حسن نثارکالملکھاری

’’تم جی کے دیکھ لو کہ یہاں مر کے دیکھ لو‘‘۔۔حسن نثار

اللہ پاک سے ہمیشہ دعا مانگی کہ مجھے کلرکوں ، مستریوں کی طرح نصابی کتابی انداز میں سوچنے سے محفوظ رکھنا۔ گزشتہ دنوں جو قابل نفرت، قابل مذمت حادثہ، سانحہ پیش آیا، میرے نزدیک اس کی دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک اہم وجہ جہالت بھی ہے۔ میری اس منطق پر ایک جواب یہ آیا کہ ایسی مکروہ حرکتوں میں تو اساتذہ سمیت دیگر تعلیم یافتہ، پڑھے لکھے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔ بظاہر دلیل معقول لیکن دراصل بالکل بودی ہے کیونکہ ’’پڑھا لکھا‘‘ اور ’’تعلیم یافتہ‘‘ہونے کی اصلی اور حقیقی DEFINATIONہی یہ ہے کہ ’’پڑھا لکھا‘‘ اور ’’تعلیم یافتہ‘‘ مہذب ہوتا ہے اور مہذب وہ ہے جو جسمانی یا فکری طور پر خود کو دوسروں پر جبراً مسلط کرنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اسے ایک غیر انسانی رویہ سمجھ کر دوسروں کی رائے، آزادی، پسند، ناپسند کا احترام کرتا ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ دوسروں کے جھوٹے خداؤں کو بھی برا نہ کہو۔وہ تعلیم اور پڑھائی لکھائی جو ’’آدمی‘‘ کو اپ گریڈ کرکے ’’انسان‘‘ نہیں بنا سکتی…. روٹی، روزی، روزگار کا ذریعہ تو ہو سکتی ہے ’’تعلیم‘‘ نہیں کہلا سکتی۔ میں جو عرصہ دراز سے ’’انسان سازی‘‘ پر زور دے رہا ہوں تو اس کا مقصد صرف ’’لٹریسی ریٹ‘‘ میں اضافہ ہی نہیں کچھ اور بھی ہے اور اس ’’کچھ اور ‘‘ میں یہ تمیز تہذیب بھی شامل ہے کہ عورت ، بزرگ کا احترام اور بچوں سے محبت کرو۔
یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں بلکہ دین کامل کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے لیکن نہ ریاست نہ ہماری ہوم میڈ قسم کی روحانیت اس پر توجہ دیتی ہے۔یہاں شلوار کے ٹخنوں سے اوپر نیچے ہونے کا درس تو دیا جاتا ہے جھوٹ، ملاوٹ، رشوت، گندگی پھیلانے، بجلی چرانے، میرٹ کی پامالی، اقربا پروری، خیانت، عورت کی بے حرمتی، وعدہ شکنی وغیرہ جیسی لعنتوں پر کوئی بات ہی نہیں کرتا۔ پابندی اوقات کا کوئی ذکر ہی نہیں حالانکہ نماز کا اہم ترین جزو ہے ورنہ اللہ کے حضور سجدہ تو کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے۔’’ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں‘‘لیکن کیا کریں کہ یہاں کنارے چل رہے ہیں، دریا کب سے رکا ہوا ہے اور لوگ مصلوب کو دیکھ کر یہ سمجھ رہے ہیں کہ صلیب اور مصلوب تو گلے مل رہے ہیں۔ جن باتوں پر بپھر جانا چاہیے ان پر سکوت مرگ طاری ہوتا ہے اور جن باتوں پر ناک پر رومال رکھ کر گزر جانا چاہیے ان پر بپھرنے کے بعد گھٹیا ڈیٹرجنٹ کی جھاگ کی طر ح بیٹھ جاتے ہیں۔’’اب ہدف تو ہے تو کیا، تیر تو چل جانا تھا‘‘اپنی سیاسی، فکری، سماجی، روحانی، اقتصادی کارروائی ، پرفارمنس دیکھنی ہو تو اپنا ‘‘آج‘‘ اپنا اب تک کا ’’انجام‘‘ اور اقوام عالم میں اپنا قابل رشک ’’مقام‘‘ دیکھ لو اور اگر اتنے آئینوں میں بھی اصلی چہرہ دکھائی نہ دے تو آئینے توڑ دو۔’’سہیلی ترا بانکپن لٹ گیا آئینہ توڑ دے‘‘لیکن آئینے توڑ کر بھی ’’آئین جواں مرداں‘‘ تبدیل نہیں ہوگا کیونکہ ……تم جی کے دیکھ لو کہ یہاں مر کے دیکھ لواک بے حسی ہے کچھ بھی یہاں کرکے دیکھ لوایک آدھ کے علاوہ کوئی ’’عضو‘‘ سلامت ہو تو بتائیں؟ کسی ایک ’’ہڈی‘‘ کو فریکچر نہ ہو تو اس کی نشان دہی کریں۔ تعلیمی شعبہ تہس نہس 2کروڑ سے زیادہ بچے سکولوں سے ہی محروم، صوبائی وزارت تعلیم (پنجاب) میں اربوں روپے کی بیرونی امداد پر سوالیہ نشان۔ جی ڈی پی کا تقریباً دو فیصد تعلیم کے لئے مختص۔
تعلیم ’’انڈسٹری‘‘ چلانے والے ایجوکیٹرز کی بجائے انویسٹرز۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند دہائیوں میں دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف ’’ہجرت‘‘ کا رجحان انتہائی خطرناک ہے کیونکہ شہری اور دیہی علاقوں میں سہولتیں عدم توازن کا شہکار ہیں۔ کسان اور دیہاتی زرخیز زمینیں بیچ رہے ہیں تاکہ ہاؤزنگ (ہاؤسنگ غلط) سکیمیں بنا کر مال کما سکیں۔ اسلامی جمہوریہ میں جمہور یعنی 7افراد کے لئے صرف ایک چھت۔ آبادی کا تقریباً 25 فیصد حصہ کچی آبادیوں اور غیر منظم بستیوں میں آیاد یا برباد۔حالیہ آبادی کا تخمینہ 22 کروڑ 90 لاکھ ۔ 2050 تک 50 فیصد اضافہ یعنی آبادی 45 کروڑ کے قریب۔ 23کروڑ ہی کسی بھی حوالےسے سنبھالے نہیں جا رہے، 45 کروڑ کیا کچھ نہ کریں گے۔ ’’وہ بھوک ہے اعضا کہیں اعضا کو نہ کھا لیں‘‘ اور یہ دھندا شروع بھی ہو چکا۔ ہر ایک منٹ میں ایک بچہ اور ملک دنیا کے گنجان آباد ترین ملکوں کی فہرست میں نمایاں۔ رہ گئی خوراک تو یونیسف کی رپورٹ چکھ لیں۔ سروے کے مطابق صرف صوبہ سندھ میں ہی 5سال سے کم عمر 50 فیصد سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار۔صحت کے حوالے سے 195ممالک میں ہم 154ویں نمبر پر ہیں۔ 1300 افراد کے لئےصرف ایک ڈاکٹر، طبی آلات نہ ہونے کے برابر، مریض کرسیوں پر بیٹھ کر ڈرپ لگواتے ہیں، ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد تقریباً 10 فیصد، پانی میں آرسینک کی موجودگی۔پانی کی صورت حال بتدریج بد سے بدتر ہو رہی ہے۔ معیاری کیا پینے کے قابل پانی بھی ’’کستوری‘‘ بن چکا ۔ زیر زمین پانی تیزی سے ناپید ہو تا چلا جا رہا ہے۔اس ملک کی ایک تا دو فیصد آبادی نصف قومی دولت پر قابض ہے، باقی 98.99 فیصد شہریوں کی زندگی عذابوں اور اذیتوں میں مبتلا ہے۔ ہر وہ پاکستانی بھی جس نے کبھی ایک لاکھ روپیہ اکٹھا نہیں دیکھا، دو لاکھ روپے کا مقروض ہو چکا ہے لیکن یہاں موضوعات اور مسائل ہی اور ہیں حالانکہ ہمارے اجتماعی بدن میں اتنے مسام نہیں جتنے زخم ہیں تو سمجھ نہیں آتی کہ اتنی پولی پولی بالنگ سے اس بھیانک صورتحال کی وکٹیں کیسے اڑیں گی۔اتنا ضرور جانتا ہوں کہ کچھ اور کرنا ہوگا لیکن یہ نہیں جانتا کہ کیا کرنا ہوگا۔ کچھ اور نہیںبدلتے تو سوچنے کا انداز ہی تبدیل کرلو۔تم جی کے دیکھ لو کہ یہاں مر کے دیکھ لواک بے حسی ہے کچھ بھی یہاں کرکے دیکھ لو
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker