ادبافسانےفہیم عامرلکھاری

ایک نگر کی کتھا ۔۔ فہیم عامر

شہر سے کوسوں دوُر ۔۔۔۔۔ پِنڈ تھاں ۔۔۔ جہاں یوں تو چوری کا کارَن حسد، شخصیّت میں اعتماد کا فُقدان، کِسی ہم مرتبہ سے مسابقت یا دباؤ بتایا جاتا تھا مگر کلیپٹو عِلاقے کا وہ انوکھا چور تھا جو نہ صرف محض ایک لُطف کی خاطِر چوری کرتا بلکہ اپنی واردات کا ہر قِصہ لوگوں کو مزے لے لے کر اور بڑھا چڑھا کر بتایا کرتا۔ اُس کا جُڑواں بھائی نِمفو بھی اِن وارداتوں میں اُس کے ساتھ ہوتا بالکل اِسی طرح جیسے کہ وہ نِمفو کی اکثر کارروایوں میں ساتھ ساتھ رہتا۔ دونوں جُڑواں بھایئوں کی شکلیں ایک دوُسرے سے اِس قدر مُشابہ تھیں کہ ان کی ماں ریاست بی بی بھی دونوں میں فرق نہ کر سکتی کیونکہ اپنے بھائی کی طرح نِمفو بھی ہمہ وقت ایک مخصوص ہیجانی جذبے کا شِکار رہتا جو اِسے جِنسی نفسیہ میں مبتلا رکھتا تھا۔
ریاست بی بی اُن بیچارے بچوں کی اِس مستقل کیفیت کی وجہ کبھی ماحول، کبھی وِراثت اور کبھی ز ندگی کے مختلف واقعات کو بتلاتی تھی اور سب سے بڑھ کر تو یہ کہ وہ دوسرے عِلاقوں کی ریاستوں کی مثالیں بھی گھڑ گھڑ کر پیش کرتی جِنہوں نے اِس کی طرح ہی اپنے اپنے کلپٹوؤں اور نمفوؤں کو جنم دیا اور انہیں پروان چڑھایا تھا۔
’’ذرا اوروں کو بھی تو دیکھو، اپنے جنسی جنون اور چوری کی خواہشات کی تکمیل کے لیئے کیا کیا نہیں کرتے‘‘، ریاست کہا کرتی اور بھلی لوک ٹھیک ہی تو کہتی تھی کہ ہر گاؤں، ہر قصبے، ہر شہر، ہر قومیّت، ہر ملک اور ہر سماج میں ہر طرح کی ریاست بی بی نے ایسے ہی تو اپنے بچوں کو پروان چڑھایا تھا جو اپنے اپنے جنسی جنون اور چوری کے محرکات کی تسکین کے لیئے کِتنی دوڑ دھوپ کرتے۔ ایک طبقے سے دوسرے اور پھر تیسرے طبقے کی جانب کبھی نہ ختم ہونے والی بے انت دوڑ اِن دو خواہشات کی تکمیل کے لیئے ہی تو تھی۔
ریاست بی بی کی شاندار سواری پار گاؤں اپنے سمبندھیوں سے ملنے کے لیئے نکلا کرتی تو گاؤں کی ایک سنسان پگڈنڈی پر کیکر کی سُکڑی چھاؤں میں اُکڑوں بیٹھا بابا فطرت سوچتا کہ ’کیا سادہ لوح عورت ہے۔ اپنے بچوں سے کِتنا پیار کرتی ہے‘ اور یہی سوچتے سوچتے جب اُس سے بھی بوُڑھا کیکر سورج کی لو کے ساتھ اپنی چھاؤں سِرکا دیتا تو بابا فطرت بھی اپنی کنڈلی گھما کر مطمئن ہو جاتا ہے کہ واہ دھوُپ سے بچاؤ کا کیا خوب گیان پایا ہے۔۔۔۔!
بابا فِطرت ریاست اور اِس کے بچوں کو پُرانا جانتا تھا اور اُسے بھَلا لگتا تھا جب شام ڈھلے ریاست اپنے ویہڑے میں کچہری لگاتی جہاں اُسے اپنے دونوں بچوں کی شکائتیں بھی سُننے کو ملتیں تو وہ گاؤں والوں سے کہا کرتی کی کہ وہ صرف کلپٹو اور نِمفو کی نہیں بلکہ پوُرے گاؤں کی ماں ہے اور بابے فطرت کو تب اور بھی مزہ آتا جب ریاست اپنے بچوں کی لوُٹ کے مال سے کُچھ حصہ نِکال کر اہلِ دیہہ کو بھی دیتی اور وہ ہنسی خوشی اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے۔ اُسے اچھی طرح یاد تھا کہ جب نِمفو نے دادے میراثی کی پوتی کا شوشنڑ کیا تو وہ غلطی سے مر گئی تھی۔ ریاست نے اُس کی پوتی کا ناخُن دادا کو واپِس کر دیا کہ ’’ جا، کِریا کرم کر لے‘‘۔ بابے فطرت کو یاد تھا کہ اہلِ دیہہ ریاست کی دریا دِلی سے کتنا خوش ہو گئے تھے۔ اِسی طرح جب کلپٹو نے ایک دہقان کی کنڑک کی فصل کھیت کے بیِچوں بیچ سے کاٹ کرپنڈت کے گھر میں چھُپا لی تھی تب بھی ریاست نے کیا کمال کا فیصلہ کیا اور کنڑک کی کئی بالشتیں دہقان کو لوٹا دیں تھیں حالانکہ اُسے پنڈت اور چوکیدار کو بھی چوری کی فصل کا ایک بڑا حصہ دینا پڑا تھا۔
اب اِس حالت میں جب لوُٹ کی فصل کے اتنے بھاگیدار ہوں، دہقان کو بالشتیں لوٹا دینا ریاست بی بی کو گاؤں کے سماج کا دیاوان ہی تو بناتا تھا۔ وہ تو اکثر کہا کرتا، ’’ دیکھو جی، ریاست کی کوئی زمین تو ہے نہیں اور وہ پوُرے گاؤں کی ماں ہے۔ اُسے پورے گاؤں کی دیکھ بھال ہر حال میں کرنی ہی پڑتی ہے اوپر سے کلپٹو کے سارے بھاگیداروں کا بھُگتان ۔۔۔۔۔ وہ علیحدہ ۔۔۔۔۔ تو اِس حالت میں بیچاری ریاست اور کیا کرے، کہاں سے لائے‘‘؟ بابے فطرت کی اِس دلیل سے گاؤں والے چُپ کیئے رہتے مگر دیہہ سماج کے نیچ ذات کے لوگ جِن میں لوہار، ترکھان، میراثی، نائی، ہاری، دہقان اور دیگر دیہاڑی دار اندر سے ریاست سے خوش نہ تھے۔ بلکہ خالِق دہقان کا پہلوٹھی کا بیٹا تو ایک دن سرگی سے ذرا پہلے لوگوں سے یہ کہتا پایا گیا کہ جی زمین ہماری، پانی ہمارا، محنت ہماری اور ریاست کے دونوں بیٹے چوکیداروں اور پنڈت کے ساتھ مِل کر اپنی کوٹھی بھر لیتے ہیں۔ یہ تو شُکر ہے کہ پنڈت نے سُن لیا اور بالکے کو سمجھایا کہ ایسے وقت میں جب رات جانے کو ہو اور سویر ہونے کو ہو ایسی باغیانہ باتیں نہ سوچا کرے ورنہ بھگوان ناراض ہوا تو ریاست اپنے چوکیداروں سے ایسا پِٹوائے گی کہ ویدوں کو اپنی بچی کھُچی فصل دے کر بھی علاج نہ ہو پائے گا۔ پھِر وہ گاؤں کے لیئے کیا نہیں کرتی۔ یہ اُسی کی وجہ ہے کہ جو دریا پار ساہوُ کاروں کے گاؤں والوں کو بالشت بھَر زمین دے کر اچھی فصل اُگوائی کہ گاؤں والوں کا پیٹ بھر سکے۔ مگر خالِق دہقان کے گنوار بیٹے کو اِس اونچ نیچ کی سمجھ کہاں تھی؟ وہ اب بھی یہی سمجھتا تھا کہ ریاست ساہوکاروں کو دیہہ سماج کی زمینیں دلوانے کے عوض قیمتی کپڑے تحفتاً وصول کر کے اپنے گھر لے جاتی ہے، تبھی وہ سرگی سے ذرا پہلے کے وقت کی خبر لوگوں کو سناتا رہتا اور کہتا کہ زمین تو اُنہی کی ہے اور اُنہی کی رہے گی۔ یہ کیا بات ہوئی کہ ساہوُ کار ہماری خود کی زمین سے اُگی فصل ہمیں ہی مہنگے داموں بیچ کر باقی فصل اُٹھا لے جاتے ہیں اور رہی ریاست تو اُس کو دہقانوں کے ننگے تن کی نہیں بلکہ اپنے قیمتی ملبوسات ہی کی لگن ہے۔ لوہار، ترکھان، نائی، میراثی اور دیگر نیچ ذات کے لوگ بھی اب خالِق دہقان کے بیٹے کی باتوں میں آنے لگے تھے۔ انہیں اور کِسی بات کا تو معلوم نہ تھا مگر بالکے کی اِس بات کو ضرور سچ مانتے تھے کہ وہ وقت کی خبر درست دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ سرگی ویلے پر اندھیرا جاتا رہتا ہے اور سوُرج اُگ آتا ہے اور دیکھو ایسا ہی ہر روز ہوتا ہے۔ بھور ہمیشہ بالکوں کی انہی باغیانہ باتوں کے بعد گھونگھٹ کھولتی ہے۔ ویسے یہ بات تو چوکیداروں اور پنڈت کو بھی سمجھ میں آتی تھی مگر وہ ہمیشہ آپس میں یہی صلاح کرتے رہتے کہ آخر سورج اُگ آنے سے بھلا اُن کو کیا فائدہ؟ اُن کا فائدہ تو پار گاؤں کے ساہوکارے اور ریاست کے فائدے کے ساتھ ہی منسلک ہے۔ وہ کہتے پھرتے کہ بالکے کی باتوں میں آئے تو یہ نہ ہو کہ سورج اتنا سُرخ ہو جائے کہ خود ان ہی کی آنکھیں جھُلس جائیں اور وہ اندھے ہو جائیں۔ بالکے کی باتوں میں آ کر دہقانوں، لوہاروں، ترکھانوں اوردوسری نیچ ذاتوں کا غوغا اتنا بڑھ جائے کہ وہ بہرے ہو جائیں۔ نجانے کیوں مگر انہیں لگتا تھا کہ خالق دہقان کا بیٹا یہ بات جان چکا ہے کہ سورج اگنے کے بعد روشنی ایسی سُرخ ہو جائے گہ اُن کا اپاہج پن صاف صاف دِکھنے لگے گا سو وہ بھیتر سے بالکے کی باتوں اور اُس سے بھی ز یادہ سُرخ سویرے سے خائف رہنے لگے۔
پہلے انہوں نے آپِس میں صلاح کی کہ شام کے ایسے پہر میں جب رات کے کالے سایوں کے بیِچ اہلیانِ دیہہ کی نظر دھنُدلانے لگے، جا کر ریاست بی بی سے مشورہ کرلیں کہ بالکے کہیں نیچ ذات کے لوگوں سے مِل کر اُن کا سامراجیہ ہی نہ دھو ڈالیں۔ سو، پِچھلے پہر، زوال کے وقت ریاست کے ویہڑے میں کچہری لگی اور سب نے مِل کر ایک شریئنتر رچا۔ اگلے ہی دِن ریاست بی بی دریا پار کے ساہوکاروں سے صلاح مشورے کے لیئے روانہ ہو گئی۔
شام ڈھلے لوٹی تو آتے ہی ہڑبڑی میں اپنے سب بھاگیداروں کو بُلا کر کچہری کی۔ ریاست نے کہا کہ چوکیداروں کی تعداد اور طاقت میں اِضافہ کرنا ہوگا۔ تیِر، لٹھ، بھالے سب کُچھ پار گاؤں کے ساہوکارے سے مِلے گا مگر اُس کے لیئے اُن کو پِنڈ کی کُچھ اور زمین کُچھ عرصے کے لیئے دینی ہو گی۔ اِس پر بابے فطرت کا ایک بیٹا بولا،’’ کہ لو، یہ تو کوئی بات ہی نہ ہوئی۔ خالق دہقان کے چچیرے بھائی کی بِِٹیا بیاہے جانے کے قابِل ہو گئی ہے۔ اُس کی زمین تو ہم ہاتھوں ہاتھ لے لیں گے‘‘۔ یہ بات نِمفو کو ذرا نہ بھائی کہ گاؤں کی ایک لڑکی جو شادی کے قابِل ہو گئی ہو کِسی اور گاؤں کی دُلہن بن بیٹھے۔ مگر کلیپٹو نے اُسے سمجھایا کہ بھائی وہ شادی کر کے گاؤں چھوڑ کر کہیں نہ جائے گی۔ یہیں رہے گی۔ سو، جب اُس کا جی چاہے، جیسے چاہے استعمال کر لے۔
شام کے سائے گاؤں پر منڈلا رہے تھے، جِس کے بعد ایک طویل رات تھی۔ ریاست کے پروردہ کُچھ معززین خالق دہقان کے چچیرے بھائی مالک کے پاس پہنچے اور لگے بِٹیا کے لیئے ہمدردی جِتانے۔ ایک کہتا کہ ریاست پورے گاؤں کی ماں ہے کُچھ نہ کُچھ تو کرے گی، دوُسرا بولا کہ کلیپٹو کو بھی صرف ریاست ہی سمجھا سکتی ہے اور تیسرا بولا کہ پنڈت اور چوکیداروں سے بچ رہنے کے لیئے تو اب ایک ہی رستہ بچا ہے اور وہ یہ کہ مالک دہقان خود ہی چل کر ریاست کی چوکھٹ پر جا کر عرضی گزرانے۔ پریشان حال مالک دہقان ایک رات سوچا کیا، دِن بھر کھیتوں میں محنت کے دوران بھی اُسے کُچھ سُجھائی نہ دیا تو رات کے سناٹے میں مُنہ چھُپا کر ریاست کے در پر جا گِڑگِڑایا۔ ریاست بھی آخِر پورے گاؤں کی ماں تھی۔ اُس کا بھی دِل بھر آیا اور آنکھوں سے آنسوُ ٹپکنے لگے۔ اِس پر پنڈت نے اپنا صافہ پیش کیا کہ ریاست اپنا چہرہ صاف کر لے۔ سو، ریاست نے پنڈت کے صافے سے اپنا چہرہ صاف کر لیا اور مالک دہقان کی صرف آدھی زمین لے کر ساہوکاروں کو دینے کا وعدہ کر لیا۔ پنڈت بولا، ’’ اب بھگوان سے پرارتھنا کر کہ ساہوُکار مان جائیں۔ باقی رہے تیرے بیٹے جو زمین جانے کے بعد ویہلے ہو جائیں گے تو اُن کی چنتا نہ کر۔ ریاست اُن کو چوکیدارے پر رکھ لے گی تو تیرے گھر کا چوُلہا بھی جلتا رہے گا‘‘۔ مالک دہقان کو اپنے سماج کا بھی ڈر تھا جو زمین ساہوکاروں کو دینے کے خِلاف تھے تو اُس کے لیئے بھی پنڈت نے تسلی دی کہ مالک فکر نہ کر۔ زمین اُس کی ہے، سماج کی نہیں۔ ہاں بالکے اُسے بہکانے کی کوشش کریں تو وہ سماج کی بجائے صرف اور صرف اپنی بیٹی کی چِنتا کرے۔ مالک سر ہلاتا رُخصت ہوا اور ریاست نے محسوس کیا کہ پنڈت کے صافے سے واقعی اُس کے چہرے کی کالک جاتی رہی ہے۔ وہ اِس بات پر خوش تھی۔
سہ پہر اور زوال کے وقت کے درمیان کا عمل تھا۔ سورج کی شفق رنگ کرنیں سرخ ہو چلی تھیں جب بالکوں نے اپنے مُکھیا کے ساتھ ایک منڈلی بنا کر مالک دہقان کو بِٹھا لیا اور اُسے سمجھانے لگے کہ کبھی بھی اپنی زمین دریا پار کے ساہوکاروں کو مت دینا، ریاست پر بھروسہ مت کرنا بلکہ اپنے سماج پر بھروسہ کرنا ۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ بالکوں نے بتھیرا سمجھایا کہ چچا زمین تمہاری ہے، محنت کرنے کو ہاتھ تمہارے اپنے ہیں بلکہ بالکوں کے مُکھیا نے تو یہاں تک بھی کہا کہ سماج کے سبھی نیچ ذات کے لوگ مِل کر بِٹیا کا بیاہ دھوُم دھام سے کریں گے۔ مگر اُسے صرف پنڈت کی یہ بات یاد تھی کہ ’’صرف اور صرف اپنی بیٹی کی چِنتا کرے‘‘ سو اُس نے وُہی کِیا۔ بالکوں نے اُس کے سمبندھ والوں کو بھی سمجھانے کی کوشِش کی کہ دونوں دہقان ہیں سو دہیج نہ لینا مگر اُنہیں کُچھ بھی سمجھ نہ آیا کہ انہیں بھی پنڈت بھگوان کے پرانڑوں سے پڑھ کر سُنا چُکا تھا کہ دہیج پرانی پرمپرا ہے۔ بِٹیا کے سسُرال میں اُس کی عِزت کی ضمانت ہے۔ سو، کبھی اپنے مذہبی سنسکار نہ بھوُلنا۔ لہٰذہ، مالک دہقان نے یہی سوچا کہ یہ بالکے تو صدیوں پُرانے ریِتی رِواجوں کی دھجیاں اُڑانے پر تُلے ہیں۔ اُس نے سوچا کہ بالکوں کی اِس بات پر جیون تھوڑا ہی گذرتا ہے کہ ’’سرگی ویلے پر اندھیرا جاتا رہتا ہے اور سوُرج اُگ آتا ہے اور دیکھو ایسا ہی ہر روز ہوتا ہے‘‘۔ سو کہنے لگا کہ تُم اپنا سُرخ سویرا اپنے پاس ہی رکھو، مُجھے تو بس اپنی بیٹی بیاہنی ہے اور دو بیٹوں کو ریاست بی بی کے ذریعے گاؤں کے چوکیدار بنانا ہے، بس۔
پار گاؤں کے ساہوُکارے سے ریاست بی بی کے ذریعے بہت کم ہی سہی مگر زمین کی قیمت مِل گئی۔ دو بیٹے چوکیدار بن گئے اور اُن کی اچھی گذر بسر ہونے لگی۔ مالِک دہقان کی امثال پنڈت ہر جگہ پیش کرتا پھِرا کہ ریاست کی تابعداری کے باعث کِس طرح اُس کے دِن پھِر گئے اور سؤرگ ….. جھوُنگے میں ۔۔۔۔!۔ اب مالک دہقان دن میں کئی کئی بار بھگوان کے گھر جا کر متھا ٹیکنے لگا، اُپواس رکھنے لگا اور اب چوُنکہ اُس کے پاس وقت اور مال تھا سو ریاست کے ٹھیکے سے داروُ بھی پینے لگا۔ ایک آدھ بار داروُ پی کر جوروُ کو پیٹنے کا من بھی ہوُا مگر اپنے اُن بیٹوں کے ڈر سے نہ پیِٹا جو ریاست کے چوکیداروں میں بھرتی نہ ہوئے تھے اور اوُپر سے اُن بالکوں کے ساتھ بھی بیٹھتے اُٹھتے تھے جِن کا کہنا تھا کہ ’’سرگی ویلے پر اندھیرا جاتا رہتا ہے اور سوُرج اُگ آتا ہے اور دیکھو ایسا ہی ہر روز ہوتا ہے‘‘۔
مالک دہقان کی مِثل پر دہقان آئے دِن اپنی اپنی ضرورتوں کے ماتحت اپنی زمینیں ریاست کی دلالی میں ساہوکاروں کو بیچنے لگے اور ریاست کے چوکیدار نہ صرف تعداد میں بڑھتے گئے بلکہ ان کے ہتھیاروں میں بھی اضافہ ہونے لگا۔ اب آئے روز زوال کے وقت ریاست کا ویہڑہ سج جاتا اور وہ بتاتی کہ کِس محنت سے اُس نے لوگوں کا معیارِ زندگی بلند کر دیا ہے۔ وہ ہر کچہری میں اپنے بچوں کلپٹو اور نمفو کے کارناموں کا ذکر کرنا نہ بھولتی جِن کی شبانہ روز محنت کے باعث آج گاؤں میں خوشحالی ہی خوشحالی تھی۔
مگر اُدھر عیسیٰ ترکھان کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ اُس نے بالکوں کی منڈلی میں ایک دِن زکر کیا کہ گاؤں والوں کے پاس زمین تو رہی نہیں، اب وہ ہَل اور لکڑی کے اوزار کِس کے لیئے بنائے؟ ساہوکار پار گاؤں سے اپنے اوزار لے آتے ہیں اور گاؤں کے اُن ہاریوں سے اپنے اوزاروں کے ذریعے کاشتکاری کرواتے ہیں۔ بالکوں نے کہا کہ دیکھو کِتنا ظُلم ہے کہ یہ ہاری کبھی ان کھیتوں کے مالک تھے اور اب انہی کھیتوں میں ساہوکاروں کے لیئے کھیت مزدوری کرتے ہیں۔ لوہاروں، ترکھانوں کے پاس کام ختم ہوتا جا رہا ہے اور نائیوں اور میراثیوں کو بھی فصل کا جو حِصہ ملتا تھا اب پار گاؤں کے ساہوکاروں کو جانے لگا ہے۔ ایک بالکے نے صلاح دی کہ کیوں نہ اکٹھے ہو کر ریاست سے کہیں کہ ان لوہاروں، ترکھانوں، نائیوں، میراثیوں اور بچے کھُچے دہقانوں کو کُچھ تو دے۔ اگر اُس کے بچے کلپٹو اور نمفو اپنی لُوٹ ہی کم کر دیں تو گاؤں کے سماج میں بہتری آ سکتی ہے۔ آخِر ہمارا یہ ماننا ہے کہ سرگی ویلے پر اندھیرا جاتا رہتا ہے اور سوُرج اُگ آتا ہے اور دیکھو ایسا ہی ہر روز ہوتا ہے۔۔۔۔
اگلے دِن سرگی کے بعد سورج طلوع ہوُا تو دیہہ سماج کے سب نیچ ذات کے لوگ اکٹھے ہو کر ریاست کے بڑے گھر کے سامنے اکٹھے ہو گئے۔ ریاست بی بی کی شاندار سواری پار گاؤں کے لیئے تیّار ہو رہی تھی۔ وہ پورے سماج کو اکٹھا دیکھ کر حیران ہو گئی۔ اُن کی بات سُنی توپوُرے اہنکار سے بولی کہ ابھی تو اُس کو پار گاؤں جانا ہے جہاں کے ساہوکاروں کے باعث گاؤں میں خوشحالی آئی ہے۔ وہ لوٹے گی تو اُن کی بات پر ہمدردانہ غور کرے گی۔ ریاست کی اوٹ میں کھڑے پنڈت نے بھی تسلی دی کہ ریاست بالآخر سب کی ماں ہے، کُچھ نہ کُچھ ضرور کرے گی۔ بالکے اور اُس کے ساتھی گھروں کو لوٹ گئے اور ریاست کی سواری پہنچی پارگاؤں، ساہوُکاروں کے ہاں۔ اُس نے ساہوکاروں سے سماج کی سمسیہ بیان کی تو انہوں نے بی بی کو مشورہ دیا کہ اُس کے پاس چوکیداروں کی فوج ہے سو ریاست کو اپنی عملداری دِکھانی چاہیئے۔ ریاست کو اُن کی بات سمجھ میں آ گئی اور وہ انہی قدموں پر گاؤں لوٹ آئی۔ اُس نے پنڈت کو حکم دیا کہ تُرنت مُکھیا چوکیدار کو بُلائے جو بھاگا چلا آیا۔ پنڈت، کلپٹو، نمفو اور مُکھیا چوکیدار نے اگلے دِن کا منصوبہ رات ہی کو تیّار کر لیا کہ ایسے منصوبے تاریکی ہی میں تو پکتے ہیں۔
سورج کی پہلی کِرن کے ساتھ ہی سماج کے لوگ ریاست کے بڑے گھر کے آگے اکٹھے ہو گئے۔ خالق دہقان کا پہلوٹھی کا بیٹا بولنے لگا کہ زمین سے صرف دہقان ہی نہیں بلکہ سارا سماج کھاتا تھا مگر ریاست نے وہ زمینیں دریا پار کے ساہوُ کاروں کو دے دیں۔ سماج کے مال سے ریاست نے اپنے چوکیداروں کو مضبوط کیا تاکہ کلپٹو، نمفو اور اُن کے ساتھی اِس لوٹ کھسوٹ کرنے والی ریاست اور اُس کے حواریوں کو بچا سکیں۔ آج ہر وہ دہقان بھوُک کا شِکار ہے جِس نے ریاست سے ہاتھ نہیں ملائے۔ ایک طرف وہ چند لوگ ہیں جو چوروں اور جنسی مریضوں کی ماں کے تلوے چاٹ چاٹ کر امیر ہو چُکے ہیں اور دوسری طرف لوہاروں، ترکھانوں، نائیوں، میراثیوں اور بے زمین ہاریوں پر مشتمل یہ پورا دیہہ سماج ہے جِس کے پاس نہ کھانے کو روٹی ہے، نہ پہننے کو کپڑا، نہ رہنے کو مناسب گھر، نہ علاج کے لیئے وید کیونکہ وید بھی صرف انہی کا علاج معالجہ کرتے ہیں جو ریاست اور ساہوکاروں کے ساتھ مل کر امیر ہو چکے ہیں یا امیر ہونے کی فِکر میں ہیں۔ ہم ریاست سے بِنّتی کرتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ بول ہی رہا تھا کہ ریاست کی پُشت پر کھڑے ساہوکاروں کے نمایئندے نے مُکھیا چوکیدار کے کندھے کو ہلاتے ہوئے، دوسرے ہاتھ کی اُنگلی سے خالق دہقان کے پہلوٹھی کے بیٹے کی طرف اِشارہ کیا اور لَٹھ بردار چوکیداروں نے لوگوں پر دھاوہ بول دیا۔ ریاست خاموشی سے تکتی رہی۔ اُس کا چہرہ سیاہ ہوتا جا رہا تھا کہ پنڈت نے اپنا صافہ پیش کیا اور ریاست نے ایک مرتبہ پھِر پنڈت کے صافے سے منہ پر لگی کالک اُتارنے کی کوشش کی مگر جیسے جیسے وہ پنڈت کا صافہ چہرے پر ملتی وہ اور سیاہ ہوتا جاتا۔ سامنے میدان میں لوگوں کی آہ و بُکا تھی۔ دیہہ سماج کے بالکوں، عورتوں، بچوں، بوُڑھوں سبھی پر دریا پار گاؤں کے ایماء پر ریاست نے اپنی عملداری بلآخر دِکھا ہی دی تھی۔ سورج نے ایک کالی بدلی سے اپنا منہ چھپا لیا اور اُس کے ٹَپ ٹَپ گرتے آنسو دیہہ سماج کے لوگوں کے خون سے سَنی دھرتی میں جذب ہوتے چلے گئے۔ ریاست اور اُس کے اہل کار اندر بڑے گھر میں چلے گئے اور لوگ اپنے زخمیوں کو لے کر اپنے اپنے گھر۔
زوال کے وقت کئی گھروں سے جنازے نکلے اور لیکن دیہہ سماج کے لوگ سب سے ذیادہ اِس بات پر مغموم تھے کہ خالق دہقان کا پہلوٹھی کا بیٹا بھی چل بسا تھا جو کہا کرتا تھا کہ سرگی ویلے پر اندھیرا جاتا رہتا ہے اور سوُرج اُگ آتا ہے اور دیکھو ایسا ہی ہر روز ہوتا ہے۔۔۔۔
دوسری طرف ریاست کے بڑے گھر میں جشن کا سماں تھا۔ ظلم کی تاریکی کو عارضی قُمقُموں سے بہلایا گیا تھا۔ داروُ اور پکوان بٹ رہے تھے۔ نمفو اور اُس کے دوستوں، جن میں اب ساہوکار بھی شامل ہو چکے تھے، اُن کے لیئے ننگے ناچ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مُنادی والے بھی موجود تھے جنہوں نے اگلی صبح ڈھول کی تھاپ پر یہ مُنادی کی کہ خالق دہقان کا پہلوٹھی کا بیٹا اور باقی بالکے پار گاؤں کے خبری تھے جِنہوں نے ریاست پر حملہ کیا۔ ریاست کا نقصان پورے دیہہ سماج کا نقصان ہے۔ سو، ریاست نے اپنی عملداری دِکھا کر اپنی جائز طاقت کا ثبوت دیا اور دیہہ سماج کو پار گاؤں سے آنے والے غداروں سے بچا لیا۔ منادی والوں نے پنڈت کا بیان بھی گاؤں کے بیچوں بیچ والے چوراہے میں سنایا کہ بالکے پوُرے ناستک ہیں اور وہ بھگوان کو نہیں مانتے، تبھی ریاست کی تابعداری سے انکار کرتے ہیں۔ سو جو بھگوان کو نہیں مانتے عین واجب القتل ہیں۔ دیہہ سماج بالکوں کے مرنے پر دکھ نہ کرے۔ ریاست نے یہ اعلان کروایا کہ جو غداروں کا غم کرے گا اسے بِندی خانے میں ڈال دیا جائے گا۔ جب تک یہ عمل جاری رہا، سورج بدلی میں منہ چھُپا کر روتا رہا اور وقت آنے پر اُس نے بھی خود کو سیاہی کے بِندی خانے میں ڈال دیا۔۔۔۔ مگر کب تک۔۔۔۔۔ آخِر ۔۔۔
’’سرگی ویلے پر اندھیرا جاتا رہتا ہے اور سوُرج اُگ آتا ہے اور دیکھو ایسا ہی ہر روز ہوتا ہے۔۔۔۔‘‘
اب بالکوں کی منڈلی پاس جنگل میں جا چھُپی تھی۔ اُدھر پِنڈ میں چوکیداروں کو جِس پر شک ہوتا اُسے ریاست کے بِندی خانے میں ڈال دیتے۔ کِسی سبیل سے بالکوں نے لٹھ بھی حاصل کر لیئے تھے اور وہ اپنی طاقت کے بَل پر بہت سے لوگوں کو بِندی خانوں سے چھڑوا بھی لے جاتے۔ ہر سرگی سے پہلے ان کی باقاعدہ منڈلی بیٹھتی اور وہ ہر وقت اِسی لگن میں رہتے کہ کِس طرح دیہہ سماج کے لوگوں کو دوبارہ اِکٹھا کیا جائے۔ سو، کچھ بالکے بھیس بدل کر گاؤں پہنچ جاتے اور انہیں سرخ سویرے کی یقین دہانی کرواتے اور اکٹھا رہنے کا پرچار کرتے۔ نمفو کے حملوں کے باعث بہت سی مہیلائیں بھی اب بالکوں کے ساتھ مِل چکی تھیں۔ ریاست اور بالکوں کے درمیان ہر وقت لُکا چھُپی کا کھیل جاری رہتا۔
اُدھر کلپٹو کا ٹولہ بھی بڑا ہو گیا اور وہ گاؤں سے سب کچھ چرا لے جاتا۔ سماج کا امن، چین، کمائی، خوشی، خوشحالی سب کُچھ کلیپٹو دِن دیہاڑے لے جاتا۔ ریاست اور اُس کے چوکیدار کلیپٹو اور نمفو کو پناہ دیتے تو ساہوکار ریاست کو۔ سماج کا سب کُچھ تو لُٹ ہی چکا تھا اب اُن کے پاس کھونے کو کُچھ نہ رہا تھا۔ سو، اب وہ دھیرے دھیرے اِکٹھے ہونے لگے۔ اصل میں تو یہ ان کی بھوُک اور ننگ تھی جو ان کو اکٹھا کر رہی تھی۔
بوُڑھا بابا فِطرت خاموشی سے سب کُچھ دیکھتا رہتا۔ ایک دِن بالکوں کی ایک ٹولی نے دیکھا کہ بابا فِطرت اُسی کیکر کی چھاؤں میں سورج کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہا ہے اور یوں بھی اُس کے بیٹے تو کب کے ریاست کے نوکر ہو چُکے تھے۔ سو، بالکے بابے کو اُٹھا کر جنگل میں اپنے ٹھکانے پر لے آئے۔ بابا فطرت وہاں بھی خاموش اور مطمئین رہا۔ سرگی سے ذرا پہلے جب بالکوں نے منڈلی جمائی تو بابا بولا، ’’ کُچھ جانت ہو کہ ریاست کا کھسم کون ہے‘‘؟ منڈلی حیران رہ گئی کہ یہ سوال تو کبھی اُن کو سوُجھا ہی نہ تھا۔ بابے فِطرت نے بتایا کہ دریا پار گاؤں کے ساہوکار ہی ریاست کے اصل کھسم ہیں اور ایک اپنے دیہہ سماج کی کیا وہ تو کئی دیہاتوں کی ریاست بیببیوں سے نجانے کتنے کلپٹوؤں اور نمفوؤں کو جنم دے چکے ہیں۔ بابا فطرت یہ بتا کر بے فِکری سے مُسکراتا رہا مگر بالکوں نے اب اپنی چھاپہ مار کارروایوں کا رُخ ساہوکاروں کی طرف بھی کر دیا۔ اِس کے کارن پار گاؤں کے سماج کے لوگ بھی بالکوں کی باتیں ماننے لگے اور جنگلوں میں بالکوں کا راج چلنے لگا۔
ایک سرگی کو منڈلی بیٹھی تو اُنہوں نے آس پاس گاؤں کے سماجوں کے سبھی مُکھیاؤں کو بلانے کا فیصلہ کیا۔ بہت سے علاقوں کے مُکھیا آئے تو معلوم ہوا کہ ہر طرف ساہوکاروں کا سامراج اِسی طرح سماجوں کو کھا رہا ہے، لوٹ رہا ہے اور قتل کر رہا ہے۔ بالکوں نے انہیں سمجھایا کہ سماج کی ساری زمینیں، پانی، جنگل، دریا سب کُچھ سماج کا ہے۔ لوگ اکٹھے ہوں اور ایک دن طے کر کے ساہوکاروں کے کارندوں کو اپنے اپنے علاقوں سے نکال باہر کریں۔
دن مقرر ہو گیا۔ بابا فطرت یہ سب کُچھ خاموشی اور اطمینان سے دیکھتا رہا اور بلآخر وہ دن آ گیا جب بہت سے عِلاقوں میں لوہاروں، ترکھانوں، نائیوں، میراثیوں، دہقانوں اور ہاریوں نے سامراج اور اُس کی رکھیل ریاست کے جبر کا انکار کر دیا۔ ریاست کے چوکیدار ابھی سنبھل ہی رہے تھے کہ بالکوں نے اُن پر حملہ کر دیا۔ لڑائی کچھ دن جاری رہی مگر بلآخر دیہہ سماجوں نے کئی علاقے سامراج سے خالی کروا لیئے۔
اب اپنے کھانے، پینے، پہننے اور اوڑھنے کے لیئے پورا سماج مِل کر پیدا کرتا اور مل کر بانٹتا۔ گھروں میں خوشیاں لوٹ آئیں اور خوشحالی نے کروٹ لی۔ پیداوار کے تہوار پر بچے ہنستے گاتے۔ اب بچوں نے مدرسے بھی بنا لیئے تھے کہ وہ علم حاصل کرنے کے لئیے پنڈت کے محتاج رہنا نہیں چاہتے تھے۔ بابا فطرت جو اب بہت بوُڑھا ہو چکا تھا ایک مدرسے کے قریب سے گذرا تو اُس نے دیکھا کہ بچوں کو پڑھایا جا رہا تھا کہ
خالق دہقان کے پہلوٹھی کے بیٹے نے کہا کہ ۔۔۔۔۔۔
سرگی ویلے پر اندھیرا جاتا رہتا ہے اور سوُرج اُگ آتا ہے اور دیکھو ایسا ہی ہر روز ہوتا ہے۔۔۔۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker