تجزیےحبیب خواجہلکھاری

کیا قاسم سلیمانی سعودی عرب اور ایران کے امن مشن پر تھے ؟ حبیب خواجہ

جب محسود افغانستان میں بیٹھا پاکستانیوں کیلئے موت کا فرشتہ بنا ہوا تھا تو پاکستان کیطرف سے ہزارہا احتجاج کے باوجود امریکہ اپنے فرائض کی بجا آوری کیلئے ٹس سے مس نہ ہوا مگر جونہی کسی دیرپا امن کیلئے پاکستان کا طالبان سے سلسلہ جنباتی شروع ہوا ، ادھر امریکہ نے افغانستان میں ایک میزائل حملے میں اسے شکار بنا ڈالا ۔ پاکستان نے بہتیرا احتجاج کیا کہ امن کی کوشش کو امریکہ نے ناکام بنا دیا ، مگر اب کیا ہو سکتا تھا ۔ کئی سیاسی راہنماؤں نے محسود کی موت پر خوشی کا اظہار کیا کہ آخر وہ پاکستان کا دشمن تھا تو دوسری طرف کئی وزراء سمیت بیشمار راہنما اسے شہید قرار دیتے پائے گئے کہ شکار تو وہ امریکی میزائل کا ہوا تھا ۔ امریکہ نے اسے اپنے غضب کا نشانہ تو فقط اس لئے بنایا کہ وہ امن کی پاکستانی پکار پر لبیک کہتے ہوئے امن مزاکرات میں منہمک ہو گیا تھا اور دو مسلمان متحارب گروپوں میں امن امریکہ کو کیونکر بھا سکتا ہے ۔
محسود کی طرح سلیمانی نے بیشک سعودی مفادات کو بیحد نقصانات پہنچایا ہو گا ، مگر یاد رہے کہ امریکہ بھی تو ہر وقت ایران کیساتھ عملی تعاون میں پایا گیا ۔افغانستان تاراج کیا تو ایران کی پروردہ شمالی اتحاد اور دوستم کو طالبان دشمنی میں اقتدار میں لایا اور صدام کی بربادی کے بعد ایران ہی کے پروردہ گروہوں کو عراق کا نا صرف اقتدار سونپا بلکہ ہر قسم کا سیاسی و حربی تعاون جاری رہا ۔ جب یمن اور شام میں سلیمانی سعودی مفادات کو زک پہنچا رہا تھا تو بظاہر تو امریکہ سعودیوں کیساتھ تھا مگر حقیقت میں وہ خود پیدا کردہ داعش کے نام پر ایران اور اس کے حلیفوں کو ہی مزید مضبوط و مستحکم کر رہا تھا کیونکہ صرف ایران کے بطور سعودی دشمن مضبوط اور مستحکم ہونے سے ہی امریکہ کی سعودی عرب میں دال گل سکتی تھی ۔ مقصد سعودیہ کے دفاع کے نام پر ایران کو ایک ہوا اور خطرہ بنانا تھا تاکہ امریکہ کے ہتھیار بکیں اور دفاعی روابط مضبوط سے مضبوط تر ہو سکیں اور سعودیہ کے دفاع کا کوئی طویل الوقتی معاہدہ حاصل کر سکیں کہ جس سے امریکہ کی اسلحہ انڈسٹری چلتی رہے تو اِدھر اُدھر فارغ ہوتی امریکی سپاہ کو بھی کہیں ٹھکانہ میسر آ جائے اور برباد امریکی معیشت کو بھی سہارا مل جائے ۔
امریکہ کے سعودی عرب دبئی اور او آئی سی پر اثر و نفوذ کے شاکی مسلمان ممالک نے ترکی، ملائشیا اور پاکستان کی سرکردگی میں ایک نیا اسلامی الائنس بنانا چاہا تو امریکہ نے سعودی دباؤ سے پاکستان کو اس میں شرکت نہ کرنے دی مگر پاکستان نے عزم ظاہر کیا کہ وہ سعودی عرب اور ایران کے بیچ مصالحت کاری کا کردار جاری رکھے گا ۔ عراق جس کے امریکہ کیساتھ فوجی و سیاسی روابط تھے ، اس نے بھی روایتی عرب دوست سعودی عرب اور ہم مسلک ایران کے بیچ مصالحت کاری کا بیڑہ اٹھایا ۔
جنرل سلیمانی مصالحت مشن کے ایرانی سہولت کار تھے جو ایران سعودی ممکنہ امن مذاکرات کے لئے دو حکومتوں کے درمیان شٹل ڈپلومیسی متحرک کر رہے تھے ۔ ایرانی اعلی قیادت کا پیغام عراقی قیادت کے ذریعے سعودیوں تک اور پھر سعودی قیادت کا پیغام و تجاویز عراقی قیادت سے ہوتا ہوا جنرل سلیمانی کے ذریعے ایرانی قیادت تک پہنچ رہا تھا ۔
امریکہ اس سارے پراسیس پر نظر رکھے ہوئے تھا ۔ جب اسے معلوم ہوا کہ مذ کورہ کاوشوں سے برف پگھلنے کے آثار شروع ہو چکے ہیں تو انہیں ممکنہ امن کیسے ہضم ہو تا؟ عراق اور افغانستان سے نکلنے والی افواج کہاں جاتیں ، اسلحہ انڈسٹری بلا تعطل کیسے چلتی ، امریکی اکانومی کا ایک طویل الوقتی سہارا کیسے ٹوٹنے دیں . اس سے بھی اہم اور فوری فائدے کیلئے کیوں نہ ٹرمپ انتظامیہ صدر کے مواخذے کی تحریک کیطرف سے توجہ کسی بیرونی ایکشن کے ذریعے ہٹا دے ۔ ایک ایسا ایکشن جس سے فوری فائدہ تو حکومت کے اپنے اعتماد کی بحالی ہو جبکہ دور رس اور دیرپا مفادات اسلحہ ، فوج اور اکانومی کی ضمن میں حاصل کئے جا سکیں . بہت زیادہ سوچ و بچار کے بغیر وہ کچھ کرنے کی ٹھانی گئی جو کبھی تو سعودیوں کی عین خواہش کیمطابق ہوتا مگر اب وہ تلملا اٹھے ہیں . امریکی ڈرون نے بغداد کی فضاؤں سے جب سلیمانی کو نشانہ بنایا تو وہ امن مشن پر پیغامات کے تبادلے کیلئے ایران سے پہنچا ہی تھا اور اگلے دن اسے عراق کے صدر سے ملاقات کرنا تھی . یوں امریکہ نے یمن اور شام میں عین حالت جنگ کے برعکس اسے اس وقت قتل کر دیا جب جنگیں ٹھنڈی پڑ چکی تھیں اور سلیمانی دو مسلم ممالک کے بیچ امن مشن پر تھا .
سعودیہ شاک اور غصے میں ہے مگر تاثر دینے کی پوزیشن میں نہیں ۔ مگر سلیمانی چونکہ امریکی میزائل کا شکار بنا ہے ، سب کیلیے شہید قرار پایا ہے .
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان مصالحت کیلئے اپنی کوششیں تیز کر دے ، اپنی عوام اور اسلامی دنیا کو باور کرائے کہ یہ شیعہ سنی کی جنگ نہیں بلکہ اغیار کی سازش ہے .

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker