حنا عنبرینشاعریلکھاری

نظم : ریکھا ۔۔حنا عنبرین

1
خستگی !میں ترے سوزنوں سے کمائی ہوئی خاک ہوں
رودکوہی نے کیسے ڈبویا مری ذات کو
رات کے باٹ سے کتنے ٹکڑے اٹھا کر جبینیں سجائی گئیں
نیند کی بیٹیاں شہر ِ آشوب سے ڈھونڈ لائی گئیں
لعل مٹی میں ملنے کے قابل نہ تھے
کیوں ملاۓ گۓ
آنکھ سے بحر ِ کاہل کی جانب ندی چل پڑی
اک بلا دوزخی آن کی آن میں پل پڑی
کیا تہہ ِ خاک ہے !
2
موت بے باک ہے
تھامتے تھامتے اس کی باگیں
جوانوں کے کندھوں میں خم آ گۓ
شہر میں کیسے اندھے بلَم آ گۓ
دھات کی آنکھ سونے کے دل ہوگۓ
وہ جو محبوب تھے
دیکھتے دیکھتے سنگدل ہوگۓ
3
میں جو یکسانیت سے بہت اوبھتی تھی
اسی معنی خیزی کی دلدل میں دھنسنے کو تیار تھی
جس کے چاروں طرف آہنی باڑ تھی
جھاڑ جھنکاڑ تھی
4
خود پہنے ہوۓ ایک کائر بدن
پھول چھو کر جسے زخم کھاتا رہے
مخملی پتیوں سے لہو کو بہاتا رہے
5
کس کی تجویز تھی
اجنبی راستوں پر تقدم سے پہلے
کوئی فال قرعہ نکالا نہیں
داستانوں میں اک داستاں تھی کہیں
جس میں اک بار پھر
ڈارکر میں گرے اور اینا ملے
کیوں کہ ان کی محبت کی راہوں میں
سکّے نمایاں نہ تھے
روپ کی دھوپ موسم پہن کر نکلتی تھی
اور جامعہ کے حسیں ٹیرسوں کی کئی کھڑکیاں
پائیں باغوں کی جانب کھلی تھیں
مگر تم نے دیکھا نہیں
کاہنوں نے کہا تھا
بلوری ہتھیلی میں ملنے کی ریکھا نہیں

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker