حسن نثارکالملکھاری

پرستار اور سہولت کار دوست نہیں ہوتے : چوراہا/ حسن نثار

پچھلے دنوں یہ دلچسپ بحث ہوتی رہی کہ وزیراعظم کے دوستوں کا اس پر خرچ کرنا مناسب ہے یا نہیں؟ تب مجھے اندازہ ہوا کہ ’’دوست‘‘ اور ’’دوستی‘‘ جیسے لفظ استعمال کرتے وقت ہم اکثر انتہائی غیر ذمہ داری سے کام لیتے ہیں۔
شبلی فراز کے ابو احمد فراز نے یونہی نہیں کہا:’’دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا‘‘پرستار اور سہولت کار سب کچھ ہو سکتے ہیں۔
دوست نہیں ہوسکتے اور عمران خان تو یوں بھی بنیادی طور پر بہت ہی ’’تنہا‘‘ اور بے حد “TODAY” قسم کا آدمی ہے جبکہ دوست بننے، بنانے اور یہ رشتہ نبھانے کے لئے بہت ہی خاص قسم کا مزاج اور ’’میٹریل‘‘ درکار ہے جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔
یہ ’’مزاج‘‘ اور ’’میٹریل‘‘ کیا ہے؟ ایک ذاتی مثال سے واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ہمارے ’’بیلی پور‘‘ والے گھر میں چند کمرے میرے دیرینہ دوستوں سے منسوب اور انہی کے لئے مخصوص ہیں مثلاً حفیظ بھائی (حفیظ خان) کا کمرا، صلو بھائی (صلاح الدین درانی) کا کمرا، پتافی بھائی (سردار رجب علی خان پتافی) کا کمرا، ان میں سے حفیظ خان اور صلو درانی کینیڈا ہوتے ہیں۔
ہر روز ان کے بیڈ رومز کی ڈسٹنگ ہوتی ہے اور یہ کمرے صرف ان کی آمد پر کھلتے ہیں۔ پتافی البتہ پاکستان میں ہی ہوتا، جس کی آمد پر اس کی گاڑی کی چابیاں غائب کردی جاتیں تاکہ چند روز ٹھہرے بغیر مظفر گڑھ واپس نہ جاسکے۔
پچھلے سال پتافی بچھڑ گیا، نیند میں ہی ابدی نیند سو گیا۔ کبھی کبھار ’’رولز‘‘ یوں بھی ’’ریلیکس‘‘ ہوتے کہ مسعود داڑھو کو ’’بیلی پور‘‘ میں دیر ہو جاتی تو میں زبردستی روک لیتا کہ اس ’’علاقہ غیر‘‘ میں رات گئے جانا مناسب نہیں تو وہ پتافی کے کمرے میں سو جاتا۔
داڑھو یوں بھی سرتاپا فنکار اور ملنگ آدمی تھا۔ نہ ملے تو لاہور میں رہتے ہوئے بھی ہفتوں نہ ملے اور آ جائے تو دنوں پڑا رہے کہ یونیورسٹی میں بھی وہ ایسا ہی تھا۔
اس وقت بھی اس کی مسحور کن آواز میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔ ’’تم بھلائے نہ گئے ہائے بھلائے نہ گئے‘‘ تقریباً تین برس پہلے یہ ظالم بھی چھوڑ گیا۔ غضب کا مصور تھا، خود تصویر بن گیا۔
اسکول کے دنوں کی یادگار مرا یار تھا صفدر سعید اور ہاکی کا نامور کھلاڑی اولمپیئن ارشد چودھری۔ صفدر سعید کو بچپن میں بوڑھا ہونا پڑا۔ والد اس کے بہت بڑے آڑھتی تھے کہ اچانک فالج کی زد میں آگئے اور صفدر سعید کو میٹرک کے بعد کالج کی بجائے منڈی کا رخ کرنا پڑاکہ کاروبار سنبھالنے کی اور کوئی صورت نہ تھی۔
زندگی بھر کا ساتھ تھا جو اس کی اچانک موت کے بعد بھی قائم ہے۔ وہ بہت خوب صورت ہی نہیں، بہت عجیب بھی تھا اور جو حادثہ پیش آیا وہ عجیب تر تھا۔
فدر سعید کو خود ڈرائیو کرنے سے دلچسپی نہیں تھی لیکن اس روز نجانے کیا ہوا کہ ڈرائیور کی بجائے خود سٹیرنگ سنبھال لیا۔ گاڑی کی رفتار بھی زیادہ نہ تھی کہ اچانک ہارٹ اٹیک کے بعد گاڑی کنٹرول سے نکل کر درخت سے ٹکرا ئی اور صرف یادیں باقی رہ گئیں۔
ارشد چودھری کو سکول کے دنوں سے ہی مجھے سیاست میں دھکیلنے کا شوق نہیں جنون تھا جو گورنمنٹ کالج لائل پور تک قائم رہا، لیکن مجھے سیاست کے نام سے ہی نفرت تھی۔
ارشد کے پورے خاندان کی وجہ شہرت ’’ہاکی‘‘ تھی۔ اختر رسول کے والد چاچا غلام رسول ارشد کے سگے چچا اور سسر بھی تھے، دوسرے چاچا امین جو آئی جی پنجاب بھی رہے۔
ان کی وفات کے بعد ان کی آپ بیتی کو عنوان بھی میں نے دیا، اس کا دیباچہ بھی میں نے لکھا۔ اختر رسول سے لے کر ارشد چودھری تک سارا خاندان ہاکی کے سٹارز پر مشتمل تھا۔
میں انٹر کے بعد نیو کیمپس آگیا، وہ لائل پور سے گریجوایشن کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور، لیکن رشتہ دوستی کا اٹوٹ رہا۔ اس کا ’’سینس آ ف ہیومر‘‘ دنیا جہاں سے نرالا تھا۔
وہ میرے والد کو ’’اشوک انکل‘‘ کہتا کہ مشابہت کے علاوہ وہ چین سموکر تھے اور ان کا اپنا ہی سٹائل تھا۔ ریاض قادر کو وہ مرلی منوہر اور اعظم کو ’’آجاکریک‘‘ کہتا۔
بیٹے کی شادی پر میں ’’سلامی‘‘ اس کی جیب میں ٹھونس رہا تھا کہ بولا ’’ڈال رہے ہو کہ نکال رہے ہو‘‘۔ زندگی بھر ایک بھی غیر ملکی دورہ ایسا نہیں جس کےبعد وہ الم غلم تحائف نہ اٹھا لایا ہو۔
جب کیریئر کا آغاز کیا ماہنامہ ’’دھنک‘‘ سے تو دوستوں کی دیوار ساتھ چلتی۔ عادتیں بگڑی ہوئی تھیں۔ معقول تنخواہ کے باوجود آمدنی اور اخراجات میں کوئی توازن نہ تھا لیکن مجال ہے جو کبھی ایک لمحہ ملال کا آیا ہو کہ رنگ برنگی گاڑیاں ہر وقت ڈسپوزل پر۔
اللّٰہ بخشے طارق سجاد جان، صوفی شاہد حسن، شہزاد ہمایوں، عرفان ملک اور میجر جاوید امین بادلوں کے سائے کی مانند، عرفان ملک اور جاوید امین سینئر تھے۔
عرفان بینک آف امریکہ (لاہور بینک سکوائر) میں افسر تھا تو ہم سارے ہی افسر تھے۔جاوید امین مرحوم مولانا عبدالمجید سالک صاحب کا نواسا اور ڈاکٹر عبدالسلام خورشید صاحب کا بھانجا اور شہزادہ ہمایوں نام کا شہزادہ نہیں، سچ مچ کا افغان شہزادہ ہے۔
طارق سجاد جان جوانی میں ہی کینسر کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اس کی ان دنوں کی تصویر آج بھی ہمارے گھر کی زینت ہے جب وہ پی ٹی وی پر انگریزی خبریں پڑھا کرتا۔
جاوید امین کو رخصت ہوئے بھی برسوں بیت گئے۔ مقبول ملک، پرنس برکت، اعجاز بائی گاڈ، تاجی، افضل ایاز، انعام الرحیم کس کس کو یاد کروں کہ رات سونے سے پہلے والدین کے بعد ان سب کو دھیان میں لا کر ان کی مغفرت کے لئے دعا مانگتا ہوں تو خدا جانتا ہے، جی جان پہ کیا گزرتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ پرستار اور سہولت کار دوست نہیں ہوتے۔دوست اور دوستی کی تو دنیا ہی کچھ اور ہے جو ہر کسی کو نصیب نہیں۔

بشکریہ : روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker