عمران خان ایک نالائق، نااہل، جھوٹے، مکار، خودغرض، دغاباز اور منافق انسان ہیں۔ وہ اپنے وفادار اور با صلاحیت ساتھیوں کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں اور بھی بہت سے جھول ہیں جن کا ذکر کرنا یہاں مناسب نہیں ہے۔ انہیں فوج اور آئی ایس آئی کے کچھ ذمہ دار افسران نے اپنے نامعلوم مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے 2018 میں وزیراعظم بنایا۔ اقتدار کے دوران فوج کے ان ذمہ دار افسران میں سے کچھ عمران سے ناراض ہو گئے اور انہوں نے عمران کے سر پر سے اپنا دست شفقت ہٹا لیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عمران کو اقتدار سے الگ ہونا پڑا۔
عمران عوام کی طاقت اور جمہوریت پر بالکل یقین نہیں رکھتے۔ ان کے خیال میں پاکستان میں بلکہ شاید دنیا میں طاقت کا سرچشمہ امیر افراد یا سرمایہ دار مافیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سرمایہ دار مافیا کی مدد کے بغیر وہ بلکہ کوئی بھی اقتدار حاصل نہیں کر سکتا۔ ان کا ایک جملہ جس سے ان کی اس ذہنیت کا اظہار ہوتا ہے یہ ہے کہ ”سیاست کرنا غریب آدمی کا کام نہیں ہے“ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سیاسی میدان میں کامیابی کے لیے ہمیشہ پاکستان کے طاقتور سرمایہ دار فوجی اور غیرفوجی مافیا کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی ہے۔
ان دنوں عمران مکافات عمل کا شکار ہیں اور ان کے خلاف پاکستانی سرمایہ دار مافیا کی جانب سے شدید انتقامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ ان کی جماعت کے اہم رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے ہیں۔ وہ خود اس وقت جیل میں ہیں اور ان کی جگہ ایک ڈمی چیرمین پاکستان تحریک انصاف کام کر رہے ہیں۔ مختلف صحافی اس سیاسی جبر پر عمران سے اظہارِ ہمدردی کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مقتدر ادارے کی طرف سے جس پر بھی جبر کیا جائے اس کی مذمت ہونی چاہیے۔ دوسری طرف کچھ صحافی 9 مئی 2023 کو تحریک انصاف کی طرف سے برپا کیے جانے والے پرتشدد ہنگاموں کو ایک ناقابل معافی جرم قرار دے رہے ہیں۔ عدلیہ ظاہر کر رہی ہے کہ وہ ملک میں صرف اور صرف انصاف چاہتی ہے اس لیے تحریک انصاف اور عمران کے بارے میں اس کا رویہ نرم پڑ رہا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کی سختیوں کی وجہ سے پاکستان کی پڑھی لکھی مڈل کلاس اور اشرافیہ کا ایک بڑا حلقہ عمران کی زبردست حمایت کر رہا ہے۔ پنجاب میں عمران کو ایک مقبول رہنما کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ وہ کھمبے کو بھی الیکشن میں کھڑا کریں گے تو وہ 8 فروری کا انتخاب جیت جائے گا۔ دوسری طرف ن لیگ بہت مطمئین اور پر اعتماد نظر آتی ہے کیونکہ اسے دور حاضر کی اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ نواز شریف کو یقین ہے کہ وہ بآسانی چوتھی مرتبہ وزیراعظم منتخب ہو جائیں گے۔ پنجاب کے تمام الیکٹیبلز اس وقت ن لیگ میں ہیں اور ن لیگ کی ٹکٹ بلیک میں بھی دستیاب نہیں ہے۔
ہم عمران پر ہی رہتے ہیں، عمران کی جماعت ایک طرف واضح طور پر فوج مخالف مہم چلائی رہی ہے جب کہ دوسری طرف پی ٹی آئی کے چیرمین کہہ رہے ہیں کہ وہ فوج کے مخالف نہیں ہیں اور یہ ان کی اپنی فوج ہے۔ عمران کی جماعت بلوچ یکجہتی تحریک کی حمایت بھی کر رہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ اس وقت ہر فوج مخالف بیانیے کی حمایت کرنے کو تیار ہے۔
مجھے لگتا ہے کہ اعلیٰ فوجی افسران کی اکثریت اب بھی عمران کے ساتھ ہے لیکن فوجی ڈسپلن کی وجہ سے خاموش ہے۔ فوجی اشرافیہ کے خاندان خاص طور پر ان کی خواتین عمران کی مداح ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ فوجی افسران دفتر اور گھر دونوں جگہوں پر شدید دباؤ میں رہتے ہیں۔ اعلیٰ فوجی قیادت کی طرف سے پی ٹی آئی کے خلاف شدید ردعمل کی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتی ہے کہ 9 مئی کو فوجی قیادت کے خلاف بغاوت کی کوشش کی گئی تھی۔یہ بھی واضح ہے کہ 9 مئی کی اس مبینہ بغاوت میں فوج کے اپنے حاضر سروس اعلیٰ فوجی افسران بھی شامل تھے۔ حاضر سروس افسران کی بیگمات کے علاوہ عمران کو ریٹائرڈ سول اور فوجی افسران (ایکس سروس مین) اور ان کے خاندانوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اس سے ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ عمران کی کٹھ پتلی سیاست ابھی ختم نہیں ہوئی. پراجیکٹ عمران کو نقصان ضرور پہنچا ہے لیکن شاید یہ مکمل طور پر رول بیک نہیں ہوا۔عمران یقیناً مناسب وقت کا انتظار کر رہے ہیں کہ کب لوہا گرم ہو اور وہ ضرب لگائیں۔ سوشل میڈیا پر عمران کی گرفت بدستور مضبوط ہے اور دوسری جماعتیں اس کے قریب قریب بھی نظر نہیں آتیں۔ عمران اپنی ڈھکی چھپی فوجی حمایت کے باعث یقیناً اپنے روشن مستقبل کے لیے پرامید ہوں گے۔ جونہی وہ اپنی حامی فوجی اشرافیہ کی مدد سے اقتدار حاصل کریں گے ان کا فوج مخالف بیانیہ بھی جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا اور وہ ایک مرتبہ پھر اس ملک کو اپنے ذاتی کارپوریٹ ادارے کی طرح چلانے کا آغاز کر دیں گے۔
عمران اور ان کی حامی اشرافیہ کے لیے مایوس کن بات صرف یہ ہے کہ ماہ رنگ بلوچ کی تحریک نے پورے ملک میں نئی سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے جس کا سیاسی اشرافیہ کی انتخابی کٹھ پتلی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نچلے طبقے کی یہ بلوچ تحریک ملک سے کٹھ پتلی سیاست کا خاتمہ کر سکتی ہے جس کے نتیجے میں عمران خان کا مستقبل تاریک ہو سکتا ہے۔
فیس بک کمینٹ

