کالملکھارینصرت جاوید

نون لیگ کے ساتھ کیا لین دین ہوا ؟ ۔۔ نصرت جاوید

سیاست بنیادی طورپر ممکنات کا کھیل ہے۔اقتدار کا حصول اس کا حتمی ہدف ہوتا ہے اور اقتدار کے حصول کے بعد اسے ہرصورت برقرار رکھنے کی خواہش۔شاعری اور اساطیری داستانوں میں گرجتے برستے الفاظ کے ساتھ بیان کردہ ’’اولعزمی اورثابت قدمی‘‘ وغیرہ کے ساتھ عملی سیاست کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
پانامہ دستاویزات کے اپریل 2016میں انکشاف کے بعد نواز شریف کی تیسری حکومت کے خلاف ایک فیصلہ کن مہم برپا ہوئی۔نون کے حامیوں کی جانب سے اس ضمن میں دکھائی ’’مزاحمت‘‘ درحقیقت اپنی حکومت کو بچانے کی کوششیں تھیں۔اپنے قائد کی سپریم کورٹ کے ہاتھوں تا حیات نااہلی کے باوجود وہ اپنی جماعت کی آئینی مدت مکمل کرنے میں کامیاب رہے۔بعدازاں جولائی 2018کے انتخابات ہوئے۔ نون کے نام سے منسوب جماعت نے ان انتخابات کو اپنے قائد کے مرتب کردہ ’’بیانیے‘‘ کے ساتھ لڑا۔ اکثریت حاصل نہ کرپائی۔جائزوناجائز وجوہات کی بناء پر دہائی مچانے لگی کہ اس سے یہ انتخاب ’’چھین‘‘ کر عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کے ’’سپرد‘‘ کردیا گیا ہے۔اسی باعث وزیر اعظم کے لئے “Selected”کی پھبتی ایجاد ہوئی۔
بنیادی بات مگر ہم طعنہ زنی کی برسات میں فراموش کرگئے۔جولائی 2018کے انتخابات کے ذریعے قائم ہوئی قومی اسمبلی کا اجلاس طلب ہوا تو اس میں نون کے ٹکٹ پر ایوان میں آئے اراکین بہت ذوق وشوق سے حلف اٹھانے پہنچ گئے۔مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف کو وہ وزیر اعظم منتخب کروانہیں سکتے تھے۔ انہیں قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف کی نشست ومراعات دلوانے میں البتہ اپنی پوری توانائی صرف کردی۔بعدازاں بہت دھوم دھڑکے سے انہیں قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کاچیئرمین بھی منتخب کروالیا گیا۔اس کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت میں شہباز صاحب نیب کی ’’حراست‘‘ میں ہونے کے باوجود ’’پروڈکشن آرڈر‘‘ والی سہولت سے اس کمیٹی کے اجلاس بلواتے رہے۔
جولائی 2018کے انتخابات کے ذریعے قائم ہوئی قومی اسمبلی میں بطور رکن حلف اٹھالینے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (نون) نے درحقیقت اپنے نام نہاد ’’بیانیے‘‘ کو فراموش کردیا تھا۔وہ ’’سسٹم‘‘ میں رہتے ہوئے ’’اسی تنخواہ‘‘ میں گزارہ کرنے پر آمادہ ہوگئی۔’’سسٹم‘‘ کو ’’برقرار‘‘ رکھنے کے لئے سمجھوتوں کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔شہباز صاحب اور ان کی ’’فراست‘‘ کے معتقد نون کے لاحقے والی مسلم لیگ کے ’’سنجیدہ اور تجربہ کار‘‘ رہ نمائوں کی اکثریت ’’سسٹم‘‘ میں رہتے ہوئے لہذا اپنی سیاسی بقاء کو یقینی بنانے کے لئے سمجھوتوں والی ’’خوش خبریاں‘‘ سننے کو کئی ماہ قبل ہی تیار ہونا شروع ہوگئی تھی۔
عمران خان صاحب ان کی صفوں میں مایوسی پھیلانے کے لئے تواتر سے ’’میں NROنہیں دوں گا‘‘ والی تڑی لگاتے رہے۔ احتساب بیورو کی جانب سے ہوئی گرفتاریوں نے ان کے پیغام کو مزید مؤثر دکھایا۔رانا ثناء اللہ کی مبینہ طورپر منشیات فروشی کے الزام میں ہوئی گرفتاری نے بلکہ بے تحاشہ مسلم لیگی رہ نمائوں کو خوف میں مبتلا کردیا۔
آج سے چند ماہ قبل مگر نون کے لاحقے والی مسلم لیگ کو ’’خیر‘ کی خبریں ملنا شروع ہوگئیں۔ہماری تاریخ کا انہونا واقعہ یہ بھی ہوا کہ احتساب عدالت سے باقاعدہ طورپر ’’سزا یافتہ‘‘ نواز شریف صاحب جیل سے ہسپتال لائے گئے۔ بعدازاں ان کی تشویش ناک بیماری کے علاج کی خاطر انہیں عدالت سے بیرون ملک جانے کی اجازت بھی مل گئی۔
نواز شریف صاحب کی علاج کی خاطر بیرون ملک روانگی کے بعد ان کے نام سے منسوب ’’بیانیے‘‘ کی بابت سوشل میڈیا پر پُرجوش نظر آنے والے ہجوم کو اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے یہ دریافت کرلینا چا ہیے تھا کہ شہباز شریف کا ’’بیانیہ‘‘-جس کی بھرپور وضاحت ابھی تک میسر نہیں- کامیاب ہوگیا ہے۔باقی سب کہانیاں ہیں۔
سوشل میڈیا پر متحرک جذبات سے مغلوب ہوئے نوجوانوں کا مجھ جیسے جھکی بوڑھوں کی جانب سے مذاق اڑانا مگر زیادتی ہوگی۔ان نوجوانوں میں امید کی لوجگائے رکھنے میں نواز شریف صاحب اور ان کی دُختر نے اہم ترین کردار ادا کیا۔وہ مسلسل ’’بڑھے چلوکہ ابھی منزل نہیں آئی‘‘ والا پیغام دیتے رہے۔ان کی جانب سے پھیلایا یہ پیغام نیک طینت نوجوانوں کو بلکہ اس شک میں مبتلا کررہا کہ شاید شہباز صاحب اپنے بھائی کے ساتھ ’’بردارِ یوسف‘‘ والا برتائو کررہے ہیں۔
شہباز صاحب کے اندازِ حکمرانی اور سیاست کا میں کبھی مداح نہیں رہا۔ ہمیشہ انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔انہیں ’’برادرِیوسف‘‘ قرار دینا مگر میرے لئے بھی ناممکن ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف صاحب اپنی عمر کے آخری حصے میں داخل ہونے کے بعد بنیادی طورپر تھک ہار کر مایوس ہوچکے ہیں۔ذاتی طورپر وہ شدید احساس جرم میں بھی مبتلا ہیں۔اپنے قریبی لوگوں سے اکثر بیگم کلثوم نواز شریف کا ذکر کرتے ہیں اور عموماََ اس ضمن میں تاسف کا اظہار کہ وہ انہیں بے ہوشی کے عالم میں لندن کے ایک کلینک میں بستر پر چھوڑ کر گرفتاری دینے لاہور پہنچ گئے۔اپنی وفاشعار اہلیہ کو بسترمرگ کے حوالے کردینے کے بعد وطن لوٹ کر انہیں سیاسی اعتبار سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔احتساب عدالت سے بلکہ طویل المدتی سزا ملی۔جیل میں ان کی صحت مزید خراب ہوگئی۔
شاید اگر ان کی ذات ہی آفتوں کا نشانہ ہوتی تو وہ اسے برداشت کرلیتے۔ شدید قلق انہیں اس ضمن میں بھی لاحق ہوگیا کہ ان کی عزیز ترین دُختر بھی جیل میں ’’عادی مجرموں‘‘ کی طرح رکھی جارہی ہیں۔ نواز شریف صاحب ان دنوں اس بحران سے گزر رہے ہیں جہاں ہر شے ’’بے ثمر‘‘ نظر آنا شروع ہوجاتی ہے۔سیاسی جنگیں لڑنے کا حوصلہ برقرار نہیں رہتا۔اس ضمن میں کئی برسوں تک پھیلی تگ ودو بلکہ رائیگاں والا سفر محسوس ہوتی ہے۔
شہباز صاحب کو اپنے بڑے بھائی کے ’’رائیگاں‘‘ والے سفر کے کرب کا بھرپور احساس ہے۔وہ پاکستانی سیاستدانوں کی محدودات کو جبلی طورپر تسلیم کرتے ہیں۔’’سسٹم کے اندر‘‘ رہتے ہوئے اقتدار کا کھیل کھیلنے کے عادی ہیں۔سمجھوتوں کی اہمیت کو محسوس کرتے ہیں۔ اپنے تئیں وہ بہت خلوص سے اپنے تھکے ہارے اور ’’رائیگاں‘‘ کے غم میں مبتلا بڑے بھائی کو چین کی چند گھڑیاں فراہم کرنے کی تگ ودو میں مصروف ہیں۔ انہیں دوش دینا اس لئے بھی ممکن نہیں ہے کیونکہ اپنی کوششوں میں وہ نظر بظاہر اب تک ’’کچھ ‘‘ حاصل کرتے بھی نظر آتے رہے ہیں۔’’کچھ‘‘ حاصل کرنے کے لئے ’’کچھ‘‘ دینا بھی پڑتا ہے۔شہباز شریف صاحب کی قیادت میں نون کے لاحقے والی مسلم لیگ اپنے حصے کا ’’کچھ‘‘ دینے کو اب تیار ہوگئی ہے۔
دونوں بھائیوں کی سہولت کے لئے جو لین دین ہوا ہے وہ ’’بیانیے‘‘ سے جڑے بے تحاشہ لوگوں کو پریشان کئے ہوئے ہے۔مایوسی کے اس عالم میں مگر اہم ترین پیغام یہ بھی مل رہا ہے کہ وطنِ عزیز میں سیاسی جماعتیں حقیقی معنوں میں سیاسی جماعتیں نہیں ہیں۔یہاں عمران خان،نواز شریف یا آصف علی زرداری جیسے ’’لیڈر‘‘‘ ہیں۔ان سے وابستہ گروہ ہیں جن پر ’’سیاسی جماعتیں‘‘ ہونے کی تہمت لگائی جاتی ہے۔فیصلہ سازی کے لئے ان ’’جماعتوں‘‘ میں Top Downرویہ اپنایا جاتا ہے۔اہم ترین سیاسی فیصلے کرنا ہوں تو ان ’’جماعتوں‘‘ میں ’’سنٹرل ورکنگ کمیٹی ‘‘ یا ’’ پارلیمانی پارٹی‘‘ جیسے اداروں میں وسیع تر مباحثے نہیں ہوتے۔ جو چاہے لیڈرکا ’’حسنِ کرشمہ ساز‘‘ کردیتا ہے اور ان لیڈروں کے مداحین ہکا بکا رہ جاتے ہیں۔
مایوسی کا موجودہ موسم چھٹ جائے تو یقینا وطن عزیز میں سیاسی اعتبار سے ایک نئی روایت جنم لے گی جہاں سیاسی اذہان اپنی انفرادی سوچ وترجیحات کی بنیاد پر اپنے ساتھی اور ہم نوا تلاش کریں گے۔ان سے بھرپور روابط کے بعد حقیقی معنوں میں نئی ’’سیاسی جماعتوں‘‘ کی تشکیل کے امکانات رونما ہوں گے۔اندھی نفرت ومحبت پر مبنی تقلید سے نجات کی راہیں دریافت ہوں گی۔

( بشکریہ : روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker