افسانےحنا شہزادیلکھاری

بونا لارڈ (انگریزی کہانی) الڈس ہکسلے / حنا شہزادی

کئی دہائیوں پہلے کی بات ہے یورپ سے ایک جوڑا پاکستان کے قبائلی علاقے میں رہائش پذیر ہوا۔ ان کی شادی کو کئی سال گزر گئے اور ان کے ہاں دو بار بچے پیدا ہوئے جو چند دنوں میں ہی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ دونوں میاں بیوی تقریباً مایوس ہو چکے تھے۔ پھر خدا نے کرم کیا تو ان کے گھر ایک لڑکے کی پیدائش ہوئی۔ جس کا نام اس کے نانا کے نام پر ہرکولیس رکھا گیا۔ دونوں میاں بیوی بہت خوش ہوئے اور اپنی اپنی ڈائریوں میں اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ جب لارڈ ہرکولیس بڑا ہونا شروع ہوا تو اس کے والدین کو کچھ غیر معمولی پن محسوس ہوا مگر انہوں نے زیادہ دھیان نہیں دیا۔ جیسے جیسے لارڈ کی عمر میں اضافہ ہوتا گیا اس کے والدین کے لئے پریشانیوں میں اضافہ ہوا۔ جب لارڈ چھ سال کا ہوا تو اس کا قد صرف 2 فٹ تھا۔ اس کے والدین نے اس کے چھوٹے قد سے گھبرا کر بڑے سے بڑے ڈاکٹروں کو دکھایا۔ لوگوں کے کہنے پر حکیموں اور دوا داروں کے پاس بھی لے کے گئے اور پیروں فقیروں کی بھی خاک چھانی ہر طرح کی مساج اور مالش بھی آزمائی گئی اور ہر طرح کی ورزش اور خوراک کا بھی اہتمام کیا گیا لیکن کوئی خاطرخواہ فرق نہ پڑا۔ آخرکار اس کے والدین نے تھک ہار کر اس تلخ حقیقت کو تسلیم کر لیا کہ ان کا بیٹے ایک بونا ہے اور وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ لارڈ ہرکولیس کا باپ اپنی وراثت کا بے تاج بادشاہ تھا اور وہ اپنے قبیلے کے علاوہ باقی قبیلوں پر بھی راج کرنے کے خواب دیکھتا تھا لیکن اس صورت حال سے اتنا مایوس ہوا کہ ڈپریشن کا شکار ہو گیا اور اس ڈپریشن میں اس نے لارڈ پر اپنا غصہ نکالنا شروع کیا۔ وہ آہستہ آہستہ تنہائی کا شکار ہو گیا اور اپنی تنہائی دور کرنے کے لئے شراب نوشی شروع کر دی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ کثرت شراب نوشی کی وجہ سے کینسر کا مریض ہوا اور ایک دن موت کی آغوش میں چلا گیا۔ شوہر کی جدائی کے بعد لارڈ کی ماں مزید تنہا ہو گئی اور کچھ عرصے بعد وہ بھی اپنے شوہر کے ساتھ ابدی نیند سو گئی۔
اکیس سال کی عمر میں لارڈ اپنی وراثت کا بادشاہ تھا۔ اس نے اپنی وراثت میں اپنی شخصیت کے مطابق تبدیلیاں کیں اور جو ریاست نارمل نظر آتی تھی اب وہ یکسر تبدیل ہو گئی۔ سب سے پہلے لارڈ نے تمام ملازموں کو تبدیل کیا۔ بڑے قد کے ملازموں کو نکال کر چھوٹے اور پست قد کے ملازم بھرتی کئے گئے۔ سب سے بڑے ملازم کا قد 4 فٹ اور سب سے چھوٹے کا قد ڈیڑھ فٹ تھا۔ اس کے بعد لارڈ نے تمام فرنیچر اپنے قد کے مطابق ترتیب دیا تاکہ اس کے بیٹھنے اور آرام میں خلل نہ پیدا ہو۔ اس کے بعد پالتو کتوں کی باری آئی۔ لارڈ نے اپنے باپ کے تمام پالتو کتے اپنے دوستوں کو Gift کر دیئے اور خود اعلیٰ نسل کے چھوٹے قد کے کتے خرید لئے۔ اس کے بعد جتنے بڑے نسل کے اور اعلیٰ گھوڑے تھے وہ سب بیچ کے چھوٹے قد کی گھوڑیاں خرید لیں۔ اس کے بعد لارڈ نے تمام ملکوں کی سیر و سیاحت کا پروگرام بنایا اور نکل پڑا۔ لارڈ حسن پرست بھی تھا اور بڑی شاعرانہ طبیعت کا مالک تھا۔ سیر و سیاحت کے دوران ایک لڑکی نے اس کو اتنا متاثر کیا اور اس کی نیلی آنکھوں پر تو لارڈ فدا تھا۔ اس سے متاثر ہو کر لارڈ نے اس کے سامنے اظہار محبت کیا اور وہ لڑکی لارڈ کا اظہار محبت سن کر بہت محظوظ ہوئی اور اس کا خوب مذاق اڑایا۔ جب لارڈ نے ہمت نہ ہاری تو ایک دن لڑکی نے لارڈ کو کندھوں سے اٹھا کر طاق پر بٹھا دیا اور کہا کہ اگر دوبارہ مجھ سے مذاق کیا تو طاق سے نیچے نہیں اتارو گی۔ لارڈ اس واقعے بعد بہت بددل ہوا لیکن اس کا عاشقانہ مزاج ختم نہ ہوا بس اس نے اپنے جذبات کا اظہار کرنا بند کر دیا اور طے کیا کہ وہ شادی اپنی ہی جیسی لڑکی سے کرے گا اس نے سب سے کہا کہ اس کو چھوٹے طبقے کی ہی لڑکی ہو لیکن وہ ذہین اور خوبصورت ہو۔ لارڈ کے کئی رشتے آئے لیکن اس نے منع کر دیا۔ بالآخر لارڈ کی تلاش ختم ہوئی اور اس کی شادی لیڈی فلمونا سے ہو گئی۔ یہ قدرت کی کرنی تھی کہ لارڈ کی قسمت اچھی نکلی۔ لارڈ اور فلمونا کے خیالات اور پسند ناپسند ایک جیسی تھی۔ سب سے بڑی بات دونوں کو موسیقی کا بہت شوق تھا کہ وہ اپنی ازدواجی زندگی کے پہلے ایام بہت خوش و خرم گزارے۔ مختلف ممالک کی سیر کی اور جب دل چاہتا سیر اور شکار پر نکل جاتے۔ پھر ایک دن فلمونا کو محسوس ہوا کہ وہ حاملہ ہے۔ دونوں میاں بیوی بہت خوش ہوئے اور سوچا کہ یہ ہماری نسل کو مزید پروان چڑھائے گا اور دنیا میں ایک مقام حاصل کرے گا۔ پھر ان کے ہاں ایک بچے کی پیدائش ہوئی جس کا نام فرڈیننڈ رکھا گیا۔ اپنے والدین کی عادات کو اپناتے ہوئے لارڈ اور فلمونا نے بھی اپنے اپنے جذبات کا اظہار اپنی ڈائری میں کیا اور خوشی خوشی فرڈیننڈ کی پرورش کرنے لگے۔ لیکن دونوں جلد ہی نومولود کی بڑھتی صحت کو دیکھتے ہوئے پریشان ہو گئے کیونکہ اس کی جسامت اور قد کاٹھ بالکل نارمل تھا اور وہ ایک نارمل انسان کی طرح پروان چڑھ رہا تھا۔ اس بات نے دونوں کو پریشان کر دیا لیکن اس موضوع پر کبھی بھی دونوں نے آپس میں بات نہ کی۔ جب فرڈیننڈ تین سال کا ہوا تو اس کا قد ماں کے قد سے بڑا ہو چکا تھا اور وہ بہت زیادہ بدتمیز‘ ڈھیٹ اور نافرمان تھا۔ اس کا علاج یہ سوچا گیا کہ وہ اس کو پڑھنے کے لئے دور دراز کے سکول میں داخل کروا دیتے ہیں لیکن جب بھی فرڈیننڈ گھر آتا تو سب ملازموں کی شامت ہوتی۔ ایک دفعہ جب فرڈیننڈ گرمیوں کی چھٹیوں میں گھر آیا تو اس کے ساتھ ایک اعلیٰ نسل کا کتا بھی تھا۔ جس نے فلمونا کو غیر اور اجنبی پا کر اس پر حملہ کر دیا اور اپنے دانت فلمونا کی ٹانگ میں گاڑ دیئے۔ اس وقت لارڈ نے اپنی تلوار نکالی اور کتے کو ختم کر دیا جس بات پر لارڈ اور فرڈیننڈ کے درمیان جھگڑا ہوا اور اس نے گھر آنے کی بجائے مختلف ممالک کی سیر و سیاحت کو ترجیح دی اور اس طرح کئی برس بیت گئے۔
آخرکار فرڈیننڈ جوان ہو گیا اور لارڈ اور فلمونا بڑھاپے کی دہلیز پر جا پہنچے۔ فرڈیننڈ اپنی تعلیم مکمل کر کے اکلوتے وارث کی حیثیت سے گھر واپس آ گیا اور اس کے ساتھ اس کے دوست اور دوستوں کے ملازم بھی تھے۔ جو ڈر اور خدشات لارڈ اور فلمونا کو لاحق تھے اس کی تعبیر نظر آ رہی تھی۔ اس سب کے باوجود لارڈ اعلیٰ مہمان نواز ہونے کے ناطے اپنے مہمانوں کی اچھی مہمان نوازی کر رہا تھا اور ان کو پورا پورا وقت دے رہا تھا جبکہ مہمانوں کی توجہ لارڈ کی باتوں کے بجائے اس کے ملازموں پر تھی جو کھانا لگائے ہوئے کافی مضحکہ خیز لگ رہے تھے اور ان کی ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ جب لارڈ کی برداشت جواب دے گئی تو وہ معذرت کرتے ہوئے اوپر اپنے بیڈ روم میں چلا گیا اس نے اپنے بیٹے کے اور اس کے دوستوں کی ہنسی کی آواز بھی سنی۔ آدھی رات کو لارڈ اور فلمونا کی شور سے آنکھ کھلی۔ لارڈ معاملے کی نوعیت جاننے کے لئے جب نیچے آیا تو اس نے دیکھا کہ فرڈیننڈ اور اس کے دوستوں نے سب سے بوڑھے ملازم کو میز پر کھڑا کیا ہوا ہے اور اس سے ڈانس کروا رہے ہیں اور ساتھ میں شراب نوشی خود بھی کر رہے ہیں اور زبردستی اس کو بھی پلا رہے ہیں۔ پھر لارڈ کے کانوں میں الفاظ پڑے۔ اس نے تو لارڈ کو چکرا کر رکھ دیا اور وہ فوراً اپنی بیوی کے پاس گیا اور بولا فلمونا ہمارے پاس صرف آج کی رات ہے۔ اگر ہم آج اپنی زندگی ختم نہ کی تو کل سے ذلت کی زندگی کی شروعات ہو جائے گی جو کبھی ختم نہ ہو گی اور ہم کسی اور سے کیا خود سے بھی نظر ملانے کے قابل نہ ہوں گے۔ دونوں میاں بیوی نے اتفاق کیا کہ موت کو گلے لگانا ہی آخری حل ہے۔ اپنے معمول کے مطابق دونوں میں اپنے خیالات قلمبند کئے اور خود کو ابدی نیند کے سپرد کر دیا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker