افسانےحنا عنبرینلکھاری

زنجیر ( 2 ) ۔۔ حنا عنبرین

وہ کمالے کے لیے اپنے ہاتھوں سے کھانا بناتی۔ کمالے کو اچانک پتہ نہیں کیا ہو جاتا ،وہ کسی بھی بات پر ناراض ہو کے کھانا الٹ دیتا۔ اس کے کپڑے اپنے ہاتھوں سے دھوتی پھر استری کرے الماری میں لگاتی۔ اس کے جوتے پالش کرتی۔
وہ اسے پیارا لگتا۔اور اس کی دین دنیا وہی تو تھا .تھوڑے دنوں میں ہی وہ کُملا اور مرجھا کر رہ گئی تھی۔ چاچی نے کمالے کو خوب ڈانٹا نئی نویلی دلہن ہے سارا دن تیرے ناز نخرے اٹھاتی ہے ۔کبھی اسے کی سیر ہی کرا لایا کر۔ اس کا دل لگایا کر ۔ ہنسا بولا کر ! سڑا سڑایا ہی رہتا ہے ہر وقت سارا دن بکریوں بھینسوں میں لگا رہتا ہے اپنی زنانی کے پاس بھی بیٹھا کر۔ گھر سے ایک کلو میٹر پر ہی دریا تھا۔ وہ چاچی کے کہنے پر اسے دریا دکھانے لے آیا ۔آج وہ پہلے سے خوشگوار موڈ میں لگ رہا تھا۔ اس نے اس کی تعریف بھی کی ۔نوراں تو گاؤں کی سب لڑکیوں سے پیاری ہے۔اچھا !پر تو نے تو کبھی میری تعریف نہیں کی ۔اب کر رہا ہوں نا!وہ خوش ہو گئی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر چلنے لگی۔ اسے پانی سے ہمیشہ خوف آتا تھا ۔میں دریا کے پاس نہیں جاؤں گی ۔اس نے مضبوطی سے اس کا بازو پکڑ لیا۔ ارے ! ڈرنے کی کیا بات ہے میں ہوں نا تمہارے ساتھ ! وہ جان بوجھ کے کنارے کے اور بھی قریب چلنے لگا۔ اسے سوچ کر ہی وحشت ہورہی تھی کہ اگر وہ اس میں گر گئی تو کیا ہوگا۔ اچانک کمالے نے زور کا دھکا دے کر اسے پانی میں گرا دیا اور اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔


سید ملاح اپنی پانی کی کین پر تیرتا ہوا دور سے دکھائی دیا اسے دیکھ کے کمالا زور زور سے چیخنے لگا چاچا میری گھر والی ڈوب گئی اسے نکال دو ۔چاچے نےبڑی مشقت سے نوراں کو باہر نکالا۔ اس کا پیٹ دبا یا ۔پانی اس کے نتھنوں سے باہر نکل آیا۔ وہ بالکل مردہ ہو چکی تھی ۔مٹی سے سارا جسم لتھڑ گیا تھا۔ کتنی دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں تو کمالا رونے لگا۔ شکر ہے شکر ہے اللہ کا ! اگر سیدو ملاح نا آتا تو میں اپنے اور نوراں کے ماں باپ کو کیا جواب دیتا ! نوراں بہت خوف زدہ تھی وہ بار بار یاد کرنے کی کوشش کررہی تھی کہ وہ خود گری تھی کہ کمالے نے اسے گرایا تھا مگر یادداشت ساتھ نہیں دے رہی تھی ۔چاچی نے کتنے دن صدقے اتارے اتارے مرچیں وار کے جلائیں میری بہو کو جانے کس کی نظر لگ گئی ہے۔ کئی دن بعد جب طبیعت بحال ہوئی تو کمالا اس سے ضد کرنے لگا چل میں تجھے سیر کرا لاؤں۔ نہیں! میں نہیں جاؤں گی۔ اچھا پکا وعدہ اب کی بار دریا پر نہیں جائیں گے۔ مجھے تجھ سے خوف آتا ہے ۔تو جب بھی اچھا بولتا ہے اسی دن کچھ ہو جاتا ہے ۔وہم ہے تیرا ! میں تیرا خاوند ہوں ۔ایسے ہوتے ہیں خاوند؟ کتنا ڈانٹتا ہے تومجھے؟ میں کتنے دل سے تیرے سارے کام کرتی ہوں !اور تجھے میرے ہر کام میں کیڑے نظر آتے ہیں ۔وہ بہت کمزور ہو رہی تھی اس کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ اچھا چل چھوڑ ان باتوں کو! چل آ تجھے گھما لاؤں۔ وہ کافی دیر چلتے رہے کمالے نے اس دن اس سے کافی باتیں کیں۔ مختلف جنگلی پودے دکھاۓ ۔یہ فلاں درخت ہے یہاں سے وہاں تک ہماری زمین ہے ۔وہ کافی حد تک مطمئن ہو گئ تھی اور بہل گئ تھی۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ۔وہ تقریباً دوڑتے ہوۓ کافی دور نکل آئی تو اسے احساس ہوا کمالا کہیں پیچھے رہ گیا ہے ۔وہ بہت پریشان ہوئی ۔اسے جنگل کا راستہ معلوم نہیں تھا، وہ بھٹک گئ تھی۔ شام گہری ہوتی جارہی تھی اور کمالے کا کہیں کچھ پتہ نہیں تھا۔ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔ اسے کچھ خبر نہیں تھی کون کب اسے گھر تک لایا تھا۔ پر کمالے کو بہت ڈانٹ پڑی بلکہ چاچے نے اسے کئی لاٹھیاں بھی ماریں ۔میں تو رات تک اسے ڈھونڈتا رہا۔ مرد ہو کر اپنی زنانی کی حفاظت نہیں کر سکتا؟ تو نے اسے کیوں اتنی دور جانے دیا .اس کی آنکھ کھلی تو اماں ابا چاچا چاچی آس پاس بیٹھے تھے ۔خدا نے بچا لیا میری بچی کو! وہ اماں سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کے رودی۔ کمالے کے رویے نے اس کا دل توڑ دیا تھا۔وہ کسی طرح بھی اس کا دل نہیں جیت پائی تھی ۔اماں مجھے گھر لے جا ۔چل پتر !کچھ دن ہو آ تیرا دل بہل جاۓ گا ۔چاچے نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا۔ کمالا سر جھکاۓ خاموش بیٹھا تھا۔ اس نے ایک گٹھڑی میں اپنے کچھ جوڑے باندھے اور اماں ابا کے ساتھ گھر آگئی۔کمالا کبھی اسے لینے نہ آتا ۔مہینوں گزر جاتے پھر چاچا چاچی منا کے لے جاتے ۔مہینہ دو ہی گزرتے کہ وہ لڑ لڑ کے اسے چھوڑ جاتا۔ دو پیارے بچے بھی دیے اللہ نے اسے پر کمالے کو بچوں کی بھی کوئی پروا نہیں تھی۔ وہ اپنے بچوں کو دیکھ دیکھ کر جیتی تھی۔ کمالے کا رویہ عجیب تھا، اچانک غصے میں آجاتا ،مٹھیاں بھینچ کر دانت کچکچانے لگتا اور اچانک ہنسنے لگتا ۔وہ ٹھیک نہیں لگتا تھا ایک دن کپڑے رکھنے کےلیے اس نے الماری کھولی تو ایک دوائی کا پتہ نیچے گرگیا جو اس نے اپنے پاس سنبھال لیا ۔اب بھی کسی چھوٹی بات کا بہانہ کر کے وہ اسے اماں کے گھر چھوڑ گیا تھا۔ اس نے کنیز باجی کو وہ دوا دکھائی تو انہوں نے بتایا کہ یہ دماغ کی کسی بیماری کی دوا ہے۔ وہ بہت پریشان ہوگئی تھی مگر اس نے اماں ابا سے اس کا ذکر نہ کیا ۔بلا وجہ فکر کریں گے اور کنیز باجی کوبھی منع کیا بتانے سے ۔پر تم اپنی چاچی کو ضرور بتاؤ ہوسکتا ہے انہیں پہلے سے علم ہو ! اب کی بار تو حد ہی کردی تھی پورے نو مہینے ہو گئے تھے وہ اسے لینے نہیں آیا تھا۔ آج صبح ہی چاچا چاچی اسے لینے آۓ تھے ، ماضی کے بیتے واقعات اور کمالے کا اس کے ساتھ سلوک سوچ سوچ کر اس کا دل بجھتا جا رہا تھا۔ ہم کمالے کی طرف سے بھی معافی مانگتے ہیں وہ بہت شرمندہ ہے آپ کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہے اس میں۔ اس لیے نہیں آیا ۔کہتا ہے ایک بار نوراں کو منا دو پھر کبھی شکایت کا موقع نہیں دوں گا۔ وہ باہر آگئی میں کبھی اس کے گھر نہیں جاؤں گی ۔ابا خدا کے لیے مجھے اس کے پاس نہ بھیج ۔تو جیسے رکھے گا میں رہوں گی ۔کچھ نہیں مانگوں گی۔ اب بہت ہوگئی ۔کاش میں کنیز آپا کی بات سمجھ گئی ہوتی کہ جب تک لڑکے اور لڑکی دونوں کی رضا مندی ظاہر نہ ہو انہیں نکاح کے بندھن باندھنا چاہیے نہیں تو یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ چاچی شرمندہ ہو کے نظریں چرانے لگی وہ جانتی تھی۔ کمالا ہرگز شادی کے لیے رضامند نہیں تھا۔ بہت دیر تک وہ دونوں ابا کی منت سماجت کرتے رہے ،ایک موقع دے دو! آخری بار ! اب ایسا نہیں ہو گا ۔آخر ابا کا دل نرم پڑ گیا۔


چل نوراں کی ماں نوراں کی اور بچوں کی تیاری کرا دے۔ ایک موقع دے دیتے ہیں انہیں۔ اس نے ابا کو مدد طلب نظروں سے دیکھا اور کہا ۔ ابا مجھے نہ بھیج ! زبردستی بسیرے نہیں ہوتے ۔ مگر ابا کی ملتجی آنکھوں کو دیکھ کر اسے بہت ترس آیا۔ وہ اٹھی اور خاموشی سے کپڑے سمیٹنے لگی۔ کمالا گھر کے دروازے پر ہی ان کا انتظار کر رہا تھا۔ شکر ہے نوراں تو نے مجھے معاف کردیا ورنہ میں کبھی خود کو معاف نہیں کر پاتا۔ پھر وہ جلدی سے جاکے بچوں کا دودھ چاول اور پھل لے آیا ۔چل توچاول پکا میں ذرا باہر سے ہو کے آتا ہوں۔ اس نے اپنا کمرہ صاف کیا ۔چارپائیوں کی چادریں تبدیل کیں ،برتن دھوکے الماریوں میں لگاۓ، کتنے دنوں بعد اپنے گھر کا سکون ملا تھا۔ بچوں کو نہلا دھلا کے تیار کیا ،ان کے فیڈر دھو کے رکھے، چاول دم پر رکھ کے خود نہا کے لپ اسٹک لگائی ،بال سکھا رہی تھی کہ کمالا آگیا۔ اس کے حلیے سے لگ رہا تھا کہ بڑی دور سے ہو کے آیا ہے۔ کہاں گیا تھا ؟شام پڑ گئی تجھے آتے آتے ! بس دوستوں میں بیٹھ گیا تھا۔ وہ اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔آج تو بہت نکھار آیا ہے تجھ میں! وہ شرما گئی ۔تو مجھے ایسے دیکھتا رہے گا تو اور بھی نکھرتی چلی جاؤں گی! دیکھ میں تیرے لیے جوس لایا ہوں تجھے اپنے ہاتھ سے ٹھنڈا کر کے پلا تا ہوں وہ باورچی خانے میں شیشے کے گلاس میں جوس ڈالنے لگا پھر اس نے نظر بچا کے جیب سے سفید پڑیا نکالی اور نوراں کے گلاس میں چپکے سے ملا دی۔ وہ بڑی دور سے بے ہوش کرنے کی دوا لایا تھا۔ نوراں کو اس نے اپنے ہاتھ سے سارا گلاس پلا دیا۔ پھر اس کے بال سہلانے لگا ۔کچھ ہی دیر میں نوراں اس کی بانہوں میں جھول گئ ،اس نے احتیاط سے اسے پلنگ پر لٹا دیا اور دونوں ہاتھ اس کے گلے پر رکھ دیے ۔گلےپر اس کے گرفت بڑھ رہی تھی ۔نوراں سخت نشے میں بھی ہاتھ پاؤں مار رہی تھی۔ آخر کار پاؤں کی حرکت بند ہو گئی۔ اور گردن ایک طرف ڈھلک گئی ۔کمالے کے منہ سے جھاگ نکل رہا تھا اور وہ جنگلی شیر کی طرح ہانپ رہا تھا جس نے اپنے شکار کو نوچ کھایا ہو آستین سے تھوک صاف کرتے ہوۓ تیزی سے باہر نکل گیا۔ چاول دم پر رکھے تھے فیڈر دھلے رکھے تھے دونوں بچے ماں کے پاس کھڑے بھوکے رو رہے تھے۔تھوڑی ہی دیر میں پورے گاؤں میں آگ کی طرح یہ خبر پھیل چکی تھی ۔کمالے اور اس کے باپ کو پولیس پکڑ کے لے گئی تھی ۔اماں اور ابا دو زندہ لاشوں میں تبدیل ہو چکے تھے ۔اس پر سائن کردو کہ کمالے نے تمہاری بیٹی کو قتل کردیا ہے ۔نہیں اسے کمالے نے نہیں میں نے قتل کیا ہے، کمالا بے قصور ہے ۔ابا کی آنکھوں میں نوراں کا آنسوؤں بھرا چہرا ابھر رہا تھا۔ جب وہ مدد طلب نظروں سے ابا کو دیکھ رہی تھی ۔ابا مجھے نہ بھیج ! زبردستی بسیرے نہیں ہوتے اور باپ اسے زبردستی گھر بسانے پر مجبور کرتا رہا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker