تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ بدھ کو ان کے ساتھ لانگ مارچ میں شامل لوگ مسلح تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے تصادم سے بچنے کے لئے دھرنا دینے کا ارادہ ترک کردیا تھا تاکہ ملک میں فساد برپا نہ ہو اور خوں ریزی سے بچا جائے۔
اب انہوں نے سپریم کورٹ سے یہ استفسار کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ کیا تحریک انصاف کو پرامن احتجاج کرنے کی ضمانت دی جاسکتی ہے ۔ اگر عدالت عظمی نے انہیں یہ تحفظ فراہم کرنے سے گریز کیا تو وہ متبادل حکمت عملی کے ساتھ اسلام آباد کا رخ کریں گے۔ سابق وزیر اعظم یوں تو یوٹرن لینے اور اپنی بات سے منحرف ہونے میں ید طولی رکھتے ہیں لیکن آج صبح پشاور میں وکلا سے خطاب کے علاوہ ایک ٹیلی ویژن ٹاک شو کو دیا جانے والا انٹرویو تضادات کا نادر روزگار نمونہ ہے۔ تاہم اس بیان کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ عمران خان ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے انصاف مانگنے کی بجائے اسے ’دھمکی آمیز انداز ‘ میں اپنے سوالوں کا جواب دینے کا تقاضہ کررہے ہیں۔ شاید اس کی ایک وجہ ان کی یہ خوش فہمی ہو کہ جب ملک کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال بنفس نفیس عمران خان کی ’صفائی‘ پیش کرنے میں کوئی پریشانی محسوس نہیں کرتے تو وہ اب تحریک انصاف کی غیر متعلقہ درخواست کو نہ صرف ’قابل غور‘ قرار دیں گے بلکہ اس پر مناسب احکامات جاری کرکے موجودہ حکومت کے ہاتھ پاؤں باندھنے کی اپنی سی کوشش ضرور کریں گے۔
یادش بخیر جب بدھ کو سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود عمران خان نے اپنے حامیوں کو اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچنے کا حکم دیا تھا اور ان کے متشدد ساتھی سار ا دن سیکورٹی فورسز پر حملے کرتے رہے تھے تو اگلے ہی روز لارجر بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کی طرف سے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے کی درخواست کو یہ کہتے ہوئے نمٹا دیا تھا کہ ’ہوسکتا ہے، ان تک عدالت کا صحیح حکم نہ پہنچا ہو‘۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا یہ بھی فرمانا تھا کہ جو بیت گیا اسے بھول جائیں ، اب آگے دیکھیں اور معاملات درست کرنے کی بات کریں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان نے اپنے انٹرویومیں سپریم کورٹ کو ہی اب مستقبل کی طرف دیکھنے اور اپنی حکمت عملی واضح کرنے کی دعوت دی ہے۔
سپریم کورٹ ملک میں عدالتی روایت سے جڑی ہوئی عدلیہ کا انصاف فراہم کرنے والا سب سے اعلیٰ فورم ہے۔ عدالتی ڈھانچے کے مطابق کوئی عدالت مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات پر غور کرکے رائے ظاہر نہیں کرتی بلکہ کوئی جرم سرزد ہوجانے کے بعد ہی کسی معاملہ پر عدالتی کارروائی کا آغاز ہوتا ہے۔ یوں بھی کسی بھی ملک کی اعلیٰ ترین عدالت جسے پاکستان میں سپریم کورٹ کہا جاتا ہے، کسی بھی معاملہ کی ابتدائی سماعت کرنے اور اس پر احکامات جاری کرنے کی مجاز نہیں ہوتی ۔ بلکہ جب کوئی قانونی معاملہ ٹرائل کورٹ سے ہوتا ہؤا دیگر اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کے مراحل سے گزر کر سپریم کورٹ تک پہنچتا ہے، تب ہی اس پر غور کرنے اور کوئی فیصلہ کرنے کا اقدام ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ اپیلیٹ فورم ہے، وہ ٹرائل کورٹ کا کردار ادا کرتے ہوئے ملکی عدالتی نظام کو مضبوط کرنے کی بجائے، اسے کمزور کرنے اور زیریں عدالتوں کو بے وقعت کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سو موٹو ایکشن یا کسی اپیل کے دوران براہ راست کارروائی کا طریقہ کار کسی بھی عدالتی نظام کی روح کے برعکس ہے۔ سپریم کورٹ کو اس غیر ضروری مگر خطرناک اور نقصان دہ روایت سے گریز کی صورت نکالنی چاہئے۔
گزشتہ بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ بار اور تحریک انصاف کی طرف سے درخواستوں پر غور کرنے کے لئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے فوری طور سے سہ رکنی بنچ بنا دیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں ا س بنچ نے حکومت کو رکاوٹیں ہٹانے اور تحریک انصاف کو ’پر امن‘ مظاہرہ کرنے کا موقع دینے کا حکم دیا۔ البتہ یہ حکم دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے فاضل جج تحریک انصاف کے وکیل سے یہ ضمانت حاصل نہیں کرسکے کہ ان کی طرف سے احتجاج کے دوران کسی تشدد کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔ اس کے باوجود جسٹس اعجاز الاحسن نے خود کو ثالث قرار دیا اور جلوس کا راستہ روکنے سے منع کرتے ہوئے حکومت کو ہدایت کی کہ وہ تحریک انصاف کو متبادل جگہ فراہم کردے تاکہ پارٹی وہاں جلسہ کرلے یا دھرنا دے ۔ حکومت کی طرف سے ایچ نائن کا میدان اس مقصد کے لئے مختص کردیا ۔ عدالت عظمی نے اس کے ساتھ ہی یہ حکم بھی دیا کہ تحریک انصاف اور حکومت کی مقررہ کمیٹیاں رات دس بجے ملاقات کرکے تفصیلات طے کرلیں۔ یہ ملاقات نہیں ہوسکی اور فریقین ایک دوسرے پر اس ناکامی کا الزام عائد کرتے رہے۔ سپریم کورٹ نے بعد کی سماعت میں ایسی سب کوتاہیوں کو ’نظر انداز‘ کرتے ہوئے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔عدالتی طریقہ کار کے تناظر میں یہ سوال بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور سپریم کورٹ کے علاوہ ملک کے عالی دماغ قانون دانوں کو بھی اس کا جواب دینا چاہئے کہ سپریم کورٹ روزمرہ واقعات کے حوالہ سے کسی بھی پیٹشن پر بنچ بنا کر خود ہی ’ٹرائل کورٹ‘ بننے کی روایت کیوں قائم کررہی ہے؟ کیا وجہ ہے کہ درخواست دہندگان پر واضح نہیں کیا جاتا کہ وہ ایسے چھوٹے تنازعات کے لئے زیریں عدالتوں سے رجوع کریں تاکہ متعلہ مجسٹریٹ یا سیشن جج انہیں مناسب طریقے سے نمٹا دیں۔ جب سپریم کورٹ ہی کسی معاملہ پر غور کرکے حکم صادر کرنے کا طریقہ اختیار کرے گی تو اختلاف کرنے والا متاثرہ فریق کس عدالتی فورم پر اپیل کرے گا؟ سپریم کورٹ کے فاضل جج اس حقیقت سے ضرور آشنا ہوں گے کہ عدالتی انصاف میں مختلف درجات قائم کرنے کی واحد وجہ ہی یہ ہے کہ کسی کے ساتھ عجلت میں کوئی ناانصافی نہ ہو بلکہ مختلف عدالتی فورمز پر تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے اور حقائق کے پیش نظر مناسب اور قابل عمل فیصلہ سامنے آسکے۔ اس درجہ بندی میں سپریم کورٹ کو اعلیٰ ترین عدالت ہونے کے ناتے محض یہ ’اختیار‘ حاصل ہے کہ وہ کسی قانون کی غلط تشریح یا زیریں نظام میں طریقہ کار کی غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کی اصلاح کی ہدایت دے۔ بیشتر معاملات میں سپریم کورٹ کسی غلطی کو پکڑنے کے بعد بھی معاملہ پر حکم صادر کرنے کی بجائے ، اسے واپس ٹرائل کورٹ یا ابتدائی عدالت کے پاس بھیج دیتی ہے تاکہ سپریم کورٹ کی رہنمائی کی روشنی میں تمام معاملہ کا ازسر نو جائزہ لیا جائے۔ اس طرح سپریم کورٹ اپنا وقار بھی برقرار رکھتی ہے اور نچلے درجے پر کام کرنے والی عدالتوں کو بھی مناسب احترام فراہم کرتی ہے۔ یہی درجہ وار عدالتی نظام کی خوبی ہے اور اسی پر عمل کرکے یہ نظام ملک میں حقیقی انصاف فراہم کرنے کا ضامن ہوسکتا ہے۔
ماضی قریب میں سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات میں متعدد مواقع پر وزارت کے منصب تک پر فائز لوگوں کو بھی توہین عدالت کے نوٹس دیے گئے اور بعض صورتوں میں سزا بھی ہوئی ۔ سوٹزرلینڈ کی حکومت کو سپریم کورٹ کی خواہش کے مطابق خط نہ لکھنے کی پاداش میں افتخار چوہدری کی عدالت نے اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دے کر عدالت برخاست ہونے تک کی سزا دے کر پانچ سال کے لئے قومی اسمبلی کا رکن بننے سے نااہل قرار دیا تھا ۔ اس طرح انہیں وزارت عظمی چھوڑنا پڑی تھی۔ ایسا ہی ایک فیصلہ نواز شریف کے معاملہ میں ایک غیر وصول شدہ تنخواہ کو بنیاد بنا کر آئین کی شق باسٹھ تریسٹھ کو لاگو کرکے جاری کیا گیا اور کثرت رائے سے منتخب ہونے والے وزیر اعظم کو نااہل و معزول کردیا گیا۔ کسی درجہ وار عدالتی نظام سے گزرے بغیر سپریم کورٹ کے ایسے فیصلوں سے یوں لگنے لگتا ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت انصاف فراہم کرنے کی بجائے بعض ججوں کا کوئی مخصوص سیاسی ایجنڈا پورا کر تی ہے ۔ ملک کے موجودہ آئینی و سیاسی بحران میں اگر اس طریقہ کو ترک نہ کیا گیا تو ملکی اسٹبلشمنٹ کی طرح اعلیٰ عدالت بھی ایسی ہی حرف زنی کی زد میں ہوگی۔ ایسی صورت حال نہ تو عدالتی وقار میں اضافہ ہوسکے گا اور نہ ہی ملک میں انصاف کا بول بالا ہوگا۔ اس مرحلہ پر اعلیٰ عدالتوں کے متحرک و مستعد فاضل ججوں کو یہ یاد دلانا بھی ضروری ہے کہ ہائی پروفائل سیاسی و میڈیا میں شہرت پانے والے معاملات میں ’سرعت‘ سے انصاف فراہم کرنے کا یہ طریقہ یوں بھی قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ کے علاوہ ملکی ہائی کورٹس میں ہزاروں اپیلیں سال ہا سال سے فیصلوں کی منتظر ہیں لیکن ان پر غور کے لئے جج میسر نہیں ہوتے۔ اس سے عام شہری عدالتوں کو بھی اشرافیہ کا ادارہ سمجھنے پر مجبور ہونے لگتے ہیں۔
اب عمران خان نے اپنے حق احتجاج کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم سپریم کورٹ میں پیٹیشن دائر کریں گے کہ کیا ملک میں پرامن مظاہروں کی اجازت ہے؟ اگر سپریم کورٹ نے ہمارے مظاہرے کو تحفظ فراہم نہ کیا تو متبادل حکمت عملی ترتیب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس پیٹیشن میں ان کی پارٹی سپریم کورٹ دریافت کرے گی کہ 1)تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے راستے میں رکاوٹیں کیوں کھڑی کی گئیں؟ 2)کیا سپریم کورٹ ہمارے اگلے مارچ کے دوران ایسے غیر جمہوری ہتھکنڈوں کی اجازت دے سکتی ہے’؟ یہ سوال کرتے ہوئے عمران خان یہ اعلان بھی کررہے ہیں کہ اگر سپریم کورٹ نے ہمیں تحفظ فراہم نہ کیا تو تحریک انصاف متبادل حکمت عملی بنائے گی۔ اس حکمت عملی کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ اس صورت میں پارٹی حکومت کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کرکے میدان میں اترے گی۔
ملک کی ایک اہم پارٹی اور ایک سابق وزیر اعظم کی طرف سے یہ اعلان براہ راست امن و امان قائم رکھنے والے اداروں کو مقابلہ کا چیلنج دینے کے مترادف ہے۔ وہ یہ وارننگ دے رہے ہیں کہ یا توسپریم کورٹ ہمیں من مانی کرنے دے یا پھر ہم قانون کو ہاتھ میں لینے میں حق بجانب ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ ان کے ساتھی گزشتہ بدھ کو بھی مسلح ہوکر جلوس میں شامل ہوئے تھے اور حکومت کو تیار پاکر انہوں نے تشدد سے بچنے کے لئے لانگ مارچ ملتوی کیا تھا۔ اول تو اصول عدل اور ملکی انتظام کے تحت سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو یہ درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر واپس کردینی چاہئے یا اگر سپریم کورٹ اس پر غور کرتی ہے تو وہ اس پر حکم جاری کرنے کی بجائے درخواست دہندہ کو ہدایت کرے کہ ایسی درخواستیں متعلقہ حکام یا کسی زیریں عدالت میں لے کر جائے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال تو وسیع الظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے سے گریز کرچکے ہیں تاہم اگر تحریک انصاف کی ’چیتاونی‘ دینے والی درخواست پر غور کے دوران کیا عدالت عظمی عمران خان کو طلب کرکے دریافت کرے گی کہ جب سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ نے انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ایچ نائن میں احتجاج کرنے اور ریڈ زون میں نہ آنے کا حکم دیا تھا تو اس پر عمل کیوں نہیں کیا گیا؟ عمران خان نے کس گمان پر یہ فیصلہ آتے ہی شاہراہ سری نگر پر ہونے والے دھرنے کو ڈی چوک منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا؟
سپریم کورٹ اگر یہ سوال نہ اٹھا سکی اور تحریک انصاف کو دھمکی آمیز لب و لہجہ اور پر تشدد احتجاج سے باز رکھنے کا کوئی عملی اقدام نہ کرسکی تو وہ حکومت کے زیر اختیار سیکورٹی فورسز کو بھی امن و امان قائم کرنے کے نام پر تشدد سے کیسے روک سکے گی؟
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

