تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

خوف و بے یقینی میں منایا جانے والا یوم آزادی

اہل پاکستان ہفتہ کے روز 75واں یوم آزادی منائیں گے لیکن ان کے لئے ابھی مکمل آزادی اور اس کے ثمرات کی منزل بہت دور ہے ۔ اس راستے میں ابھی بھی نت نئی مشکلات نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ ملک میں سیاسی بحران، حکومت کا تکبر آمیز طرزعمل اور سماجی سدھار سے لاتعلقی، معیشت کے بارے میں متضاد دعوے، خارجہ و سیکورٹی کے حوالہ سے لاحق خدشات اور بیک وقت امریکہ اور چین کے ساتھ پیدا ہونے والی غلط فہمیاں ان پریشانیوں کے عنوانات ہیں۔
افغانستان سے آنے والی خبریں پاکستان کی داخلی پریشانیوں میں کئی گنا اضافہ کا سبب بن رہی ہے۔ جوں جوں امریکی افواج کے ملک چھوڑنے کا وقت قریب آرہا ہے اور طالبان تیزی سے ملک کے اہم مراکز پر قبضہ کررہے ہیں، اس سے وہاں خانہ جنگی اور عدم استحکام کی صورت حال کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کے لئے سرحد پار سے پناہ گزینوں کے علاوہ دہشت گردوں اور تخریب کاروں کی آمد کے اندیشے پاکستانی عوام اور حکومت کے لئے ایک ناگہانی آفت کی صورت اختیار کرچکے ہیں۔ طالبان نے تیزی سے عسکری کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اتنی ہی تیزی سے اس تاثر کو غلط ثابت کررہے ہیں کہ طالبان کے موجودہ جتھے اور ان کے لیڈر نوے کی دہائی والے طالبان نہیں ہیں جنہوں نے ملا عمر کی سربراہی میں ظلم و بربریت کی مثالیں قائم کی تھیں۔ اب بھی فنکاروں کو ہلاک کرنے اور مخالفین کو سزائیں دینے کے جو ہتھکنڈے اختیار کئے گئے ہیں، اس پر صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ اقوام عالم کو خاص طور سے تشویش ہے۔ اقوام متحدہ کے نمائیندے حراست میں لئے گئے فوجیوں کو ہلاک کرنے کی اطلاعات کو جنگی جرائم قرار دے رہے ہیں۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے گزشتہ روز ایک ایمرجنسی حکم نامہ پر دستخط کئے جس کے تحت فوری طور سے 3 ہزار امریکی فوجی افغانستان بھیجے جارہے ہیں ۔ یہ فوجی دستے امریکی سفارت کاروں اور مختلف اداروں کے لئے کام کرنے والے امریکیوں کے افغانستان سے انخلا میں مدد کریں گے۔ اس حکم نامہ پر دستخط کرنے کے باوجود صدر بائیڈن کا اصرار ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا بہر صورت 31 اگست تک مکمل ہوجائے گا۔ افغانستان بھیجے جانے والے تازہ دم امریکی دستے کسی قسم کی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے بلکہ وہ صرف سفارت کاروں اور شہریوں کے انخلا میں میں تعاون فراہم کریں گے۔ تاہم اس فوری امریکی اقدام سے افغانستان کی غیر یقینی صورت حال کی تصویر واضح ہوتی ہے۔ اب امریکی حکام کو یہ بھی یقین نہیں ہے کہ اس کا سفارتی عملہ کابل میں محفوظ ہے۔ اگر امریکہ اور مغربی ممالک کابل سے مکمل سفارتی انخلا پر مجبور ہوجاتے ہیں تو اس کا ایک ہی مقصد ہوگا کہ کابل پر طالبان کے حملہ اور قبضہ کا انتظار کیا جارہا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس ادارے پہلے ہی اس مدت کو تین ماہ سے کم کرکے ایک ماہ قرار دے چکے ہیں۔ کابل پر طالبان کے قبضہ کے بعد شروع ہونے والا بحران سب سے پہلے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کرے گا۔
اس وقت ہزاروں افغان شہریوں نے ان علاقوں سے فرار ہوکر کابل میں پناہ لی ہوئی جہاں طالبان کا قبضہ ہوچکا ہے۔ کابل سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شہر کے پارکوں اور پبلک مقامات پر اپنے گھروں سے فرار ہونے والے شہریوں نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ جوں ہی طالبان کے شہر پر حملہ کرنے کی خبریں عام ہوں گی ، یہ لوگ حفاظت کے نقطہ نظر سے پاکستان کا رخ کریں گے۔ پاکستان نے افغان سرحد پر باڑ لگانے کا ستر اسی فیصد کام مکمل کرلیا ہے۔ ہنگامی صورت حال کی وجہ سے سرحد کا کنٹرول بھی اب باقاعدہ فوج کے حوالے کیا جاچکا ہے ۔ حکومت بار بار یہ دعویٰ کرتی ہے کہ پاکستان میں پہلے ہی تیس لاکھ افغان پناہ گزین موجود ہیں، ملک مزید افغان باشندوں کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ تجویز بھی دی تھی کہ کسی مشکل صورت میں افغانستان کے اندر ہی سرحدی علاقوں میں کیمپ بنا کر حفاظت کے لئے گھروں سے فرار ہونے والے شہریوں کو پناہ فراہم کی جائے۔ لیکن اس مطالبہ کو کسی عالمی فورم پر کوئی خاص پذیرائی حاصل نہیں ہوسکی۔ پاکستان کے اصرار کے باوجود اس بات کا امکان ہے کہ اگر افغانستان میں اگلے چند روز کے اندر امن و امان بحال نہ ہوسکا اور طالبان جنگ بندی کرکے سیاسی مفاہمت کے کسی فارمولے پر متفق نہیں ہوتے تو پاکستانی سرحدوں کو پناہ گزینوں سے محفوظ رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔
پناہ گزینوں کے نئے ریلے کی آمد سے پیدا ہونے والی اقتصادی مشکلات کا معاملہ تو ایک علیحدہ درد سر ہے لیکن سب سے پہلے یہ شدید اندیشہ موجود ہے کہ ان پناہ گزینوں میں تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد بھی ملک میں آئیں گے اور بھارتی و افغان ایجنسیاں بھی اپنے تخریب کا ر، پناہ گزینوں کے روپ میں پاکستان روانہ کرسکتے ہیں۔ طالبان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی نوعیت اور افہام و تفہیم کی حقیقی صورت حال کسی کے علم میں نہیں ہے۔ بظاہر وزیر اعظم سے لے کر تمام اعلیٰ حکومتی ترجمان یہی دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ طالبان پر اب پاکستان کا کوئی رسوخ باقی نہیں رہا کیوں کہ امریکہ نے عجلت میں انخلا کے بعد نہ صرف اپنی بارگیننگ پوزیشن کمزور کی ہے بلکہ طالبان نے پاکستان کی بات سننے سے بھی انکار کردیا ہے۔ وزیر اعظم کا دعویٰ رہا ہے کہ طالبان کے پاس سیاسی اور عسکری صلاحیت ہے، جیت ان کے سامنے ہے تو وہ پاکستان کی بات کیوں سنیں گے؟ اس قسم کے بیان دراصل قبل از وقت افغانستان پر طالبان کے قبضہ کو تسلیم کرنے کا اعلان ہے اور بالواسطہ طور سے کہا جارہا ہے کہ پاکستان طالبان کی حکومت کو قبول کرلے گا خواہ وہ طاقت کے زور پر ہی اقتدار حاصل کریں اور اس کی وجہ سے افغانستان اور خطے میں نیا انتشار اور بے چینی ہی کیوں پیدا نہ ہو۔
پاکستان میں میڈیا اور سوشل میڈیا پر گزشتہ چند ماہ کے دوران جس طرح امریکی شکست اور طالبان کی فتح کا اعلان کرتے ہوئے ان کے اقتدار میں واپسی کا انتظار کیا جاتا رہا ہے اور طالبان کی جنگ جوئی پر جس طرح خوشی کے شادیانے بجائے جاتے رہے ہیں، اسے اگر سرکاری پالیسی نہ بھی مانا جائے تو بھی پاکستان کا سنسر شدہ اور سرکاری کنٹرول میں مجبور و بے بس میڈیا کسی اشارے کے بغیر ایسے پروپیگنڈے کا اہتمام نہیں کرسکتا تھا۔ یعنی سرکاری طور سے پاکستانی حکومت یہ کہتی ہے کہ اس کا افغانستان میں کوئی ’پسندیدہ‘ نہیں ہے اور وہ طاقت کے زور پر کابل پر قبضے اور اقتدار حاصل کرنے کے طریقہ کو قبول نہیں کرے گی لیکن غیر علانیہ طور سے طالبان کی آمد کا انتظار کیا جارہا ہے اور اس پر خوشی و مسرت چھپانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی۔
وزیر اعظم نے اپنے جوش بیان سے اس کا ذمہ دار امریکی حکومت کو قرار دینے کی بھرپور کوشش کی ہے حتی کہ گزشتہ روز ایک میڈیا ٹاک میں انہوں نے یہ اعلان بھی کردیا کہ ’امریکہ کے لئے پاکستان کی اہمیت محض افغانستان میں پیدا کئے ہوئے مسئلہ سے نمٹنے تک ہے، ورنہ اس نے بھارت کو اپنا اسٹریٹیجک پارٹنر بنا لیا ہے اور اب پاکستان کے ساتھ اس کا رویہ تبدیل ہو چکا ہے‘۔ امریکہ نے اس سخت بیانی کا براہ راست کوئی جواب نہیں دیا لیکن آج ایک طرف وزارت خارجہ کے ترجما ن نے امریکہ کے ساتھ دوستی کا اعلان کیا تو دوسری طرف آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی ناظم الامور کے ساتھ ملاقات کی اور انہیں پاکستان کے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ اس دوران وزیر اعظم عمران خان نے چینی سفیر سے ملاقات کی اور پاک چین تعلقات کو آہنی قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ داسو ڈیم جیسے واقعات دونوں ملکوں کے درمیان کسی قسم کا فاصلہ پیدا نہیں کریں گے۔ان ملاقاتوں سے صرف یہی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کسی طے شدہ حکمت عملی کے بغیر روز مرہ کی بنیاد پر ابھرنے والی صورت حال اور مسائل کی روشنی میں طے کی جاتی ہے۔ پہلے ایک سخت بیان دیا جاتا ہے یا کوئی افسوسناک واقعہ رونما ہوتا ہے ۔ پھر اس کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لئے بھاگ دوڑ کی جاتی ہے۔ اس وقت امریکہ اور چین اگر پاکستان سے ناراض نہ بھی ہوں تو بھی انہیں پاکستانی حکومت کی مستقل مزاجی اور نیت کے بارے میں اپنی اپنی جگہ پر شبہات ہیں۔ اس نقصان کی تلافی ملاقاتوں اور بیانات کے ذریعے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پاکستان کو افغان بحران سے پیدا ہونے والی سنگین صورت حال کا سامنا ہے لیکن حکومت اب تک نہ تو خارجہ پالیسی کی ترجیحات واضح کرسکی ہے اور نہ ہی کسی ذمہ دارانہ جمہوری طریقہ کے مطابق پارلیمنٹ میں ان مسائل پر بات کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ چند لوگ اپنے تئیں تمام مسائل کو سمجھنے اور ان سے ملک کو بچانے کی عظیم ذمہ داری کا بوجھ اپنے سروں پر اٹھائے پھرتے ہیں اور ایسے میں بدحواسی کے محیر العقل واقعات رونما ہوتے ہیں۔ زوال کی اس سے بڑی کیا نشانی ہوگی کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور امریکی صدر کی فون کال یا امریکہ کو اڈے نہ دینے کے اعلان تک محدود ہوچکا ہے۔
ایسے میں قوم کو ایک آزاد ملک کے باوقار شہری ہونے کا پیغام دیا جائے گا اور یہ عزم بھی سننے میں آئے گا کہ پاکستان مشکل دور سے نکل آیا ہے ، دشمن نے اگر کسی بحران کو پاکستان کی کمزور ی سمجھا تو اسے ناقابل فراموش سبق سکھایا جائے گا۔ یہ اور ایسے ہی متعدددوسرے دعوے اب پاکستانیوں کی کئی نسلوں کو ازبر ہوچکے ہیں لیکن ان پر یقین اسی حد تک کمزور ہؤا ہے۔ مالی مشکلات، معیشت کا زوال ، سیاسی محاذ آرائی کی صورت حال اور بے بنیاد دعوؤں کے طوفان میں گھرے پاکستانی عوام اب کسی لیڈر یا حکمران کی بات پر یقین کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ لگتا ہے عوام پر حکمرانوں کا اعتبار بھی اتنا ہی کمزور ہوچکا ہے۔ا سی لئے میڈیا کو پابند اور اختلاف کرنے والی ہر رائے قومی سلامتی پر حملہ قرار دے کر دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس گھٹن میں منایا جانے والا یوم آزادی، خوشی اور اطمینان کے اس احساس سے خالی ہوگا جو کسی بھی آزاد قوم کا طرہ امتیاز ہوتا ہے۔

( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker