اکیس رمضان المبارک عمزادِ رسول (ﷺ)دامادِرسول (ﷺ) حضرت علی ؓ کی شہادت کا دن ہے ،آغوشِ نبیﷺ میں پرورش پانے والے شیر خدا حضرت علی ؓ ،جگر گوشہءرسول ﷺ حضرت ِ فاطمةالزہرہؓ کے سرتاج بنے ۔
مکہ کے عظیم المرتبت بزرگ ابوطالب کے فرزند حضرت علی مرتضیٰ ؓ نجیب الطرفین ہاشمی تھے ،کیونکہ ان کا عقد اپنی چچا زاد بہن سے ہوا تھا ،حضرت علی ؓ کے والد ابوطالب ہی تھے جو کفرستان مکہ میں اپنے بھتیجے محمد ﷺ کے سر کا سائبان بنے ،وائےافسوس کہ اپنی تمام تر خدمات کے باوجود ابوطالب شرف اسلام قبول کرنے سے محروم رہے جس کا قلق آپ ﷺ کو تاحیات رہا،تاہم ابوطالب کے فرزند حضرت علی ؓ کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ سیدہ طاہرہ حضرت خدیجہ ؓ کے بعد سب سے پہلے آپﷺ پر ایمان لائے ۔
دس سال کی عمر کے بچے میں کتنا عقل و شعور ہوتا ہے ،حق و باطل کی پرکھ کا کیا معیار اس کے دل ودماغ میں ہوسکتا ہے ،مگر ابوطالب کے فرزند ارجمند کی فکرو دانش کا کمال یہ ہے کہ کہ ان کے شفیق و مربی چچازادبھائی محمدﷺ کو جب خلعتِ نبوت عطا ہوئی تو مکہ کے اس طفل ِ معصوم نے بلا چون وچراں دعوت حق پر بیعت فرمالی ۔
جب پہلی بار نبی معظم و مطہر ﷺ نے کوہ صفا پر کھڑے ہوکر اپنے خاندان کو دعوت حق دی تو ان کے خلاف بغض وعناد کا کوہِ
گراں کھڑا ہوگیا ،جس کے مقابلے کی قوت ابھی صاحبِ نبوت ﷺکے پاس نہیں تھی مگر تھوڑے ہی عرصہ بعد ایک روز پھر خاندان کے چالیس کے لگ بھگ افراد کو گھر پر لذتِ کام ودہن کی دعوت دی جس کے اہتمام و انصرام کی ذمہ داری چودہ یا پندرہ سالہ علی ؓ کو سونپی گئی ،جنہوں نے دستر خوان پر نعمت ہائے گوناگوں کا انبار لگا دیا ،(بکرے کے پائے ،دودھ اور دیگر کئی اشیائے خوردونوش)۔دعوت سے فراغت کے بعد ایک بار پھر آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر فرمایا : ”یا بنی عبدالمطلب !خدا کی قسم میں تمہارے سامنے دنیا وآخرت کی بہترین نعمت پیش کر تا ہوں ،بولوکون اس شرط پر میرا ساتھ دیتا ہے کہ وہ میرا معاون و مدد گار ہوگا ؟“ پورے مجمع پر سکوت طاری ہوگیا ،مگر چودہ سالہ ایک بچہ کھڑا ہوا اور سینہ تان کر بہ آوازِ بلند گویا ہوا: ” گو میں عمر میں سب سے چھوٹا ہوں،اور مجھے آشوبِ چشم کا عارضہ لاحق ہے ،میری ٹانگیں پتلی ہیں تاہم میں آپ ﷺ کا معاون و مددگار اور دست و بازو بنوں گا“ ۔
خاتم ال انبیاءﷺ نے ایک نگاہ شفقت اپنی آغوش میں پلے کمسن علی ؓ پر ڈالی اور فرمایا: ” اچھا تم بیٹھ جاﺅ،اور پھرایک بار مہمانوں کو دعوت حق دی“ مگر مجمع نے چپ کا روزہ نہ توڑا۔علی مرتضیٰ ایک بار پھر جرا ت اظہار کے لئے ایستادہ ہوئے ،
اس بار کچھ کہنے سے پہلے شیرِ خدا کو بٹھا دیا گیا ،یہاں تک کہ تیسری بار خاموشی کو زباں دینے کے لئے عمزادِ رسول (ﷺ) جذبِ باہم کے ساتھ کھڑے ہوئے اور دعوت حق کو قبول کرنے کا عندیہ دینے کو کہا ،آپ ﷺ نے انہیں بٹھاتے ہوئے فرمایا :” بیٹھ جاﺅ ! تومیرا بھائی اور میرا وارث ہے“۔
توحیدورسالت کا چراغ روشن رکھنے کے لئے باراول قربانی کا بارِ گراں اس وقت اٹھایا جب نبی کریم ﷺ کو ہجرت کا حکم ہوا اورمدینہ کی سمت ہجرت کا رخت سفر باندھا تو مکہ والوں کی امانتیں لوٹانے کے لئے جاں باز علیؓ کو اپنے بستر پر لٹایا اور آپ ﷺ حضرت ابوبکرؓ کی معیت میں رات کے اندھیرے میں عازم سفر ہوئے ۔بھائی محمد ﷺ کے بستر پرعلیؓ محو استراحت ہوئے ،مشتعل محاصرین بیت نبوت کو رات سے گھیرے میں لئے ہوئے ہیں کہ کب محمد ﷺ گھر سے نکلیں اور وہ اپنےانتقام کی آگ بجھائیں ،صبح دم عمزاد نبی ﷺنڈر و بہادر حضرت علی ؓ گھر سے باہر آتے ہیں تو دشمن دم بخود رہ جاتے ہیں ۔
حضرت علی ؓ نکئی سرایہ اور بیشتر غزوات میں شرکت کے علاوہ بنو نضیر ،بنو قریضہ اور بنو سعد کی بدعہدیوں کے خلاف جہاد میں پیش پیش رہے ۔غزوہ احد میں دھوکہ دہی کی کی بنا پر پسپائی کے وقت شیر خدا نے جس شجاعت اور دلیری کا مظاہرہ کیا وہ بھی بے مثل تھا ،خیبر کا قلعہ جب ابوبکر ؓو عمرؓ جیسے مجاہدوں سے فتح نہ ہوسکا تو آخر کا راس کی تسخیر کا علم حضرت علیؓ نے اٹھایا اور فتح کا تاج اپنے کاسہءمبارک پر سجائے واپس لوٹے ۔
8ہجری میں فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کے کندھوں پر چڑھ کر کعبہ میں کھڑے بت گرانے کی کوشش کی تو آپ ؓ نبوت کا بوجھ نہ سہار سکے اس پر حضرت علیؓ کے مقدر میں یہ فضیلت آئی کہ آپ ﷺ نے انہیں اپنے کاشانہءاقدس پر چڑھا کر بت گرانے کا حکم دیا۔غزوہ حنین کی پسپائی بھی حضرت علیؓ کی بے مثل وباکمال جرات و شجاعت سے فتح میں تبدیل ہوئی۔9 ہجری میں جب رسول ﷺ نے غزوہءتبوک کا ارادہ فرمایا تو اہل بیت کی حفاظت پر حضرت علیؓ کو
مامور فرمایا ،شیر خدانے غزوہ میں عدم شرکت پر دل گرفتگی کا اظہار کیا تو رحمت اللعالمین ﷺ نے فرمایا: ”علی ؓ کیا تم اسے پسند کروگے کہ میرے نزدیک تمہارا وہ رتبہ ہو جو ہارونؑ کا موسیٰؑ کے نزدیک تھا“۔
حضرت خالد بن ولیدؓ چھ ماہ تک یمن میں اشاعت اسلام کے لئے جدوجہد فرماتے رہے مگر اس کے خاطر خواہ نتائج حاصل نہ ہوئے تو آپ ﷺ نے مضان المبارک 10 ہجری میں حضرت علیؓ کو اس کام کے لئے یمن جانے کا حکم صادر فرمایا ،آپؓ کی چنددن کی سعیءمبارکہ سے قبیلہ ہمدان مشرف بہ اسلام ہوا اور یمن میں فروغ اسلام کے پرچم لہرانے لگے۔خلیفہ سوئم حضرت عثمان ؓ کے عہد خلافت میں مناقشات و تنازعات نے سر اٹھایا تو علیؓ مرتضیٰ ؓ کی حکمت ودانش کام آئی اور فتنہ وفساد کی صورت حال آپؓ کے مشورے سے رفع ہوگئی۔
حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بعد تین دن تک مسند خلافت خالی رہی ،حضرت علیؓ نے خلافت کا بارِ گراں اٹھانے سے انکارکر دیا لیکن مہاجرینؓ وانصارؓکے مسلسل اصرار پر منصبِ خلافت قبول فرمایا،ہاں مگر آپ ؓ کی خلافت کے پاﺅں نہ جمنے دیئے گئے شورشوں کا سلسلہ جاری و ساری رہا ،غرض 40ہجری میں خارجی روز روز کی یورشوں کے بعد بزعمِ خوداس ناصائب فیصلہ پر متفق ہوئے کہ حضرتِ علی ؓ،حضرتِ معاویہ ؓ اور حضرت عمروبن العاصؓ کو راستے سے ہٹادیا جائے ،خارجی نزال نے حضرت معاویہؓ کا،عبداللہ نے حضرت عمروبن العاصؓ اور عبدالرحمن بن ملجم نے حضرت علی ؓ کے قتل کا ذمہ لیا۔ تینوں بزرگوں پر بیک وقت قاتلانہ حملہ ہوا ،امیرمعاویہ ؓ پر اوچھا وار پڑا مگر آپ ؓ بچ گئے ،حضرت عمروبن العاصؓ غلط فہمی میں بچ گئے کہ امامت کے لئے تشریف نہیں لائے تھے ان کی جگہ ایک اور شخص مارا گیا جبکہ شقی القلب عبدالرحمن ابن ملجم نے دوران نماز دامادِ رسول ﷺ حضرت علی ؓ پرزہر میں بجھی تلوار سے حملہ کیا ،زخم بہت کاری آئے ،زہر پورے جسم اطہر میں سرایت کر گیا اسی روز ملت اسلامیہ پر قیامت صغریٰ کا نزول ہوا اور شیر خداامیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ ‘ داغِ مفارقت دے گئے۔حضرت امام حسن ؓ نے اپنے دست مبارک سے عظیم المرتبت باپ ؓ کی تجہیزو تکفین فرمائی ،نماز جنازہ چار تکبیروں کی بجائے پانچ تکبیروں سے ادا کرنے کے بعد کوفہ کے ایک قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
فیس بک کمینٹ

