ادبافسانےڈاکٹر فرزانہ کوکبلکھاری

افسانہ” آخری آدمی “اور “زومبیز “پر بنی فلمیں”۔۔ڈاکٹر فرزانہ کوکب

ہمارے ہاں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد چند روز سے جاری لوگوں کے شاپنگ کی دکانوں پر ٹوٹ پڑنے کے ششدر کر دینے والے تماشے کو دیکھ کر انتظار حسین کا اساطیری افسانہ ” آخری آدمی “ ذہن میں گردش کرنے لگا۔افسانے کا تانا بانا بننے کے لئے قصص القرآن کے ان قصوں میں سے ایک قصہ کا انتخاب کیا گیا ہے۔جن میں یہ بیان ہوا کہ کس طرح الله تعالیٰ نے بعض قوموں کی نافرمانی اور سرکشی کی انہیں عبرتناک سزا دی۔”آخری آدمی”میں بھی بنی اسرائیل کی اس سرکش قوم کی عبرتناک سزا کے قصے پر افسانے کی بنیاد رکھی گئی ہے جنہیں صرف ایک دن یعنی سبت کر روز مچھلیاں پکڑنے سے منع کیا گیا۔لیکن انہوں نے ناصرف نافرمانی کی بلکہ مچھلیاں پکڑنے کے لئے ایسا طریقۂ کار اختیار کیا کہ الله سے بھی مکر کرنے کی کوشش کی۔تو پھر ان کو عبرتناک سزا دی گئی اور ان کی جون تبدیل کر دی گئی۔ انہیں انسان سے بندر بنا دیا گیا۔
قصہ کو دور حاضر کی مادیت پرستی کے تناظر میں پرکھا جاسکتا ہے جس نے مادیت پرست انسانوں سےان کی تمام اخلاقی اور انسانی اقدار کو چھین کر شاید انہیں انسان نما بنا دیا لیکن انسان نہیں رہنے دیا۔
نافرمانی کی سزا تو کا آغاز تو کائنات کے پہلے انسان حضرت آدم سے ہی ہوگیا تھا۔وہ آدم جسے خالق کائنات نے اشرف المخلوقات بنایا۔سارے فرشتوں کو اسے سجدہ کروایا۔اور اپنے مقرب فرشتے ابلیس سے آدم کو سجدہ نہ کرنے کی پاداش میں اس سے اس کا مقام و مرتبہ چھین کر اپنی بارگاہ خاص سے ہمیشہ کے لئے بے دخل کیا۔خدا کی اس سب سے محبوب مخلوق یعنی آدم و حوا نے جب اس کی نافرمانی کی تو اسے بھی سزا دی گئی۔
اب حالیہ منظر نامہ کو دیکھیں۔وبا ہے اور کوئی پہلی بار نہیں آئی۔وبائیں آتی اورپھیلتی رہی ہیں۔ کروڑوں انسان ان کا شکار ہوکر لقمۂ اجل بنتے رہے۔اب ان لوگوں کو کون سمجھائے کہ اعتبار نہیں تو حکومت کی نہ مانو،ڈاکٹروں کی نہ مانو،پورے عالمی منظر نامے کی اس وبا کے سبب جانی اور معاشی تباہی کو جھوٹے افسانے قرار دے دو۔کسی عالمی سازش سے اس کو نتھی کردو۔کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لو۔یا سارس کی طرح گیلی ریت میں مونہہ چھپالو۔کسی کی نہ مانو لیکن جس نبی(صلم)آخری الزماں پر ایمان رکھتے ہو اس کی تو مانو۔وبا اور اس سے بچنے اور احتیاط کے حوالے سے جو کچھ انہوں نے کہا اس کو تو مانو۔نبی(صلم) کی محبت میں قتل کرتے ہو اب نبی (صلم)کی نا مان کر قتل ہو رہے ہو اور قتل کر رہے ہو۔اگر یہ بائیو وار ہے تو عاقبت نا اندیش انسانوں کا یہ خوف زذہ کر دینے والاانبوہ کیوں خود کش بمبار بننے پر تلا ہے۔یا پھر وہ زومبیز جن پر اب تک فلمیں دکھائی جاتی رہیں کہ لاعلمی میں کسی وائرس زدہ علاقہ میں جانے یا کسی قسم کا وائرس زدہ کیمیکل کسی طرح ان کے جسموں میں منتقل ہونے سے یہ وائرس زدہ انسان کس طرح دوسرے نارمل انسانوں کو ڈھونڈ ڈ ڈھونڈ کر ان میں زبردستی وائرس منتقل کر دیتے ہیں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ اس سرکشی،نافرمانی لاپرواہی اور ناعاقبت اندیشی کے نتیجے میں یہ کرۂ ارض انسان نما زومبیز کا تو مستقر بن جائے لیکن کسی انسان کا اس میں زندہ رہنا ناممکن ہو جائے

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker