لاہور : قومی اسمبلی کے سپیکر راجہ پرویز اشرف سے پی ٹی آئی ارکان کی استعفوں سے متعلق ملاقات کے بعد پارٹی کے سینیئر ارکان کی غیر موجودگی زیرِ بحث ہے۔
جماعت کے مطابق پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک کو سپیکر سے ملنے والے وفد میں عین موقع پر شامل نہ ہونے کے نتیجے میں لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر بلایا ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے اس بات کو رد کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا ہے کہ ’شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک کو عدم اعتماد کی تحریک پر بات کرنے کی غرض سے بلایا گیا ہے۔‘
دوسری جانب عمران خان نے سپیکر قومی اسمبلی سے علیحدہ ملنے والے پارٹی ارکان کے نام بھی مانگ لیے ہیں۔ پی ٹی آئی کے گذشتہ روز ہونے والے اجلاس میں شامل ارکان نے بتایا ہے کہ اسد قیصر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو سپیکر سے رابطہ کرنے والے ارکان کے نام عمران خان کو بتائے گی۔
واضح رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پی ٹی آئی کے وفد سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران بتایا تھا کہ چند پی ٹی آئی ارکان نے انھیں کہا کہ انھیں استعفے دینے پر مجبور کیا جارہا ہے۔جبکہ اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق زبیدہ جلال، غلام بی بی بھروانہ اور غلام محمد لالی کی اسمبلی میں حاضری بھی لگ چکی ہے۔
اسی بات پر فواد چوہدری نے کہا کہ ان ارکان کی جانب سے ویڈیو پیغامات کے ذریعے پہلے سے ہی بتا دیا گیا تھا کہ وہ استعفی دینا چاہتے ہیں اور سپیکر سے گزارش کی کہ ان کے استعفے منظور کرلیں۔عمران خان نے اس سے پہلے بھی کہا تھا کہ پی ٹی آئی ارکان کے فرداً فرداً استعفے قبول کرنے کے بجائے ایک ساتھ 127 ارکان کے استعفے منظور کرلیے جائیں۔
لیکن سپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کے بعد کہا کہ ارکان ان سے فرداً فرداً آکر ملیں اور ملاقات کے دوران بھی کہا کہ وہ اپنا موقف اسمبلی میں حاضر ہوکر دیں۔
( بی بی سی اردو )

