بات ہورہی تھی لاہور قلندر ز کی،اسکی منیجمنٹ کی، اسکی پرفارمنس کی،اسکی مسلسل ناکامیوں کی،دنیا بھر کے کرکٹ شائقین بالعموم،لاہور کے بالخصوص پریشان تھے، مایوس تھے اور قدرے ناراض تھے کہ یہ کیسا قلندرانہ انداز ہے کہ جس میں کوئی کمال نہیں اور جسکو زوال ہی زوال ہے۔
توقع کی جارہی تھی ایسی تبدیلی کی،ایسے تعویز کی کہ 2020 کا سال دمادم مست قلندر بن جائے. پھر قلندرز کی تاریخ بھی ایسی ہے کہ توقع بنتی ہے۔ ایسے میں جمعرات کی دوپہر ایک کپتان کی تبدیلی کی خبر آہی گئی، سب نے سکھ کا سانس لیا کہ قلندرز کیلئے کچھ بہتر ہونے جارہا ہے لیکن یہ کیا ؟
قلندرز کی بجائے پشاور زلمی، سابق چیمپئن،ہر دلعزیز اور پاکستانیوں میں بے پناہ مقبول ڈیرن سیمی کی قیادت کی سبکدوشی اور انکے ٹیم سے بطور کوچ،مینٹور جڑنے کا فیصلہ، کرکٹ شائقین حیران ہی رہ گئے
لیکن سچی بات یہ ہے کہ زلمی کے تھنک ٹینک نے جاری ایونٹ میں سیمی کے بجھے بجھے انداز کو بھانپ لیا،
تھوڑے شکوے شکایتیں میڈیا کی زینت بھی بنوادیں اور پھر دلیرانہ فیصلہ کرکے فوری کامیابی کی شکل میں ثمر بھی پالیا۔
لیکن یہ زلمی کی کہانی ہے جیسے کبھی تھی ہی نہیں اور ایک قلندرز کی کتھا ہے جیسے کبھی اسکا انت ہی نہیں۔ وہ ٹیم جو شروع دن سے اپنا کپتان تک نہ بناسکی ہو وہ 18 تو کیا 11 رکنی حتمی اسکواڈ بھی بناتے بناتے 36 کے آکڑے کا شکار ہوتی ہوگی،بات اولین ایڈیشن کی ہے تو 2016 میں 2 کپتانوں کا تجربہ یہ بتانے کیلئے کافی تھا کہ پہلا پہلا پیار گلے پڑگیا ہے.
ٹیسٹ بیٹسمین اظہر علی ٹی 20 کے تیز ترین فارمیٹ کیلئے قلندرز کے پہلے کپتان بنائے گئے. نتیجہ میں 7 میچز میں 5 ناکامیاں اور محض 2کامیابیاں. بھلے اتفاق سے اسی ایونٹ میں قیادت ایک میچ کیلئے ڈیو ن براوو کو دیکرتاریخ میں شکست لکھوائی گئ.
2017 سے 2018 تک کپتانی نیوزی لینڈ کے کامیاب کپتان برینڈن میک کولم کے سپرد ہوئی تو خیال تھا کہ تجربہ کار ہیں.مستقل کپتان ہیں لاہور کو جیت کے ٹریک پر لے آئیں گے لیکن تسلسل کا یہ تجربہ بھی کام نہ آیا.دو سیزن کے 18 میچز میں صرف 5 فتوحات اور 11 ناکامیاں قلندرز کی آخری پوزیشن کو ذرا برابر بھی پیچھے نہ کرسکیں.
یہ وہ وقت تھا کہ 2019 کیلئے کچھ اچھا سوچا جاسکتا تھا اور شائقین ومبصرین بہتری کی امید بھی لگارہے تھے کہ عاقب جاوید جیسے کوچ ذہن دوڑاچکے ہونگے
لیکن جب گزشتہ سیزن شروع ہوا تو پتا چلا کہ پینک بٹن کچھ زیادہ وولٹیج کے ساتھ دب چکا ہے.ایک نہیں دو نہیں بلکہ تین کپتانوں کا تجربہ ایک ہی ایڈیشن میں دیکھنے کو ملا.محمد حفیظ 2 میچز میں 1-1سے برابر رہے. ڈی ویلیئرز 3 میچز میں 2-1سے خسارے میں رہے تو فخر زمان تو قلندرز کی بک میں فخر کا ساماں ثابت نہ ہوئے اور 5 امتحان میں سے 4 میں ناکام اور ایک میں فخر میدان بھی ایسے ٹہرے کہ ٹیم کی پوزیشن وہی آخری ہی رہی.
2020 کے ایڈیشن میں قلندرز سے جڑے سہیل اختر کو کپتان بنائے جانے کی اطلاعات حیران کن تھیں .ٹیم میں حفیظ جیسے تجربہ کار کرکٹرکی موجودگی میں یہ دال گلتے دکھائی دے نہیں رہی تھی
پھر اسکواڈ میں شامل اکثر عمر رسیدہ پلیئرز کی موجودگی یہ بتانے کو کافی تھی کہ اس مرتبہ بھی لاہور میں قلندرز قلندرز نہیں ہونگے اپنے ہوم گراؤنڈ قذافی اسٹیڈیم میں زیادہ میچ لینے کے باوجود کچھ نیا نہیں ہوگا اور پھر ایسا ہی ہوا.اب تک آدھے میچز کھیلنے کے بعد سہیل اختر ایک ہی جیت کا مزا چکہ سکے اور دکھاسکے.
جس کپتان کی اپنی کارکردگی کا عالم یہ ہو کہ 5 میچز میں 55 رنز کھاتے میں جڑے ہوں،ایک دن قبل 200 سے زائد رنزبناکر اگلے روز ٹاس جیتنے کے بعد کا فیصلہ تک درست نہ کرسکے ہوں تو تبدیلی تو انکی بنتی ہی ہے.
ڈیرن سیمی کی پرفارمنس بھلے آف کلر تھی مگر انکی قیادت،فیصلے اور انڈر اسٹینڈنگ دکھائی دیتے تھے اور 2 فتوحات گواہی بھی دے رہی تھیں
لیکن وہ پھر بھی بدلے گئے اور نتیجہ میں جمعرات کی شب نئے قائد وہاب ریاض کی قیادت میں زلمی نے گلیڈی ایٹرز کو بڑے انرجیٹک انداز میں ہراکر نہ صرف نئی انگڑائی لی بلکہ کوئٹہ کے پاؤ ں تلے سے زمین بھی نکال دی.
فیصلے بولتے اور کپتان اپنی کپتانی دکھاتے ہیں.قلندرز کو بھی کچھ فیصلوں کی فوری ضرورت ہے. وقت کم ،چانسز محدود اور مقابلہ سخت ہے. فیصلے کیسے؟
29 سال کے کرس لین،39 برس کے محمد حفیظ،35 سال کے سامت پٹیل،32 سال کے بین ڈنک ، 34 سال کے ڈیوڈ وائز اور یا 34 ہی برس کے کپتان سہیل اختر، تجربہ کہیں گم اور انرجی کتنی کم، بائولنگ میں 19 سالہ شاہین آفریدی، 26 سالہ حارث رئوف، 27 سالہ دلبر حسین تجربے میں وہاب ریاض یا ورائٹی میں ڈیل اسٹین جیسے تو ہیں ہی نہیں
لیکن فٹنس مسائل نے رہی سہی بیٹری بھی اوور کردی ہے.باقی کم تجربہ کار اور کچھ سپنرز ابھی چھوٹے ہیں. چنانچہ برینڈ ن میک کولم جیسے کهلاڑی کی 2سالہ مسلسل قیادت نے یہ بھی عیاں کردیا کہ مسئلہ محض کپتانی کا نہیں ہے اور پھر گزشتہ برس اوپر تلے 3 کپتانوں کی تقرری نے اس پر مہر بھی ثبت کردی کہ مرض صرف کمانڈر کا نہیں ہےبلکہ منیجمنٹ، تھنک ٹینک اور سلیکشن میں ہے جو بدقسمتی سے اس سال بھی جاری ہے.
شاید یہی وجہ ہے کہ ڈیرن سیمی کی سبکدوشی کی طرح قلندرز تاوقت اسکی ہمت بھی نہیں کرسکے لیکن اسکا یہ مطلب بھی نہیں کہ انہیں کچھ بھی نہیں کرنا چاہیئےبلکہ اب دستے میں شامل راجہ فرزان،محمد فیضان،جاہد علی،سلمان ارشاد وغیرہ میں سے چند ایک کا سینئرز کے ساتھ کمبی نیشن جوڑ کر اسپن اور پیس کا بہتر کمبینیشن سیٹ کرلینا چاہیئے.
قیادت کیلئے اس وقت حفیظ سے بہتر کوئی چوائس نہیں جنکا لاہور کیلئے ریکارڈ کم سے کم ففٹی ففٹی تو ہے ویسے بھی گلیڈی ایٹرز کی تازەترین شکست کے بعد پوائنٹس ٹیبل پر دلچسپ صورتحال ہے.
ملتان 8 اور اسلام آباد وپشاور 7،7اسی طرح کراچی اور کوئٹہ کے 6،6 پوائنٹس یہ واضح کرتے ہیں کہ گیم تمام ٹیموں کیلئے ابھی آن ہے چنانچہ 5 میچز میں 2 پوائنٹس لینے والی قلندرز ٹیم اگلی 2 مسلسل فتوحات سے اکثر ٹیموں کی نیندیں اڑاسکتی ہے.اگر ایسا ہوگیا تو پھریہی پینک بٹن دوسری ٹیموں میں دبا دکھائی دے گا.
گزشتہ 3 میچز میں مسلسل جیتنے والی ملتان سلطانز کو اگر اگلے میچ میں شکست ہوگئی تو تمام ٹیموں کے پاس ٹاپ 2 پوزیشن کے حصول کے مکمل چانسز ہونگے. دیکھنا یہ ہے کہ پشاور زلمی میں ہونے والی تازہ ترین تبدیلی قلندرز کے لئے ایسا تعویذ ثابت ہوتی ہے کہ جب تعویز صحیح وقت پر صحیح جگہ لے لے تو پھر باقی کردار صرف دکھاوے کے رہ جاتے ہیں.
فیس بک کمینٹ

