برادر م شکیل انجم ،صفدر عباس سید اور میں وسیم طیب کی معیت میں “وائٹ چیپل “سے نکلے کہ چل کر کسی ترکش ریسٹورنٹ سے کھانا کھاتے ہیں ۔ٹیکسی منگوائی گئی ۔قافلہ جانب منزل رواں ہوا تو گفتگو کا موضوع ملک کے موجودہ حالات تھے ۔ٹیکسی ڈرائیور بنگالی تھا اور ہمارے بیچ ہونے والی گفتگو کو بہت غور سے سنتے ہوۓ بیچ میں لقمے دینے کی بھی کوشش کررہا تھا ۔جب ہم اتر نے لگے تو اس نے ہم سب کو مخاطب کرتے ہوۓ انگریزی میں کہا کہ “عمران خان بہت اچھا آدمی ہے جبکہ اُدھر کے باقی سارے لوگ چور ہیں “
میں اترتے اترتے رک گیا اور اس بنگالی ڈرائیور کو غور سے دیکھنے لگا کہ جو اس سے قبل مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کو بھی برا بھلا کہہ رہا تھا اور پھر اس سے استفسار کیا کہ “کیا آپ کبھی پاکستان گئے ہو “ جواب نفی میں تھا میں نے دوبارہ پوچھا “تو پھر آپ نے یہ بات کیسے کہہ دی ؟؟؟” اس پر وہ کہنے لگا کہ مجھے زیادہ تو نہیں پتا لیکن کچھ پاکستانی دوستوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اسے یہی بتاتے ہیں کہ صرف عمران خاں ہی اچھا ہے اور باقی سب غلط ہیں “
ڈرائیورکے اس جواب کے بعد میں مزید کوئی سوال کیے بغیر اسے اللہ حافظ کہتے ہوۓ ٹیکسی سے باہر آگیا اور سوشل میڈیا کے اثرات پر غور کرنے لگا کہ جس سے پاکستان کے دور دراز دیہات میں بیٹھا ایک نیم خواندہ شخص جو اپنے موبائل فون میں پچاس روپے کا ایزی لوڈ ڈلوا کر فیس بک ٹویٹر اور واٹس ایپ وغیرہ استعمال کرتا ہے اور دوسری طرف لندن جیسے شہر میں جنم لینے والا جدید تعلیمی اداروں کا سند یافتہ یکساں متاثر ہورہے ہیں ۔
یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ گذشتہ دہائی میں ایک چیز جو دنیا بھر میں لوگوں کی ذاتی زندگیوں، معاشرتی رویوں، حکومتی پالیسیوں اور سیاست پر سب سے زیادہ اثرانداز ہوئی ہے وہ ہے سوشل میڈیا۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق
“عرب سپرنگ کے نام سے مشہور مشرقِ وسطیٰ میں اٹھنے والی عوامی تحریکوں سے لے کر روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی تک، شام کی خانہ جنگی سے نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے عروج و زوال تک، اور امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کے الزامات سے لے کر کیمبرج اینالیٹیکا سکینڈل تک جہاں سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں ہونے والے بڑے واقعات سامنے آئے اور بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ہوئیں، وہیں سوشل میڈیا خود بھی ان 10 برسوں میں ارتقا کے مراحل سے گزارا ہے “
2016 کے امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی اور یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کے لیے ہونے والے ریفرینڈم میں غیر متوقع نتائج سامنے آنے کی بعد سوشل میڈیا کے متنازع کرداروں پر انگلیاں اٹھنے لگیں، جسے 2018 میں سامنے آنے والے ڈیٹا سکینڈل کیمبریج انالیٹیکا نے درست ثابت کر دیا۔
پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر بھی ایک بڑی تبدیلی 2010 کے بعد سے دیکھنے میں آئی کہ جب پاکستان کی سیاسی پارٹیوں اور ریاستی اداروں نے سوشل میڈیا کا رخ کیا۔
جلسہ گاہوں اور ٹیلی ویژن سکرینوں کے بعد سوشل میڈیا پر اپنی سیاست کا پرچار کرنے میں پاکستان تحریک انصاف اور اس کے چیئرمین عمران خان نے سب پر سبقت حاصل کی کہ جب 2010 میں انھوں نے فیس بک اور ٹوئٹر آفیشل اکاؤنٹس کا آغاز کیا۔”سوشل میڈیا پر اربوں روپے کی سر مایہ کاری کی گئی اور آج صورتحال یہ ہے کہ عمران خاں “سوشل میڈیا کا جادوگر” بن چکا ہے ۔عمران خان نے اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے ذریعے پرو پیگنڈے کے ماہراور ریاستی ہتھکنڈوں کو پروپیگنڈے کے ہتھیار سے لیس کرنے والے” گوئبلز” کی اس تھیوری کہ “جھوٹ اتنا بولو کہ سچ لگنے لگے “کا بھر پور استعمال کیا اور اس کا آج نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عمران خاں اگر کہتا ہے کہ کوا سفید ہے تو اس کے پیروکار کہتے جی بالکل سفید ہے ۔اسی سوشل میڈیا کی جادوگری ہے کہ عمران خاں نے شرک کے بارے قرآن مجید کے پیغام کی من چاہی تشریح کردی جسے ان کے پیروکاروں نے بھی تسلیم کرلیا نہ صرف یہ بلکہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو بھی اپنی مرضی کے معنی پہنا دیے اور کوئی معترض نہیں ہوا ۔عمران خان پونے چار سال اس ملک کے سیاہ و سفید کا مالک رہے ، کارکردگی زیرو رہی لیکن وہ پھر بھی بضد ہیں کہ اس ملک کو وہی بچا سکتے ہیں اور لوگ اس بات پر یقین کر رہے ہیں ۔
خیبر پختون خوا اور پنجاب میں ان کی حکومت ہے یہاں سیلاب نے تباہی مچا رکھی ہے لوگوں کو ایک دھیلے پائی کا ریلیف نہیں ملا لیکن “سوشل میڈیا کے اس جادوگر “کے پیروکاروں کو اس سب سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی جیے یا مرے انہیں بس خان اقتدار میں چاہیے ۔ جب ان سے سوال پوچھتے ہیں کہ “آپ کے پی کے میں گزشتہ دس سال سے حکمران ہو ،پنجاب میں بھی حکمرانی کا پانچواں سال ہے، مرکز میں بھی “بادشاہی انجواۓ “کرچکے ہو تو کہاں گئے آپ کے پچاس لاکھ گھر ،ایک کروڑ نوکریاں اور باقی وعدے “تو جواب ملتا ہے
“فلاں ادارے کا سربراہ میرجعفر میرصادق ہے۔ نہیں چھوڑوں گا ،
چیف الیکشن کمشنر کونہیں چھوڑوں گا
مسٹر X مسٹر Y کو نہیں چھوڑوں گا
ڈی جی ایف آئی اے کو نہیں چھوڑوں گا
،آئی جی اسلام آباد کو نہیں چھوڑوں گا
ایڈیشنل سیشن جج زیبا کو نہیں چھوڑوں گا”
بھائی یہ تو بتاؤ کہ
“پونے چار سال متعلق العنان حکمران رہے ہو سارے “پیج “ایک تھے اب بھی دو صوبوں میں حکومت ہے عوام کو کونسا ریلیف دیا ؟؟؟
چوربازاری ذخیرہ اندوزی پولیس گردی رشوت کرپشن کا خاتمہ کیوں نہیں کیا ۔۔؟؟”
تو جواب آتا ہے
“نواز شریف چور ہے
زرداری ڈاکو ہے
جنہوں نے میرا ساتھ نہیں دیا وہ مشرک ہیں
اوۓ ڈیزل نہیں چھوڑوں گا “
اور ان کے پیرو کار اس پر نہ صرف تالیاں بجاتے ہیں بلکہ مرنے مارنے کی دھمکیاں بھی دیتے ہیں ۔
اورنوبت یہاں تک آگئی ہے سوشل میڈیا کے اس “جادوگر “کے پیروکار تو اب بھرے جلسوں یہ کہنے لگے ہیں
“خان پیغمبری کا دعوی بھی کرے تومان لیں گے “
یہ ہے سوشل میڈیا کے ماہرین کا جادو کہ جس نے لوگوں سے نہ صرف سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی بلکہ لوگ تواتر کے ساتھ بولے جانے والے جھوٹ کو سچ سمجھ کر اس پر ایمان کی حد تک یقین کرنے لگے ہیں ۔ ۔ فی زمانہ سوشل میڈیا ایک ایسا نشہ (addiction )بن چکا ہے، جس نے پورے معاشرہ کو اپنے حصار میں لے لیا ہے ماہرین کے نزدیک “addiction” ایک ایسا عمل ہے کہ جاننے کے باوجود کہ یہ ذہنی اوجسمانی دونوں لحاظ سے آپ کے لئے مضر ہے اور اس کو کرنے سے آپ کی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے آپ اس سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتے ۔آج پورا معاشرہ اس لت( addiction )کا شکار ہوچکا ہے جس کا پی ٹی آئی کے سوشل میڈیاماہرین نے بھر پور فائدہ اٹھایا ،خصوصی منصوبہ بندی کی اور سادہ لوح خواتین کو سب سے زیادہ فوکس کیا ہے ۔
ایک تحقیق کے مطابق خواتین اپنا 68فیصد وقت سوشل میڈیا پر گزار رہی ہیں جبکہ مردوں میں یہ تناسب 32فیصد ہے ۔ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ خواتین مردوں کی نسبت زیادہ جذباتی اور کسی پر بھی جلد بھروسہ کرلینے والی ہوتی ہیں اور پاکستان میں اکثریت گھریلو خواتین کی ہے جو سارا دن گھر بیٹھ کر موبائل کا استعمال کرتی رہتی ہیں اس لیے وہ زیاد ٹارگٹ” ہوئی ہیں ،اولاد زیادہ تر ماں کے زیر اثر ہوتی ہے اور یوں “یوتھ “آسانی سے سوشل میڈیا کے جادوگروں کے ہتھے چڑھ گئی ۔یعنی ایک تیر سے دو شکار ۔اگر عالمی طور پر سوشل میڈیا کے کاروبار کا جائزہ لیا جاۓ تو معلوم ہوگا کہ گزشتہ بیس برسوں کے دوران دنیا بھر میں سب سے زیادہ تیزی سے پیسہ کمانے والے افراد کا تعلق آئ ٹی کمپنیوں سے ہے ۔انٹرنیٹ اور سماجی رابطوں کی apps چلانے والی کمپنیاں اور افراد ہی اس وقت دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سر فہرست نظر آتے ہیں کیونکہ ان کی apps اور سروسز دنیا بھر میں صارفین کے لئے انتہائی پر کشش ہیں اور ان کو اپنی جانب کچھ اسی انداز سے کھینچ رہی ہیں کہ جیسے منشیات کمزور قوت ارادی کے حامل افراد کو شکار کرتی ہیں ۔دنیا بھر میں سیاسی جماعتیں اپنا اثر ورسوخ بڑھانےکے لئے ان “ایپس “پر اربوں ڈالر خرچ کررہی ہیں ،اب تو جنگیں بھی سوشل میڈیا کے ڈریعےہی لڑی جارہی ہیں ۔پاکستان دشمنوں نے باقاعدہ سوشل میڈیا کو میدان جنگ بنا کر ہم پہ بیانیے کی ایک ایسی جنگ مسلط کر رکھی ہے کہ جس سے نہ صرف ہماری نوجوان نسل کے اذہان کو قابو کیا جارہا ہے بلکہ ہمیں معاشی طور پر بھی دیوالیہ پن کا شکار کیا جارہا ہے ۔پاکستان تحریک انصاف دانستہ یا دانستہ اس کام کے لئے استعمال ہورہی ہے اگر ہم نیوٹرل ہوکر ایمانداری سے جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ 2014 میں ڈی چوک پر دیے جانے والے دھرنے سے لیکر اب تک ملک تیزی سے نیچے ہی گیا ہے ایک سوروپے والا ڈالر اڑھائی سو روپے تک پہنچا نہ صرف یہ بلکہ پینسٹھ روپے فی لیٹر ملنے والا پٹرول دوسو پنتیسس روپے فی لیٹر مل رہا ہے زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہوچکے ہیں لیکن سوشل میڈیا کے زیر اثر قوم کی توجہ اس طرف بلکل بھی نہی بلکہ وہ ہر اس شخص کو چور ،ڈاکو اور غدار سمجھتی ہے جو عمران خان کا مخالف ہے ۔
اس صورتحال میں محب وطن قوتوں کو چاہیے کہ وہ اس فتنہ کا مقابلہ روایتی طریقہ سے کرنے کے بجاۓ اسی پچ پر آئیں کہ جس پر کھیل کر ملک کو کمزور کیا جارہا ہے ، لوگوں کو سچ اور جھوٹ میں فرق بتائیں ۔محب وطن سوشل میڈیا ماہرین کی خدمات سے استفادہ حاصل کریں ۔عوام کو حقائق سے آگاہ کر یں ۔مزید وقت ضائع نہ کیا جاۓ ۔اگر اس evil کا بروقت سد باب نہ کیا گیا تو پھر خدا نخواسطہ سواۓ پچھتاوؤں کے کچھ باقی نہیں رہے گا
فیس بک کمینٹ

