اختر علی سیدکالملکھاری

اختر علی سید کا کالم : انساں کی جستجو میں اک انساں چلا گیا

بڑوں کی وفات پر تعزیتی تحریر لکھنا دنیا بھر میں ایک روایت ہے۔ مرحومین کے لواحقین سے ہمدردی و تعزیت دنیا بھر میں سماجی رواج ہے۔ کون ہے جس کے جانے پر آنکھیں نم نہ ہوتی ہوں۔ شاید ہی کوئی ایسا ہو جس کے جانے پر پیچھے رہ جانے والے زندگی کی کتاب سے صفحات کی گمشدگی کا ماتم نہ کرتے ہوں لیکن زندگی بہرحال رواں رہتی ہے۔ لوگ آتے جاتے رہتے ہیں کہ ہر آنے والے نے جانا ہے۔ لیکن جانے والے اگر سر سے سائبان، آنکھ سے بصارت اور بصیرت، زبان سے قوت گویائی اور جسم سے کھڑے رہنے کا یارا ساتھ لے جائیں۔ اگر اگر کسی کی موت کا اعلان روشن دن کو شب تار اور زندگی کی رونقوں کو ویرانی سے بدل دے تو سمجھ لیں کوئی بڑا چلا گیا۔ کوئی ایسا چلا گیا جس کی جانے کا نقصان صرف ذاتی نہیں تھا۔
انسانی عزیمت کی تاریخ بھی شاید انسان جتنی پرانی ہو گی۔ لیکن نگاہیں خیرہ ہوتی ہیں جب آپ تاریخ میں بیان کردہ کرداروں کو اپنے سامنے مجسم اور چلتا پھرتا دیکھتے ہیں۔ ایسے کردار جو اپنی مادی بے سروسامانی کے باوجود طاقت سے خوف نہ کھاتے ہوں۔ اپنی عسرت کے باوجود ثروت سے مرعوب نہ ہوتے ہوں۔ جو طاقت کی جولانیوں کے باوجود نہ کمزور کی حمایت سے دستبردار ہوں اور نہ خاموش رہتے ہوں۔ جو جبر کی ساعتوں میں استبداد کے خلاف جدوجہد کے نئے راستے نکلتے ہوں اور جن کے ناپسندیدگی کا واحد معیار طاقت کا بہیمانہ استعمال ہو۔ لیکن سب سے بڑی بات ان میں یہ ہو کہ طاقت کے کے خلاف اپنے غیر متزلزل نظریے اور اپنی انتھک جدوجہد کے باوجود مخالفت اور موافقت کی مصنوعی حدود سے ماورا جانے کی طاقت اور حوصلہ بھی رکھتے ہوں۔ کیسے کور چشم ہوں گے وہ لوگ جو ان کے کرداروں کو نہ دیکھ سکیں۔ اور کیسے بےنصیب ہوں گے وہ لوگ جو دیکھ تو سکیں مگر ان کی عظمت کی نفی کے لیے تاویلیں کرتے ہوں۔ دل پر بوجھ کے ساتھ عرض کروں کہ ہم ایسے ہی بصیرت سے عاری دریدہ دہن لوگوں کے معاشرے میں بستے ہیں کہ جن کے نزدیک ذاتی منفعت ہر وابستگی کا واحد حوالہ اور معیار ہے۔ ایسے میں وہ مردان حر جن کی آنکھ بینا، ذہن رسا اور قلب روشن ہو جب چلے جائیں تو دل پر ہاتھ رکھ کر کہیں کیسا لگتا ہوگا۔
بارہ اپریل صرف آئی اے رحمن صاحب کی وفات کا دن نہیں ہے پاکستان میں آزادی انسان کی جدوجہد کرنے والوں کے لیے ایک نظریہ ساز اور ایک قائد اور رحمان صاحب سے وابستگی رکھنے والوں کے لئے چلچلاتی دھوپ میں گھنی چھاؤں اور کمزوروں کے لئے پہاڑ جیسا حوصلہ رکھنے والے شخص سے محروم ہونے کا دن ہے۔
دنیا میں موجود سوچنے سمجھنے والا ہر شخص اپنے قول اور فعل میں تضاد سے متذبذب رہتا ہے۔ اسی لیے اپنے افعال پر تاویلیں گھڑ کر ضمیر کو مطمئن کرنے اور آسودگی حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ افعال، اعمال اور اقوال میں ہم آہنگی ہی ایک ذہن کو سکون فراہم کرتی ہے۔ لیکن جب یہ ذہنی سکون مادی دنیا کی راحت فراہم نہ کرسکے تو افعال، اعمال اور اقوال بے ربط اور بے سمت ہو جاتے ہیں۔ اس لئے کہ مادی راحت کا حصول ہر کمزور کو یہی راستہ دکھاتا ہے۔ اس راستے پر چلنے والوں کا نام لینے کی کیا ضرورت ہے آج شام ٹی وی دیکھئے۔ بالشتیوں کی گفتگو، بھاشن بازوں کے دعوے، شعبدہ بازوں کی پیشگوئیاں اور طاقت کے ایوانوں سے مشاہرہ پانے والے دانشوروں کے تجزیے سنیے۔ نام، پتے اور چہرے سامنے آ جائیں گے۔ کیا آپ کو یاد دلانے کی ضرورت ہے اور کیا آپ ان صحافیوں کے نام نہیں جانتے جو اپنے فارم ہاؤسز اور جہازوں کا ذکر فخر کے ساتھ ٹی وی کے پروگراموں میں کرتے ہیں۔ جن کو ٹی وی چینلز بڑی بڑی تنخواہیں صرف طاقت کے مراکز سے ان کی وابستگی کے سبب دیتے ہیں۔ جو اپنے دشنام سے شرفاء کی پگڑیاں بغیر ثبوت اور شواہد کے اچھالتے ہیں۔ جو جب چاہیں جو چاہیں کہتے ہیں مگر ان کو کبھی گزند نہیں پہنچتی۔
ایسے میں ایک شاندار صحافتی حیثیت کے باوجود کہ جس کی نوک قلم کی حرکت جبرواستبداد پر استوار ایوانوں میں ضعف کا سبب بنتی ہو۔ جس کو قید میں ڈالے بغیر ڈکٹیٹر سکون کی نیند نہ سو سکے، جس کی ہاں کا مطلب ہاں اور نہ کا مطلب نہ کے علاوہ اور کچھ نہ ہو، جو طاقت کے مراکز پر نظر رکھنے اور اس کی کار گزاری پر گرفت کے علاوہ کسی اور اصول کو اپنا رہنما نہ سمجھتا ہو، ایسا شخص اگر ساری زندگی ایک کرائے کے گھر میں گزار دے، اپنی اولاد کے لیے تعلیم، تربیت، اصولوں اور اپنی جدوجہد کی یادوں کے علاوہ کوئی اور ترکہ نہ چھوڑے، تو خدالگتی کہیے آزادی کی جدوجہد کی تاریخ لکھنے والا جب ہماری اس شب تار کا ذکر کرے گا تو کیا رحمان صاحب جیسے لوگ روشنی کے مینار بن کر اس تاریخ میں نہ جگمگائیں گے؟
روشنی کے اس مینار سے سے ایک نسبت رکھنے والے ہم جیسے لوگ جہاں صدمے میں ڈوبے ہوئے دل کے بوجھ اور ذات میں پیدا ہونے والے خلا پر نوحہ گیری کریں گے وہیں اس وابستگی سے کچھ روشنی اور حوصلہ کشید کرنے کی بھی اپنی سی سعی ضرور کریں گے۔ لیکن یہ طے ہے کہ ہم ایسے پردیسیوں کے لیے لاہور اب ویسا نہیں رہے گا جیسا وہ رحمان صاحب کی موجودگی میں تھا۔ لاہور میں قیام مختصر ہو یا طویل رحمان صاحب کی خدمت میں حاضری ایک لازمہ تھی۔ کئی مرتبہ لاہور صرف ان سے ملنے کی خاطر گیا۔ سو اے ارض لاہور تو نے مجھے اس مجبوری سے بھی آزاد کیا۔ لاہور میں اب کون پردیسیوں کے معاملات اسی دلچسپی اور توجہ سے جاننا چاہے گا جیسے والد صاحب چاہتے تھے۔ اب کون اک جہان سے آشنائی اور تعلق رکھنے کے باوجود آپ کے بچوں کے احوال نام لے کر دریافت کرے گا۔ والد کے انتقال پر رحمان صاحب اپنی پہلی فرصت میں ملتان پہنچے۔ صدمے اور دل گرفتگی کے عالم میں اب کون ہمارے رنج سے ڈھلے کندھوں پر اپنا مضبوط ہاتھ رکھے گا اور کہے گا جتنی تمہاری عمر نہیں ہے اس سے طویل تمہارے والد سے میرا یارانہ تھا۔
رحمان صاحب۔۔۔۔ آپ چلے گئے مگر میرا بہت نقصان کر گئے۔ خود پر ضبط کی تمام طاقت آپ اپنے ساتھ لے گئے۔ احمر سے بات کی مگر تسلی کے دو بول بولنے کی کوشش کو آنسو بہا کر لے گئے۔ آپ انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کے لیے رہنما اصول تو چھوڑ گئے ہیں کاش دل کے بوجھ سے نجات پانے کی کوئی ترکیب بھی چھوڑ جاتے۔ یقین کیجئے والد کی وفات کے بعد آج ایسا ہوا ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے خود کش حملہ آوروں پر ایک محفل میں گفتگو پر تبصرہ کرتے ہوئے آپ نے مجھے شاباش دی تھی جس پر بچوں کی سی خوشی ہوئی تھی۔ پاکستان انسانی حقوق کے چیمپئن سے محروم ہو گیا اور میں ایسے شخص سے کہ جس میں موجودگی میں مجھے اپنا آپ انسان لگتا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ میں انسان ہوں اور اس ناطے میرے صرف حقوق ہی نہیں ہیں کچھ فرائض بھی ہیں۔انسانی معاشرے فرض کی ادائیگی کے بعد ہی حقوق کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ انسان دوستی کے ایک استعارے سے خالی ہو گیا ہے اب استبداد اور اس کے کارندے تو ہیں مگر کوئی آئی اے رحمن نہیں ہے۔
اے آرزو وہ چشم حیواں نہ کر تلاش
ظلمات سے وہ چشمہ حیواں چلا گیا

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker