تبصرہ تو اس صورت حال پر ایسا کروں گا جو تا دیر یاد رہے لیکن ابھی نہیں، پہلے پنجاب کے صوبائی وزیر تعلیم کا موقف سامنے آ جائے۔ یہ خط ملک کے ایک ایسے پبلشر کا ہے جس نے ملک کے نامور ترین شاعروں اور ادیبوں کی کتابیں شائع کیں اور خود بھی ایک انتہائی مقبول شاعر ہیں جن کے کئی اشعار زبان زد عام ہیں مثلاً خالد شریف کا یہ شہربچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیاشاعر پبلشر لکھتے ہیں’’برادر محترم حسن نثارپاکستان میں کتاب کلچر کی صورت حال کے حوالے سے اکثر آپ سے گفتگو ہوتی رہی ہے۔ کتابوں کی اسّی فیصد دکانیں بند ہو چکی ہیں اور باقی بری طرح سسک رہی ہیں۔ عموماً اس کا ملبہ انٹر نیٹ پر ڈال دیا جاتا ہے لیکن دراصل ہمارے سرکاری ادارے بھی اس صورت حال کے ذمہ دار ہیں۔کتاب کلچر کی موجودہ تباہی کا ذمہ پنجاب کے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے لے لیا ہے جس کے سربراہ، ظاہر ہے اس تبدیلی سرکار کے صوبائی وزیر تعلیم ہیں۔ تفصیل اس اجمال اور المناک صورت حال کی یہ ہے کہ برطانیہ کے ایک ادارے ڈیفڈ (DFID)نے پنجاب کے سکولوں کو اپ گریڈ کرنے کے لئے تین ارب روپے کے مساوی رقم کی گرانٹ حکومت پنجاب کو دی ہے۔ گزشتہ ماہ جب اس منسٹری کے زیر اہتمام ادارہ (PMIU) نے خریدی جانے والی مجوزہ کتب کی فہرست جاری کی تو ناشرین کتب میں گہری تشویش کی لہر دوڑ گئی کہ صرف تین من پسند چہیتے پبلشرز کو ایک ارب روپے کا کام دے دیا گیا تھا اور یہ تو ہم سب جانتے ہی ہیں کہ اس طرح کی ڈیلز میں من پسند اور چہیتا کون ہوتا ہے۔ زبردست احتجاج کے بعد وقتی طور پر یہ کام رک گیا اور کہا گیا کہ اب اضلاع کے افسران خود انتخاب کریں گے اور اس وقت کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کو تبدیل کر دیا گیا۔
یہاں سے ایک نئی واردات نما داستان کا آغاز ہوتا ہے۔ پنجاب کے اضلاع سے جو ٹینڈر جاری ہو رہے ہیں ان میں منسلک کتابوں کی فہرست دیکھ کر سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے کیونکہ یہ فہرستیں زبان حال سے اپنے بنانے والوں کی نالائقی یا بد نیتی اور ان کے نگرانوں کی بے حسی کا نوحہ پڑھ رہی ہیں۔برطانوی ادارہ (DFID)نے سکول کے بچوں کے لئے لائبریریز کے قیام اور انہیں اپ گریڈ کرنے کے لئے فنڈز مہیا کیے تھے جبکہ اس فہرست میں ناشرین (’’چہیتے اور ’’من پسند‘‘) کے گوداموں میں موجود ’’ردی‘‘ کو ٹھکانے لگانے کا ملین ڈالر منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ پنجاب کے سو سے زائد پبلشرز کی بجائے پھر مخصوص پبلشرز کو ہی نوازا جا رہا ہے اور ایسی ایسی کتابیں ان فہرستوں میں شامل ہیں جو پی ایچ ڈی سطح کے طالب علموں کے بھی سروں کے اوپر سے گزر جائیں لیکن صرف کمیشن کھانے کے لئے انہیں زبردستی معصوم بچوں کے سروں پر مسلط کیا جا رہا ہے جو ان کے لئے سو فیصد ردی کا ڈھیر اور بالکل بیکار ہیں۔اضلاع کی مقرر و متعین کردہ نام نہاد کمیٹیوں نے بھی بذات خود سوچ بچار، مغز کھپائی، محنت کرنے کی بجائے انہی گنتی کے چند مخصوص ناشرین کی عطا کردہ فہرستوں پر اکتفا کیا ہے جو پہلے ہی مسترد ہو چکے ہیں۔ کس کے حکم یا اشارہ پر؟
خدارا حکام بالا وزیراعظم تا وزیر اعلیٰ کو آگاہ کریں کہ اس فنڈ کو اس بے رحمی سے برباد، ضائع کرنے کی بجائے اصلی، بنیادی اور درست کام پر خرچ کریں اور آئندہ نسلوں پر رحم فرمائیں کہ بدترین لوگ بھی کم از کم بچوں کو تو معاف کر ہی دیا کرتے ہیں۔احترام فراواں کے ساتھ خالد شریف (ماورا)‘‘قارئین!میں نے کالم کے شروع میں ہی عرض کر دیا تھا کہ میں اس وقت تک اس خط پر تبصرہ نہیں کروں گا جب تک (7دن) متعلقہ وزارت کا کوئی ذمہ دار شخص اپنا موقف پیش نہیں کرتا۔ تب تک اس شعر پر غور فرمائیں۔ سر پیٹیں یا سر دھنیں قتل طفلاں کی منادی ہو رہی ہے شہر میں ماں! مجھے بھی مثل موسیٰ تو بہا دے نہر میں
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

