم ایف سے طے شدہ شرائط پر بجلی کی جو قیمت آج ہے یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام پر بوجھ بڑھا ہے کم نہیں ہوا۔
لیکن یکساں نصاب تعلیم کے نام پر کچھ اور عصری اور تاریخی مغالطے بھی ہیں۔ انہیں پڑھیں تو سمجھ میں آتا ہے کہ تاریخ نویسی کیسے ہوتی ہوگی اور کیوں ہمارے ہاں دستیاب تاریخی کتب پر نئی نسل اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔
تاریخی کتب پر سب اہم سوال بلکہ یوں کہیں پہلا اعتراض یہ ہے کہ اس میں حملہ آوروں کی تحسین و فضائل تو ہیں مگر مقامیوں کی تاریخ و تہذیب کا دور دور تک ذکر نہیں۔
یہ عجیب اس لئے محسوس ہوتاہے کہ یہ خطہ ہند و سندھ اپنی تہذیبی روایات، ثقافت اور علم دوستی کے حوالے سے ہمیشہ مالامال رہا۔ خوشحالی بھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ گو آپس میں لڑائیاں رہیں مگر یہاں سے بیرونی دنیا میں لشکر کشی کی شاید ایک آدھ سے زائد مثال مل ہی نہ سکے۔
زرخیز خطہ تھا سو یہاں حملہ آور تواتر کے ساتھ ’’تشریف‘‘ لاتے ماردھاڑ کرتے اور لوٹ کے لے جاتے رہے۔ ان حملہ آوروں کے خلاف مزاحمت کرنے والے کتنے کرداروں کا ذکر دستیاب تاریخ میں موجود ہے یہ بذات خود سوال ہے اور سوال سے زیادہ تاریخ کے ماتھے پر لگی کالک جسے کسی نے صاف کرنے کی شعوری کوشش ہی نہیں کی۔
اسی طرح ایک معاملہ ہجرتوں کا ہے۔ اس کی بھی ویسے مختلف اقسام ہیں۔ ایک تو وہی کہ فاتح لشکر میں سے کچھ لوگ یہاں آباد ہوئے پھر انہوں نے اس علاقے کی زرخیزی اور وافر ذرائع کا ذکر کرکے اپنے ہم وطنوں کو آنے کی دعوت دی۔ دوسری قسم ان کی ہے جو حملہ آوروں کے ہی آبائی علاقوں سے مفتوحہ علاقوں میں آئے اور تیسری قسم ان کی ہے جو نقل مکانی پر اس لئے مجبور ہوتے ہیں کہ ان کے خاندان یا قبیلوں کو اپنے اپنے وطن میں حکمران طبقات سے جان و مال کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
اب برصغیر کی دستیاب مسلم تاریخ کے ان تین کرداروں، ان کے رویوں اور دوسرے معاملات کو سمجھنا آپ کے لئے زیادہ آسان ہوجائے گا۔
پہلی دو اقسام کے لوگ آج بھی خود کو مقامیوں سے برتر و بزرگ قسم کی مخلوق سمجھتے ہیں اور تیسری قسم کے لوگ چونکہ واپسی کے دروازے بند کرکے جان بچانے کے لئے اس خطے میں پناہ گزین ہوئے تھے ان کا رویہ مختلف ہے انہوں نے خود کو مقامیت میں ڈھال لیا۔
گو ان میں سے کچھ نسلی برتری کے زعم کا شکار رہے اور ہیں مگر اکثریت نے خود کو اسی مٹی، تہذیب و تمدن اور روایات کا وارث سمجھا۔ وجہ یہی تھی کہ وہ جانتے تھے کہ جہاں سے اکھڑ کر آئے ہیں وہاں موت ان کے پُرکھوں کے سروں پر ناچ رہی تھی۔
جہاں آن بسے ہیں یہاں زندگی کے دروازے ان پر کھل چکے اس لئے زندگی کا شکر واجب ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker