تجزیےحامد میرلکھاری

حامد میر کا تجزیہ : عمران خان پاکستان کو تباہی کے دہانے پر دھکیل رہے ہیں

سابق وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سے محرومی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ رواں برس کی ابتدا میں پارلیمنٹ نے عدم اعتماد کے ووٹ سے انہیں وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹایا تھا۔ پاکستان کی تاریخ میں اس عمل کی مثال نہیں ملتی۔ عہدے سے محروم ہونے سے پہلے عمران خان نے کھل کر اپنے مخالفین کے خلاف جنگ کا اعلان کیا: ”میں آپ کو انتباہ کر رہا ہوں کہ اگر مجھے حکومت سے نکالا گیا تو میں آپ کے لیے زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا۔“ اب وہ اگلے چند مہینوں میں اقتدار میں واپسی نہ ہونے کی صورت میں خونی خانہ جنگی کے خدشات کو ہوا دے کر اس دھمکی کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حالیہ برسوں میں، عمران خان نے پولرائزیشن اور تقسیم کی مقبولیت پسند حکمت عملی کے ذریعے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب، وہ پارلیمنٹ کے ہاتھوں اپنی شکست کو پلٹنے کے لیے اسی حکمت عملی پر بھروسا کر رہے ہیں۔ بھلے اس کا مطلب آئینی اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو۔ زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 20 لاکھ ارکان کو مئی کے آخری ہفتے میں اسلام آباد لانے کا اعلان کیا ہے تاکہ وہ اقتدار پر اپنا دعویٰ ثابت کر سکیں اور مخالفین کو ڈرا سکیں۔ یہ افواہ ہے کہ ان کے حامی وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں قائم مخلوط وفاقی حکومت کو کام سے روکنے کے لیے پارلیمنٹ اور دیگر عوامی عمارتوں کو گھیرنے کی کوشش کریں گے۔
عمران خان نے گمراہ کن حب الوطنی اور مختلف غلط بیانیوں کے ملغوبے سے اپنے حامیوں کے جذبات بری طرح بھڑکا دیے ہیں۔ ان کے کارکن پہلے ہی سے ان لوگوں سے دو دو ہاتھ کرنے کے لئے بے چین ہیں جنہیں وہ نہ صرف اپنے سیاسی مخالفین بلکہ ”غدار“ سمجھتے ہیں۔ عمران خان خاصے پرامید ہے کہ وہ دو ماہ کے اندر نئے انتخابات کے اپنے مطالبے کو آگے بڑھانے کے لیے ہجوم کو بروئے کار لا سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی اس مہم کو ”آزادی مارچ“ کا نام دیا ہے۔ سوال ہے کہ وہ کس چیز سے آزادی چاہتے ہیں؟ عمران خان کے پیروکاروں کی نظر میں وہ غیر ملکی مداخلت سے آزادی چاہتے ہیں۔ یہ نعرہ اقتدار میں واپسی کے لئے عمران خان کے منصوبوں کی کلید ہے۔ وہ حکومت میں اپنی (مایوس کن) کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ امریکہ مخالف سازشی تھیوری کو آگے بڑھا کر اگلا انتخاب جیتنے کی امید رکھتے ہیں۔ عمران خان کا موقف ہے کہ انہیں بائیڈن انتظامیہ کے حکم پر پاکستانی سیاست دانوں نے اقتدار سے معزول کر دیا تھا تاکہ عمران خان کو (مبینہ) امریکی ہدایات سے سرتابی کی سزا دی جائے۔
عمران خان کے حامی اس پیغام کو پھیلانے کے لیے غلط معلومات کی بنیاد رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی ہر نصابی تکنیک استعمال کر رہے ہیں۔ وہ ٹویٹر پر کٹھ پتلی شناخت سے مصنوعی پیغامات سے لے کر لمبی چوڑی جعلی کہانیوں تک ہر حربہ آزما رہے ہیں۔ عمران خان نے حال ہی میں فاکس نیوز کا ایک ویڈیو کلپ خود شیئر کیا جس میں ٹرمپ کی حامی تجزیہ کار ربیکا گرانٹ نے کہا کہ پاکستان کو یوکرین کی حمایت کرنی چاہیے اور امریکہ مخالف پالیسیاں ترک کرنی چاہئیں۔ تاہم عمران خان نے یہ بتانا مناسب نہیں سمجھا کہ ربیکا گرانٹ واشنگٹن انتظامیہ کی نمائندہ نہیں ہیں بلکہ ذاتی حیثیت میں بات کر رہی تھیں۔ پاکستانی تجزیہ کاروں نے اس کہانی کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے۔رائے عامہ کے حالیہ جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ بہت کم پاکستانی عمران خان کے دعووں پر یقین کر رہے ہیں۔ ملک کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت نے متفقہ طور پر عمران خان کے موقف کو واقعاتی طور پر غلط قرار دیا ہے تاہم عمران نے ذمہ دار حلقوں سے آنے والی تردید پر کان دھرنے سے انکار کر دیا ہے۔ وہ بے دھڑک اپنے حامیوں سے فنڈ اکٹھے کر رہے ہیں تاکہ نئی حکومت کے خلاف مزاحمت کی جا سکے۔ عمران موجودہ مخلوط حکومت کو ”درآمد شدہ“ قرار دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ امریکہ اور برطانیہ سمیت مختلف بیرونی ممالک میں موجود حامیوں سے بھی عطیات وصول کر رہے ہیں اور بظاہر عمران خان اور ان کے حامیوں کو اس واضح منافقت سے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی۔
ان کے پیروکار جنونی انداز میں اپنے خلاف دھمکیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ خوفناک پیش گوئیاں کرتے ہیں کہ موجودہ سیاسی تعطل خونریزی کا باعث بنے گا۔ پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے اپوزیشن پر عمران خان کے قتل کی سازش کا الزام لگایا ہے۔ تحریک انصاف کے ایک اور رہنما نے خود اپنے قتل کی منصوبہ بندی کا دعویٰ کیا ہے۔ امن و امان کے خدشات ظاہر کر کے دراصل عمران خان کے حامی عملی طور پر فوج سے سیاست میں مداخلت کرنے یا پھر منفی نتائج کا سامنا کرنے کی چتاؤنی دے رہے ہیں۔ عمران خان خود فوج کی قیادت کو بالواسطہ للکار رہے ہیں۔ کچھ دن پہلے انہوں نے 18 ویں صدی کی ایک بنگالی فوجی شخصیت (میر جعفر) کا نام لیا جس نے برطانوی نوآبادیاتی قوتوں کے ساتھ تعاون کیا جس کی بنا پر اسے برصغیر کے مشہور ترین غداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہر کوئی اس پیغام کو سمجھ گیا۔ عمران خان کا مطلب یہ تھا کہ آرمی لیڈر آج کے غدار ہیں کیونکہ وہ تخیلاتی غیر ملکی سازشوں کے خلاف اس کا ساتھ دینے سے انکار کرتے ہیں۔ فوج نے ترنت ردعمل دیتے ہوئے ایک بیان جاری کیا جس میں فوج کو ”ملک میں سیاسی گفتگو“ میں گھسیٹنے کے خلاف خبردار کیا گیا تھا۔ (عمران خان نے بعد ازاں یہ دعویٰ کر کے مشکل سے نکلنے کی کوشش کی کہ وہ فوج پر نہیں، شہباز شریف پر غداری کا الزام لگا رہے تھے۔ )
عمران خان خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے عملی طور پر پارلیمنٹ، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے۔ اب وہ فوج کی مخالفت بھی کر رہے ہیں۔ ریاست کے اداروں کو براہ راست چیلنج کر کے وہ پاکستانی معاشرے کو تباہی کے دہانے پر دھکیل رہے ہیں۔ شواہد بتاتے ہیں کہ یہ ادارے جوابی حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ الیکشن کمیشن جلد ہی ممنوعہ فارن فنڈنگ کے اس مقدمے کا فیصلہ سنا سکتا ہے جو عمران خان کے خلاف 2014 سے چل رہا ہے۔ ایک سینئر وزیر نے حال ہی میں مجھے بتایا کہ ان کے پاس مقدمات کھولنے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں نیز یہ کہ عمران خان اپنے خلاف ممکنہ کارروائی سے بچنے کے لئے فوری انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
9 مئی کو شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے عمران خان پر ریاستی اداروں کے خلاف ”زہر“ اگل کر جمہوریت کو کمزور کرنے کا الزام لگایا، ”اگر اسے قانون اور آئین کے ذریعے نہ روکا گیا تو خدا نخواستہ ہمارا ملک شام اور لیبیا جیسا خوفناک نمونہ بن جائے گا جہاں کے شہر قبرستانوں میں بدل چکے ہیں“ ۔ پاکستان میں سیاسی کشیدگی اپنی انتہا پر ہے۔ امید کرنی چاہیے کہ جمہوریت کی علمبردار قوتیں موجودہ بحران سے نکلنے کا راستہ نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔

بشکریہ: واشنگٹن پوسٹ
ترجمہ: وجاہت مسعود

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker