ہر دور کا فرعون نخوت،غرور،تکبر اور گھمنڈ کا استعارہ ہوتا ہے،وہ اپنے آپ کو دنیا کا سب سے طاقتور،مضبوط اور ناقابل ِ شکست انسان تصور کرتا ہے۔ایک فرعون تو تاریخ میں ایسا بھی گزرا ہے،جسے رب (معاذاللہ)ہونے کا دعویٰ تھا،مگر جو
رب تھا اس نے آخر کار اسے باور کرادیا کہ رب وہ نہیں ہوتا جو ظلم و تشدد اور جبر سے بندوں کو زیر کر لے،بلکہ رب وہ ہوتا ہے جو مخلوق کو اپنے احسانات سے زیر بار کرلے۔
فراعین مصر کے صدیوں بعد سرزمین مکہ پر ابو جہل نام کا ایک شخص پیدا ہوا جس نے خدائی کا دعویٰ تو نہ کیا،لیکن اپنے آپ کو حق کے سامنے آہنی دیوار تصور کرتا تھا،اس نے حق کے علمبرداروں پر کیا کیا ظلم نہیں ڈھائے،اس داستان کا ذکر چھیڑیں تو کئی زندگیاں بیت جائیں مگر داستان ختم نہ ہو۔
سرزمین عرب پر برپا ہونے والا حق و باطل (اسلام اور کفر)کا پہلا معرکہ ”غزوہ ء بدر“ کہلاتا ہے جو اسی ماہِ معظم و مقدس یعنی رمضان المبارک 2 ہجری میں برپاہوا۔ایک طرف نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کے 313 تقریباََ نہتے جانثار تھے، دوسری جانب سامان حرب سے لیس ابو جہل کی فوج جو ایک ہزار سے زیادہ نفوس پر مشتمل تھی،تیرو تفنگ،عمدہ غذاؤں سے پلے سینکڑوں گھوڑے اور اونٹ،اس پر مستزاد مکہ کے تمام قبیلوں کے سردارپوری سطوت و جلال کے ساتھ،فتح کا جشن منانے کے لئے ناچنے گانے والی دوشیزائیں اور رجز پڑھ پڑھ کر جنگجوؤں کے جذبات کو مہمیز لگانے والی حسینائیں،سب محاذِ جنگ پر لگے خیموں میں محفوظ۔
غزوہ ء عُشیرہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ کی کی گرفت سے بچ کر نکل جانے والا قافلہ اب شام سے مکہ پلٹنے والاتھا،نبی اکرم ﷺ نے طلحہ بن عبیدؓاللہ اور سعید ؓ بن زید کو حالات کا جائزہ لینے کے لئے بھیجا،ان ہی کے ذریعے رسول ﷺ کو اطلاع ملی کہ ابوسفیان ایک ہزار اونٹ،کم ازکم پچاس ہزار دینار نقد اور تین سو کلو کے لگ بھگ سونے پر مشتمل مال و متاع لئے چالیس مسلح آدمیوں کی نگرانی میں گزرنے والا ہے۔
اہل مدینہ کے لئے زریں موقع تھا کہ مکہ والوں کو گھیر کر یہ سب مال و زر چھین لیا جائے جن سے ان کی معیشت کی کمر ٹوٹنے کے ساتھ ان کی سیاسی قوت کو بھی زک پہنچے۔رسول خدا ﷺ خود اس معرکے کے لئے دشمن کے خلاف صف آراء ہونے نکلے،مدینے کی امامت ودیگر انتظام و انصرام کی ذمہ داری حضرت ابن امّ مکتوم ؓ کے کندھوں پر ڈالی۔
تین سو تیرہ سے کچھ اوپر مہاجرؓ اور باقی سب انصار ؓ جن میں اکسٹھ کا تعلق قبیلہ اوس سے تھا اور ایک سو ستر قبیلہ خزرج سے تھے،پورے لشکر کے پاس دوگھوڑے،اور ستر اونٹ تھے،ہر اونٹ پر دو یا تین لوگ باری باری سوار ہوتے۔
زمانہ ساز ابوسفیان نے جاسوسی ذرائع سے معلو م کر لیا کہ کچھ ہونے والا ہے تبھی تو ضم ضم نامی شخص کو سبک رفتاری سے مکہ پہنچنے کو کہا جس نے عرب دستور کے مطابق اپنے اونٹ کی ناک چپڑی،کجاوہ الٹا،کرتا تاتار کیا اور مکہ کی وادی میں کھڑا
ہوکر چلایا ”سنو! مکہ والو تمہارا مال جو ابوسفیان اپنی نگرانی میں لا رہا تھا،اس پر محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں نے چڑھائی کرنے کا ارادہ کر لیا ہے،پس ابو جہل کی سپہ سالاری میں ایک لشکر روانہ ہوا جس کے پاس ایک سو گھوڑے،چھ سو زرہیں،
اتنی فوج کہ جس کی خوراک کے لئے ایک دن نو اور ایک دن دس اونٹ ذبح کئے جاتے۔ہاں مگر عتبہ بن ربیعہ کی رگ احساس نے یہ راز پالیا کہ لشکر جتنا بھی چھوٹا ہومحمدﷺ کی موجودگی اس کی فتح کی ضامن بنے گی۔فرعون طبع ابوجہل بن ہشام تک یہ پیغام پہنچا تو کہنے لگا”خدا کی قسم محمدﷺ اور اس کے ساتھیوں کو دیکھ کر عتبہ کا سینہ سوج آیا ہے،نہیں ہرگز نہیں ہم واپس نہیں لوٹیں گے یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور محمد ﷺ کے درمیان فیصلہ فرمادے“بہر حال عتبہ کی دانشمندی کام نہ آئی،یقیناََ ابوجہل کے غرور ٹوٹنے کا وقت آن پہنچاتھا۔
معرکے کا آغاز ہوا جس کا پہلا شکار مکہ کا ایک بد خو شخص اسود بن عبدالاسد بنا جسے حمزہ ؓ کی شمشیر بے مثال نے پہلے ہی وار پر اوندھے منہ گرا دیا اور پھر پے بہ پے مشرکین مکہ کے تین بڑے کمانڈر عتبہ بن ربیعہ،شیبہ اور ولید زندگی کی بازی ہار گئے۔مکہ والوں کی انتقام کی آگ کچھ اس طرح بھڑکی کہ سرعت کے ساتھ سر تن سے جدا ہونے لگے،ایک طرف نعرہ تکبیر کی صدائیں اور دوسری جانب لات و منات اور ہبل کو پکارا جا رہا تھا،اللہ کے رسولﷺ کی زبان اطہر پر یہ الفاظ تھے:
”اے اللہ! اگر آج یہ گروہ ہلاک ہوگیا تو تیری عبادت نہ کی جائے گی۔اے اللہ! اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت کبھی نہ کی جائے“۔ارشاد ہوا:”میں تمہارے ساتھ ہوں،تم اہل ایمان کے قدم جماؤ،میں کافروں کے دل میں رعب ڈال دونگا“۔(8 :12)
پھر وحی اتری: ”میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرونگا جو آگے پیچھے آئینگے“۔(8 :9)
متکبر ابو جہل میدان میں کھڑا بڑے بول بول رہا ہے کہ اتنے میں دو معصوم بچے معاذؓ اور معوذؓ باز کی طرح جھپٹے اور اپنی تلواروں سے ابو جہل کو جہنم رسید کر دیا،تاہم سر تن سے جدا کرنے کا کام حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے سر انجام دیا۔آپ ﷺ نے جب ابو جہل کی سربریدہ لاش دیکھی تو فرمایا ”یہ اس امت کا فرعون ہے“۔
کفرو اسلام کا یہ پہلا معرکہ تھا جس میں مسلمانوں کے پاس نہ سامان کی وسعت تھی نہ کوئی کمین گاہ نہ کوئی بڑا لشکر،مگر اللہ نے اپنے رسولﷺ کی قیادت میں برسر پیکار ہونے والے ننھے سے لشکر کو فتح مبین سے ہمکنار کر کے اپنے دین کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ و تابندہ کر دیا۔اس کے نتیجے میں فقط مشرکین مکہ پر ہی نہیں پورے عالم عرب پر مسلمانوں کادبدبہ اور رعب طاری ہوگیا۔
فیس بک کمینٹ

