اسلام آباد:تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ہے، اس کے باوجود بھی میں تین لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کروا سکتا۔ پوچھنا چاہتا ہوں پنجاب پولیس کو کون کنٹرول کر رہا ہے۔ وزیر آباد میں میرے ایک کارکن نے فائرنگ کرنے والے ملزم کو دبوچ لیا جس کے باعث گولی بجائے ہمیں سیدھا لگنے کے ہماری ٹانگوں پر لگ گئی، حملہ آور دو سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔ ڈیپ سٹیٹ ہر معاملے کو دبا رہی ہے۔
ترک میڈیا کو انٹرویو کے دوران میزبان صحافی نے سوال کیا کہ وزیر آباد میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ میں حملہ کے بعد زخمی ہو چکے ہیں اس وقت کیسا محسوس کر رہے ہیں، اس پر جواب دیتے ہوئے چیئر مین کا کہنا تھا کہ نفسیاتی طور پر میں خود بہت مضبوط سمجھ رہا ہوں، مجھے حملے سے قبل ہی پتہ تھا کچھ ہونے والا ہے، میں نے اپنی حکومت ختم ہونے کے بعد ہی علی الاعلان کہا تھا کہ میرے قتل کی تیاری کی ہوئی ہے، یہ تیاری چار لوگوں نے بند کمرے میں کی ہے، اس بات کو عوام میں مئی اور جون کے دوران سامنے لے آیا تھا، اس حملے کے پیچھے بہت مضبوط لوگ تھے، اس کے بعد مجھے مارنے کی ایک اور منصوبہ بندی کی گئی، اس کے لیے مذہب کا سہارا لیا گیا، اس کے لیے ایک صحافی کی طرف سے ویڈیو تیار کی گئی، اس دوران وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے پریس کانفرنس کی اور کہا عمران خان عوام کے جذبات ابھار رہا ہے، اسی وقت میں عوام سے مخاطب ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے ایک منصوبہ بنا ہوا ہے، یہ لوگ مجھے مروانا چاہتے ہیں، جس کیلئے مذہب کا سہارا لیا جائے گا۔ یہ سب کچھ منصوبہ بندی کے تحت ہوا۔
میزبان کی طرف سے پی ٹی آئی چیئر مین سے سوال کیا گیا کہ کیا وزیر آباد میں ہونے والے حملے کے آپ کے پاس کوئی ثبوت ہیں، سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں تین پوائنٹس اٹھانا چاہوں گا، پہلی بات سمجھ لیں اس وقت پورے ملک میں سروے ہو رہے ہیں، جس میں میری پارٹی سب سے مقبول ترین جماعت ہے۔ اس وقت پاکستان تحریک انصاف نے ضمنی الیکشن کے دوران 75 فیصد سے زیادہ الیکشن میں جیتے،مخالف 13 جماعتیں ملکر بھی پی ٹی آئی کو نہیں ہرا سکیں، ان جماعتوں کو وفاقی حکومت ، الیکشن کمیشن اور اسٹیبلشمنٹ کی مدد حاصل تھی، اس کے باوجود میری پارٹی 37 ضمنی الیکشنوں میں 29 الیکشن اکثریت کے ساتھ جیتی ہے، ہمیں مقبولیت کےلئے کسی پر الزام لگانے کی ضرورت نہیں۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھ پر ہونے والے حملے کے پیچھے ٹوٹل سات لوگ ہیں، پہلے چار لوگوں نے میرے قتل کی منصوبہ بندی کی ، اب مزید تین لوگ مجھے قتل کروانا چاہتے ہیں، 3 لوگوں کا نام میں نے عوام کو بتا دیا ہے۔ پنجاب پولیس سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ پنجاب میں میری پارٹی کی حکومت ہے اور پنجاب پولیس میری صوبائی حکومت کے ماتحت ہے اور میں اس ملک کا سابق وزیراعظم ہوں اس کے علاوہ میں پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ بھی ہوں، ان سب چیزوں کے باوجود بھی میں تین لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کروا سکتا، سب سے پہلے پتہ چلنا چاہیے کہ مجھ پر حملے کرنے والے ملزم کی ویڈیو کس نے جاری کی، صرف مجھے پتہ ہے یہی تین لوگ اس میں ملوث ہیں، محسوس کریں کہ میری پارٹی پنجاب میں اقتدار میں ہے اور اس کے باوجود ہم پنجاب پولیس سے اپنی توقعات والی ایف آئی آر نہیں درج کروا سکتے، اگر تحقیقات ہوتی ہیں اور یہ لوگ کلیئر ہو جاتے ہیں تو یہ وہ بہترین ہے، لیکن اس وقت مجھ پر حملہ ہوا ہے اور یہ میرا حق ہے ، یہ لوگ مجھے مروانا چاہتے ہیں اوران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ پنجاب پولیس نے ہماری درخواست کو مسترد کر دیا اور میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ پنجاب پولیس کو کون کنٹرول کر رہا ہے اور چلا رہا ہے۔
میزبان خاتون صحافی نے سوال پوچھا کہ کیا اس تحقیقات کے لیے آپ کو اقوام متحدہ کو بلانا پڑے گا، اس پر جواب دیتے ہوئے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے کیس میں اقوام متحدہ کی ٹیمیں آئی تھیں، میرے خیال میں اقوام متحدہ کی ٹیمیں یہاں کام نہیں کر پائیں گی، اس کے لئے میں چاہتا ہوں کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال بہترین ہیں۔ملک میں 6 ماہ کے دوران معیشت کا ستیاناس ہو گیا ہے، سرمایہ کاری نچلی ترین سطح پر ہے۔ معاشی اعشاریے نیچے جا رہے ہیں۔ اس سب کی بڑی وجہ ملکی میں سیاسی صورتحال ہے، ملک میں کوئی جانتا نہیں کیا ہو گا، سرمایہ کاروں کے لیے ماحول سازگار نہیں، معیشت اس وقت ہی بہترین ہو سکتی ہے جب سیاسی صورتحال میں استحکام ہو گا۔ اور اس کا بہترین حل الیکشن ہے۔ اس کا کوئی اور راستہ نہیں ہے، آئندہ حکومت جو بھی آئے پانچ سال کے لیے آئے اور عوام کے ووٹوں سے آئے۔ اس کے بعد سرمایہ کاروں کو حوصلہ ملتا ہے۔اس بحران سے نکلنا کا راستہ الیکشن ہے، میں انتظار کر سکتا ہوں کیونکہ میری پارٹی کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے، لیکن ملک کی صورتحال دیکھ کر مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہم ڈیفالٹ کر جائیں گے، اس وقت جو صورتحال وہ سب کے سامنے ہے، اس وقت فوری الیکشن ہی ملکی مسائل کا حل ہے۔
بشکریہ دنیا نیوز

