حسن نثارکالملکھاری

ہر سالگرہ ری مائنڈر ہوتی ہے۔۔حسن نثار

باپ دادا کے ہوتے ہوئے ’’سالگرہ‘‘ منانے کا کلچر موجود نہیں تھا سو میں نے بھی یہ روایت جاری رکھی اس لئے بچوں پر بھی اس کے اثرات بہت واضح ہیں۔ سالگرہ ’’منانے‘‘ کا دور دور تک کوئی رواج نہیں اور مجھے تو سالگرہ یاد بھی نہیں ہوتی۔ بچے، بہن بھائی ’’وش‘‘ کریں تو احساس ہوتا ہے کہ آج تو 5جولائی ہے جسے پیپلز پارٹی باقاعدہ یوم سیاہ کے طور پر مناتی ہے کہ یہی وہ تاریخ ہے جب ملک پر ’’ضیائی‘‘ اندھیرا چھایا، ملک میں منافقت عام ہوئی، سیاست کو باقاعدہ تجارت میں تبدیل کر دیا گیا سو اگر میری سالگرہ کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ خوشی ہوتی ہے۔یوں بھی سالگرہ درحقیقت یوم سوگ ہی ہوتی ہے، اسی لئے برسوں پہلے کسی جوانی والی سالگرہ پر ہی یہ شعر کہارستے پہ عمر کی مرا پاؤں پھسل گیااک اور سال پھر مرے ہاتھوں نکل گیازندگی بند مٹھی سے ریت کی طرح پھسل جاتی ہے اور آدمی مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ لڑکپن سے لے کر آج تک اک پنجابی گیت مجھے فیسی نیٹ ہی نہیں بری طرح ہانٹ بھی کرتا ہے اور اس کا پہلا بول ہی معرفت کے کلام سے کم نہیں۔’’پنچھی تے پردیسی جا کے نیئوں اوندے‘‘فانی انسان تو پنچھی بھی ہے اور پردیسی بھی۔
یہ کرہ ارض پردیس ہی تو ہے جہاں ہم لوگ کچھ عرصہ کیلئے آتے ہیں اور پھر کبھی نہ آنے کیلئے اپنے اصل دیس لوٹ جاتے ہیں۔ روح کا قفس عنصری سے پرواز کر جانا کسی پنچھی کا پنجرہ چھوڑ جانا نہیں تو اور کیا ہے؟ گوتم بدھ نے صحیح کہا تھا ’’دنیا دکھوں کا گھر ہے‘‘ اور یہ بھی سو فیصد درست ہے کہ ’’پلوں پر گھر نہیں بنایا کرتے۔‘‘ جانے کس سیانے کا قول ہے کہ زندگی اک بہت ہی چھوٹے سے کمرے کی مانند ہے جس میں آدمی ایک دروازے سے داخل ہو کر دوسرے دروازے سے باہر نکل جاتا ہے۔ اسے آپ دریا میں فنا ہونے والی عشرت قطرہ کہہ لیں یا وہ جو قاسمی صاحب نے لکھا تھاکون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گامیں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گایا وہ جو شاہ جی نے فرمایابلھے شاہ اساں مرنا ناہیںگور پیار کوئی ہورجس طرف سے جیسے بھی آؤ، باٹم لائن ایک ہی ہے۔مٹی میں سلائے گئے، آگ میں جلائے گئے، پرندوں کو کھلائے گئے یا پانیوں میں بہائے گئے، بات ایک ہی لفظ پر ختم ہوتی ہے اور وہ لفظ ہے _____ گئے۔‘‘پنچھی بھی گئے، پردیسی بھی گئے اور دونوں ہی جا کے واپس کبھی نہیں آئے۔جا کر کبھی آیا نہ وہرستے ترستے رہ گئے۔
کئی سال پہلے اپنی ہی کسی سالگرہ پر یہ بھی لکھا تھابوڑھی سوچیں میرے چہرے سے چپک کر رہ گئیں میں جواں عمری میں ہی صدیوں پرانا ہو گیازندگی ایسا طلسمی زندان ہے کہ قیدی اس کے عشق میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور رہائی پر دہائی دینے لگتے ہیں۔ خوش بخت ہیں وہ لوگ، بابرکت ہیں وہ لوگ جو اس لمحہ کیلئے ہر لمحہ تیار رہتے ہیں۔ ’’ادھار‘‘ واپس کرنا اور خوشدلی سے کرنا اعلیٰ تربیت کا ادنیٰ سا ثبوت ہے۔جان دی، دی ہوئی اسی کی تھیحق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہواپہلی بار ایسا ہوا کہ سوشل میڈیا پر بہت سے مہربانوں نے ’’ہیپی برتھ ڈے‘‘ کہا۔ میں رسماً نہیں دل کی گہرائیوں سے ممنون ہوں اور ملتمس بھی کہ دعا کریں یہ باقی زندگی بھی ایسی ہو کہ اور کچھ نہیں تو بھرم ہی رہ جائے، ایسا کچھ کبھی ریکارڈ نہ ہو کہ اپنے ہونے پر شرم آئے کہ زندگی جیسی امانت میں خیانت کا بوجھ انسانی کندھے اٹھا ہی نہیں سکتے۔LEONARDO DA VINCIکے ایک جملے کا ترجمہ ہے’’جیسے عمدگی سے گزارا ہوا دن اک پُرسکون نیند کی ضمانت ہے اسی طرح خوبصورتی سے گزاری ہوئی زندگی پُرسکون موت کی ضمانت ہے۔‘‘عام تاثر ہمارے ہاں یہی ہے کہ اہل مغرب موت کے حوالہ سے ’’برپشم قلندر‘‘ ٹائپ لوگ ہیں۔ یہ درست کہ وہاں مجلس میں موت کا موضوع ذرا معیوب سمجھا جاتا ہے لیکن زندگی موت کے موضوع پر ان کے ہاں بھی بہت کچھ بہت ہی عمدہ و اعلیٰ ہے۔MAUDE LOUISE RAYکی ایک نظم کا عنوان ہے “MY TASK” ۔لکھتا ہے۔TO LOVE SOMEONE MORE DEARLY EVERY DAY,TO HELP A WANDERING CHILD TO FIND HIS WAY,TO PONDER OʼER A NOBLE THOUGHT, AND PRAY,AND SMILE WHEN EVENING FALLS.THIS IS MY TASK.TO FOLLOW TRUTH AS BLIND MEN LONG FOR LIGHT,TO DO MY BEST FROM DAWN OF DAY TILL NIGHT.TO KEEP MY HEART FIT FOR HIS HOLY SIGHT,AND ANSWER WHEN HE CALLS.THIS IS MY TASK.”آخری سے پہلے یعنی سیکنڈ لاسٹ مصرع پر غور فرمائیں یعنیAND ANSWER WHEN HE CALLS.سبحان اللہ خادم مالک کی ایک آواز پر کیسے لپکتا ہے تو مخلوق کو خالق کی CALLپر کیسے لبیک کہنا چاہئے؟ہر سالگرہ دراصل اسی بات کا ری مائنڈر ہوتی ہے یا ہونی چاہئے۔بیش قیمت اور نازک مصنوعات کی پیکنگ پر جلی حروف میں لکھا ہوتا ہے “FRAGILE; HANDLE WITH CARE”میرا بس چلے تو ہر زندہ شخص کے ماتھے پر لکھ دوں”LIFE IS FARGILE; HANDLE WITH PRAYER.”ہر سالگرہ ری مائنڈر ہوتی ہے کہ غافل! زندگی کے قرض کی ادائیگی کا وقت قریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس لئے سالگرہ سیلیبریٹ کرنے کیلئے نہیں، سوچنے کیلئے ہوتی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker