ادبڈاکٹر حنیف چودھریلکھاری

کچھ یادیں کچھ آنسو:حشمت وفا کی ذاتِ نہاں کا بند دروازہ ۔۔ ڈاکٹر حنیف چودھری

41 برس پہلے حشمت وفا ہم سے بچھڑا تھا۔ حشمت تمہارے جانے کے بعد میرے اور تمہارے اخبارات پر کیا قیامت بیتی سنو گے تو تمہاری روح تڑپ اٹھے گی۔ نواز شریف نے 1990 ءمیں وزیر اعظم کا حلف اٹھاتے ہی سب سے پہلا جو حکم جاری کیا وہ روزنامہ پاکستان ٹائمز ، روزنامہ امروز، روزنامہ مشرق اور سپورٹس ٹائمز کی بندش کا تھا۔ گویا ان تمام اخبارات کے ملازمین کا معاشی قتل کیا گیا۔ ان اخبارات کے ملازمین رات کی شفٹ میں کام کر کے گھروں کو جا چکے تھے کہ سوتوں کو جگا کر ان کے قتل کا حکم سنایا گیا اور خود حاکم چنگیز خاں بن کر رعایا کا خون چار سال تک پیتا رہا۔
حشمت وفا تم اس قتل سے بچ گئے۔ ان اخبارات کے سربریدہ ملازمین کے ساتھ نہ گولڈن شیک ہینڈ کیا گیا نہ پنشن دی گئی۔ تم امروز کے غلام علی چوکیدار کو جانتے ہونااس کا والد، قتل کے اس حکم سے ہی حالات کے قبرستان میں ایک نئی قبر کا اضافہ کر گیا۔ کاپی پیسٹر محمد رفیق کی اہلیہ اسی رات معاشی قتل کی بھینٹ چڑھ گئی۔ ہیڈ کاتب یوسف بٹ سکتے کے عالم میں دماغی توازن کھو بیٹھا اور میں کیا کیا گنواﺅں ، کون کہاں گیا۔ اور کون گدائی پر مجبور ہوا۔ وفا صاحب میں صرف ایڈیٹوریل کے سٹاف کی بات کر رہا ہوں۔ معاشی تختہ دار پر چڑھائے گئے سٹاف میں سوائے اپنی پیاری بہن لیڈی رپورٹر، نوشابہ نرگس، سپورٹس رپورٹر رشید ارشد سلیمی،سب ایڈیٹر اکمل فضلی، سب ایڈیٹر مسیح اللہ جامپوری اور سب ایڈیٹر مظہر عارف اور اقامتی ریڈر سید سلطان احمد کے باقی سب جنت آشیاں ہو گئے۔ اور اپنے لواحقین کے ساتھ زندگی کی کوٹھڑی میں قید کاٹ رہے ہیں۔
وفا تمہاری یادوں کی آبیاری کے لئے میرے پاس آنسوﺅں کے اور کچھ نہیں یادوں کے پھول زیادہ ہیں اور میرا دامن چھوٹا ہے۔ جب میں پہلے پہل ملا تھا تو تمہارے بھاری پپوٹوں پر برسوں کی نیند منجمد تھی۔ تمہاری آبلہ پا باتیں سب کو اپنی طرف متوجہ کرتی تھیں۔ تمہاری بذلہ سنجی ہر ملنے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتی تھی۔ میں نے بہت کم ایسے لوگ دیکھے ہیں۔
اول اول حشمت وفا روزنامہ امروز کراچی کا نامہ نگار تھا۔ جب امروز ملتان سے نکلنا شروع ہوا تو یہاں کے ایڈیٹوریل بورڈ میں شامل ہو گیا۔ وہ ہر وقت مسکراتا رہتا اوراپنے ساتھیوں کو لطیفے سناتا اور ہنساتا رہتا ۔ پرانے لطیفوں کو حسن رضا گردیزی کی طرح نئے قالب میں ڈھال کر خود سنجیدہ ہو کر دوسروں کو خوب ہنساتا۔
اس نے ایک لطیفہ سنایا تھا کہ کسی شخص کا اسلام الدین نامی دوست ریل گاڑی سے کراچی سے ملتان آرہا تھا۔ وہ لینے کے لئے پلیٹ فارم پر گیا۔ مگر اسلام الدین اسے نہ ملا۔ چنانچہ دوست نے آوازیں دینا شروع کر دیں۔ ہر ڈبے کے پاس جا کر آواز دیتا۔ ”اسلام“، ”اسلام“ اندر سے آواز آتی”زندہ باد“ وہ اگلے ڈبے کی جانب بڑھ کر کہتا۔ ”اسلام “، ”اسلام“ اندر سے آوازیں آتیں ”زندہ باد“، تیسرے ڈبے میں جب آواز دی ”اسلام“ تو پھر اندر سے ”زندہ باد“ کا جواب آیا۔ تو جھلا کر کہنے لگا ”اوئے خدا کے بندو میں اسلام الدین کو آوازیں دے رہا ہوں۔
پھر ایک دن جب اخبار کے اندر کے صفحات چھپنے کے لئے ”کاپی“ جا رہی تھی تو حشمت وفا نے شور مچا دیا۔ ”روکو ،روکو “ ایک چھوٹی سی خبر رہ گئی وہ بنا دیتا ہوں۔ پھر کاپی چھپنے کو دینا۔ چنانچہ انہوں نے ایک سلپ کی خبر بنائی، اس کو مہدی حسن کاتب نے کتابت کی اور مجھے پروف ریڈنگ کروائے بغیر کاپی میں چپکا دی اور اخبار چھپ گیا۔ اگلے روز مسکراتے ہوئے آئے اور وہ اخبار میرے آگے رکھ کر کہنے لگے۔ ”یہ ہے آپ کی پروف ریڈنگ“ میں نے خبر پڑھی۔ اصل میں خبر کسی کی وفات کی تھی کہ ”اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے“ مگر چھپی اس طرح تھی۔”اللہ تعالیٰ لواحقین کو ”جبر جیل“ عطا فرمائے“۔
وفا صاحب جب بھی کسی دوست سے ملتے پہلے لطیفہ سناتے پھر خوب ہنستے اور ہنساتے۔ مگر آج وفا کے الفاظ سیل شب کے اندر بہہ گئے۔ وفا نے اخبار میں دنیا بھر کی خبریں بنائیں مگر اپنی خبر ہمارے لیے چھوڑ گیا۔اقبال ساغر صدیقی مرحوم جب دن کی شفٹ کے انچارج تھے تو وفا صاحب کو ٹیلی پرنٹر کی انگریزی کی خبر ترجمہ کرنے کو دیتے تو اتنا ضرور کہتے۔”وفا صاحب خبر کو مختصر رکھیں“ خبر پڑھ کر وفا صاحب کہتے۔ ”ساغر صاحب بہت بڑی خبر ہے۔“ ویت نام میں بائیں بازو کے فوجیوں نے امریکہ کے ایک سپاہی کو ہلاک کر دیا۔ اصل میں وفا کے ہاں بڑی خبر وہ ہوتی جس میں طبقاتی جدوجہد میں مزدور طبقہ کی کامیابی ہوتی۔ انسانی اقدار کی سر بلندی ہوتی۔
منو بھا ئی مرحوم جب مارشل لائی دور میں سزا کے طور پر اسلام آباد سے ملتان تبدیل ہو کر آئے تو انہوں نے وفا کی وفات پر اپنے کالم ”گریبان“ میں یوں سُرخی جمائی۔
” حشمت وفا کا شہر ہے اور ہم میں دوستو “
وہ اس طرح کالم شروع کرتے ہیں۔
”ماضی کبھی نہیں مرتا۔ ماضی کی روایات، ماضی کی اقدار اور ماضی کے نشان مرتے مٹتے رہتے ہیں مگر اس کے آثار ِ فکر، ادب، اور فن قائم رہتے ہیں۔ “ یہ جملہ میرا نہیں حشمت وفا کا ہے۔ امروز ملتان کے سینئر سب ایڈیٹرحشمت وفا کا 43 برس تک پاکستانی صحافت کی خدمت کرنے کے بعد 10 جنوری کو دل کا دورہ پڑنے سے محراب پور سندھ میں انتقال کر گئے۔ اور اپنے پیچھے ملتان کی بےشمار مزدور تنظیمیں جن میں امروز کی یونین بھی شامل ہے ، دوستوں کا وسیع حلقہ، پنجابی شاعری، ایک بیوہ اور دس بچے اور میرے دل میں چار مہینوں کی یادیں بھی چھوڑ گئے۔“
آج یعنی 2 جنوری 2018 ءکو جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں منو بھائی بھی یادوں کی بے شمار گٹھڑیاں چھوڑ کر ہم سے جدا ہو گئے۔
حشمت وفا کا یہ کہنا کہ انسان کا ماضی کبھی نہیں مرتا اور منو بھائی کا یہ گنگنانا،”حشمت وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو“ میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ میں اگر لکھنے پڑھنے کے کام میں مصروف بھی ہو جاﺅں تو میرے دھیان کی سیڑھیوں پر چپکے چپکے ان دونوں کی یادیں دبے پاﺅں آجاتی ہیں۔
وفا امروز میں دن کی شفٹ کا انچارج تھا۔ ڈاک موصول ہونے پر ذاتی ڈاک کے لفافے متعلقہ دوستوں کو خود ان تک پہنچاتا ۔ بھارت سے میرے نام زیادہ خطوط آتے تو مجھے خطوط دے کر کہتا۔ ”لے حنیف سیاں (سنگھ) اپنی ڈاک۔ ڈاک تو آتی رہی مگر ڈاک تقسیم کرنے والا وفا نہ رہا۔ میں خطوط سے کیسے کہہ سکتا تھا کہ تمہیں دفتر میں تقسیم کرنے والا اب جا چکا ہے۔ تم بھی واپس چلے جاﺅ۔ وفا کے مرنے کی خبر چھپ چکی ہے۔ اب اس کی ترید نہیں ہو سکتی۔
حشمت وفا اور ابن حنیف دونوں کی مروت اور انسان دوستی ایک جیسی تھی۔ ابن حنیف نے امروز میں شمولیت سے پہلے حسین آگاہی میں ”دانش کدہ“ کے نام سے کتابوں کی ایک دکان کھولی۔ کتاب چور نے ابن حنیف کے سامنے کتاب اٹھائی اور چپکے سے شلوار کے نیفے میں اڑاس۔ مرزا ابن حنیف دیکھتے رہے۔ پھر چور صاحب مرزا صاحب سے مصافحہ کر کے آرام سے چلے گئے۔ شبیر حسن اختر نے مرزا صاحب سے کہا کہ آپ چو ر کو پکڑ کر دو تھپڑ رسید کرتے اور کتاب نکال لیتے تو مرزا صاحب نے کہا۔
”اخلاق بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ مروت بھی کوئی شے ہوتی ہے۔“
ایسی ہی صفت حشمت وفا میں بھی تھی۔ وفا صاحب کے سسر جناب محمد افضل نے جو روزنامہ امروز لاہور کے ادارے میں ملازمت کرتے تھے۔ فارغ اوقات میں کتابوں کی خرید و فروخت کا کاروبار بھی کرتے تھے۔ سو دو سو مختلف موضوعات کی کتابیں بھیج دیں۔ تاکہ گزر بسر بہتر ہو سکے۔ وفا صاحب نے گھر کی بیٹھک میں کتابیں رکھ لیں۔ ہفتے کے اندر تمام کتابیں اپنے انجام کو پہنچ گئیں۔ کتاب لے جانے والا مسکرا کر اتنا کہتا:”آپ کے ذوق کی داد دیتا ہوں۔ کتاب لے جا رہا ہوں۔ دو چار دن میں پیسے دے جاﺅں گا“
ایک سال بعد افضل صاحب نے حساب فہمید کیا تو پتہ چلا کہ صرف ڈیڑھ سو روپے وصول ہوئے ہیں۔ ہم دوستوں نے کہا وفا صاحب خریدار دوستوں سے تقاضا کریں۔ تو فرمانے لگے:
”تقاضا دوستی میں دیوار بن جاتا ہے اور دیواریں گھروں کو تقسیم کرتی ہیں۔ کتابیں جاتی ہیں تو جائیں ، میں دوستی کو تقسیم نہیں کر سکتا۔“آج میں ایسے دوستوں کو کہاں سے لاﺅں۔ وفا میرا تجھ کو آخری سلام۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker