کالم ہوتل بابا کے ” ملتان کا 36 سال پرانا ادبی منظر نامہ، 1986سے 1991تک” جناب رضی الدین رضی کی یہ تازہ ترین کتاب ان لوگوں کے لئے ایک جیتا جاگتا ہنستا مسکراتا اور طنز و مزاح سے بھرپور ایک جائزہ ہے ،کلاج ہے ،ایک بھڑاس ہے ،ایک خاکہ ہے،ایک شاعر اور صحافی کے قلم کے ابتدائی دنوں کی ترنگ ہے یا ایک البم ہے جس میں ملتان کی گرد میں مشاعروں کی رونق ہے ،ادبی سوہن حلوے کی مٹھاس ہے اور ساتھ میں باہمی رقابت و چشمک کے کڑوے باداموں کا ذائقہ ہے ،جناب جو بھی کچھ ہے اس کا اندازہ اس اقتباس سے لگا لیجیے ۔۔رضی الدین رضی۔۔۔۔لکھتے ہیں ۔۔۔”
صفحہ نمبر 48۔۔۔
ہم نے کہا کہ ” ڈاکٹر صاحب ،آپ ہائیکو کی بات کرتے ہیں لوگ تو انشایئے کو بھی نصاب سے نکلوانے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔اس پر امین صاحب کے ہونٹوں پر مہاتما بدھ جیسی مسکرا ہٹ طلوع ہوئی اور انہوں نے رس گلوں کی پلیٹ ہماری طرف بڑھا کر کہا "انشایئے کے بانی ہونے کا مسئلہ کتنا الجھ گیا ہے لیکن دیکھئے کہ ہائیکو کے بانی کا کوئی جھگڑا نہیں۔کیا آپ کو پتہ ہے اردو میں ہائیکو کا بانی کون ہے ؟۔۔۔۔
ہم نے عرض کیا "جب تک یہ رس گلے ختم نہیں ہوتے ڈاکٹر محمد امین ہی ہائیکو کے بانی ہیں "۔۔۔۔کتاب ڈاکٹر انوار احمد ، ڈاکٹر خاور نوازش، اطہر ناسک ،ظہیر کمال کی دل چسپ آرا سے مزین ہے ۔۔۔
ظہیر کمال لکھتے ہیں ۔۔۔”۔صحافت اور ادب کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ادب نے ہمیشہ صحافت کو فائدہ پہنچایا ہے مگر صحافت سے ادب کو کچھ نہ ملا بلکہ یہ کہیں کہ ادب کو اس سے کافی نقصان پہنچا ہے تو کچھ غلط نہ ہوگا "….
ڈاکٹر انوار احمد صاحب کے مطابق "جامعات کی ادھ کچی تحقیق اور کتابوں کی کساد بازاری دیکھ کر بعض اوقات خیال آتا ہے کہ ایسی کتابوں کا مستقبل کیا ہے؟؟؟؟تاہم ہر لکھنے والا امید پرست ہوتا ہے اور رضی الدین رضی تو ویسے بھی فائٹر ہے مشکلات سے نہیں گھبراتا۔۔۔”
ڈاکٹر خاور نوازش لکھتے ہیں۔۔”۔یہ کالم پڑھتے ہوئے ہم رضی کے جملوں کے کی داد دیتے رہے تو ساتھ ساتھ یہ بھی سوچتے رہے کہ اس دور میں رضی کے جملوں کی کاٹ برداشت کرنے والا ہر” طائر لاہوتی” یقینا ایک ایک تمغے کا مستحق ہے "
محترم احباب ادب زندگی کا ترجمان ہے مگر رضی الدین رضی نے” ہوتل بابا” بن کر جو” ترجمانی "کی ہے وہ آپ کو کتاب پڑھنے کے بعد ہی معلوم ہوگا ۔۔
ایسے بہت سے اقتباس ہیں بہت سے جملے ہیں ۔۔ جن کو پڑھ کر ہنستے مسکراتے اور کہیں کہیں تو باقاعدہ قہقہے لگاتے ہوئے آج کے ملتان کے چھتیس سال پرانے ادبی منظر نامے کی دنیا میں پڑھنے والے داخل ہوجائیں گے ۔۔اور ہوتل بابا کے قلم سے شکار ہونے والوں کو یاد کر کے سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ ملتان میں ادب اور ثقافت کی فضا اب کس قدر صاف اور بہتر ہوگئ ہے ۔۔۔شاعروں کی باہمی رقابت تو ازلی ہے ۔۔۔مگر اس رقابت ۔۔۔معاصرانہ چشمک کو نہایت مہارت سے تخلیقی کاٹ دار جملوں میں پرونا رضی صاحب کا خا صا ہے ۔۔۔عنوانات کے حسابات اور قلمی خسارے لکھنے کا ہنر رضی صاحب جانتے ہیں ۔۔۔ریڈیو ملتان اور بچوں کے بھائی جان اقبال ارشد،اردو اکادمی کا بھاری پتھر اور پروفیسر امین، عاصی کرنالی کا 65 ماڈل سکوٹر ،برساتی ادبی پرچے اور شاعری میں زنانہ لہجے ،فیض میلے میں احمد ندیم قاسمی کے خلاف نعرے، لودھراں میں ترقی پسندوں اور ملتان میں عزیز اثری پر کیا گزری، 1989 کا ادبی منظر نامہ اور مضافاتی جائزوں کے ساتھ ،بابا ہوٹل کی رونقیں ختم ہوگئیں۔۔۔اور کیسے خوب صورت منظر نامے
اہم ادبی فسادات کی نظر ہوگئے ۔رضی صاحب نے بقول خود نا صرف ایک حساس بلکہ کچھ حد تک” فسادی” کالم نگار کی حیثیت سے یہ سب کچھ ایک قلمی نام ہوتل بابا کے نام سے قلم بند کیا بلکہ ان لوگوں کا بھی کھلے دل اعتراف کیا جنہوں نے ملتان میں واقعی ادب کی خدمت کی ۔۔شائقین اردو ادب کے لیے یہ کتاب 208 صفحات پر مشتمل گردوپیش پبلیکیشنز سے صرف 1000روپے میں مل سکتی ہے
اس کا انتساب ڈاکٹر انور سدید ،رفیق ڈوگر اور اظہر جاوید کے نام کیا ہے جو سچ شائع کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔
صائمہ نورین بخاری ۔۔۔۔ملتان
فیس بک کمینٹ

