اسلام آباد:پی ٹی آئی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے عمران خان پر قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر 24 گھنٹے میں درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے آئی جی پنجاب کو 24 گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایف آئی آردرج نہ ہوئی تو از خود نوٹس لیں گے۔
اس سے پہلے مقدمے کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل پر حملہ ہوا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ واقعہ ہوا ہے اس کی ایف ائی ار درج ہوئی ہو گی۔
سماعت کے دوران پنجاب پولیس کے سربراہ لاہور رجسٹری سے آئی جی پولیس ویڈیو لنک پر موجود تھے اور عدالت نے آئی جی سے استفسار کیا کہ آپ بتائیں ایف ائی ار کیوں درج نہیں ہوئی۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمیں وقت بتائیں کب تک ایف آئی ار درج کریں گے۔
اس پر آئی جی پنجاب نے ہم نے واقعے کی ایف آئی آر درج کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب سے بات کی، وزیر اعلیٰ پنجاب نے کچھ تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ اس واقعے میں ایک شخص کی ہلاکت ہوئی ہے۔ اس واقعے کی بھی لواحقین کی شکایت پر ایف آئی آر درج ہونی چاہیے۔
اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یہ نہ بتائیں کہ پولیس کے پاس کون کون سے آپشنز موجود ہیں، ہم اس وقت از خود نوٹس نہیں لے رہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فوجداری نظام انصاف کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے جو خط لکھا وہ انٹرنیٹ پر پڑا ہوا ہے، ہم پولیس کے قانون کے تحت اقدامات کو سپورٹ کریں گے۔
سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مقدمہ درج نہ ہونے کی ٹھوس وجہ ہونی چاہیے۔ انھوں نے پنجاب پولیس کے سربراہ کو حکم دیا کہ قانون کے مطابق کام کریں اورعدالت آپ کے ساتھ ہے۔
چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے کہا کہ آپ افسران سے تفتیش کروائیں اور جب تک آپ عہدے پرہیں کوئی آپ کے کام میں مداخلت نہیں کرے گا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئی جی صاحب آپ کے کام میں کسی نے مداخلت کی تو عدالت اس کے کام میں مداخلت کرے گی۔
واضح رہے کہ پنجاب پولیس کے سربراہ نے صوبائی حکومت کی طرف سے ان کے امور پر مداخلت کرنے کی بنا پر وفاقی حکومت کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کی خدمات وفاق کے سپرد کر دی جائیں۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)
فیس بک کمینٹ

