تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : پاکستان و بھارت، ایسی جنگ کے کردار جو لڑی جاسکتی ہے ، نہ ختم ہوتی ہے

راولپنڈی میں کور کمانڈر کانفرنس میں بھارت کی طرف سے پاکستان میں تخریبی کارروائیوں کی صورت حال پر غور کیا گیا اور قومی سلامتی کے عزم کا اظہار سامنے آیا ہے۔ دوسری طرف وزارت خارجہ نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ پاکستان نے جب سے دہشت گردوں کی بھارتی سرپرستی کے بارے میں دستاویزی ثبوت دنیا کے سامنے پیش کئے ہیں، بھارت جھوٹے الزام لگانے اور نام نہاد حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کے دعوؤں سے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کا یہ بیان نئی دہلی میں بھارتی وزارت خارجہ کے ان دعوؤں کے بعد سامنے آیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں نگروٹا کے مقام پر ایک دہشت گرد حملہ میں پاکستان ملوث تھا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک ٹوئٹ میں پہلے یہ دعویٰ کیا پھر وزارت خارجہ نے غیر ملکی میڈیا کے نمائیندوں کو اس حوالے سے بریفنگ دی۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے اسی الزام تراشی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دراصل بھارت بوکھلاہٹ میں پاکستان پر جھوٹے الزامات عائد کررہا ہے تاکہ دنیا کو فریب دیا جاسکے۔ اس سے پہلے 14 نومبر کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل افتخار بابر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں الزم لگایا تھا کہ بھارت بلوچستان کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ وہ ایسے گروہوں کی مالی اور عسکری امداد کرتا ہے جو افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہوتے ہیں۔ بھارت نے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا۔اسلام آباد اور نئی دہلی کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف دہشت گردی کے الزامات کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے اس رجحان میں اضافہ ہؤا ہے۔ پاکستان نے دس روز پہلے بھارتی جرائم کا جو ’ڈوسئیر‘ جاری کیا ہے، اس میں بظاہر کوئی نئے الزامات نہیں تھے اور نہ ہی ایسے شواہد پیش کئے گئے تھے جن کی غیر جانبدارانہ ذرائع سے تصدیق ممکن ہو لیکن پاکستان کا دعویٰ ہے کہ یہ شواہد پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کی بھارتی سرپرستی کے ناقابل تردید ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ بھارت کی طرف سے بھی پاکستان پر ایسے ہی الزامات عائد کئے جاتے ہیں۔ بھارت اگرچہ افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان مخالف گروہوں کی سرپرستی کرتا رہا ہے جس پر پاکستان کی طرف سے احتجاج بھی سامنے آتا رہا ہے۔ خاص طور سے بلوچستان کے قوم پرست گروہوں اور تحریک طالبان پاکستان کے مفرور عناصر کی سرپرستی کے ذریعے پاکستان میں حالات کو غیر مستحکم کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی مداخلت کا الزام عائد کرکے وہاں پر موجود غیر انسانی صورت حال کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔
دونوں ممالک کی طرف سے الزامات کا بنیادی مقصد سفارتی سطح پر ایک دوسرے کو مطعون کرنا ہے۔ تاہم اس قسم کی الزام تراشی کبھی بھی مسائل ختم کرنے کا سبب نہیں بن سکتی۔ اس مقصد کے لئے متعلقہ ملکوں کو ایک دوسرے سے بات چیت کے ذریعے ان عناصر کی نشاندہی کرنا پڑتی ہے جن سے کسی بھی ملک کو مسائل درپیش ہوں۔ تاہم جنوبی ایشیا کے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ان دونوں ممالک کے درمیان مواصلت و مصالحت کا راستہ دن بدن مشکل ہوتا جارہا ہے۔ بھارت میں نریندر مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے دونوں ملکوں کے تعلقات دگرگوں ہوئے ہیں۔ اس دور میں ایک دوسرے پر الزام لگانے کا سلسلہ بھی شدید ہؤا ہے اور بات چیت کا ہر راستہ بھی بند کیاجاچکا ہے۔ گزشتہ سال اگست میں مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے علاوہ وہاں پر سخت پابندیوں کے ذریعے مقامی آبادی کے بنیادی حقوق مسدود کرنے کی صورت حال میں بھارت پر کم از کم عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا دباؤ بڑھا ہے ۔ اس کے باوجود بھارت نے مصالحت کی طرف کوئی قدم بڑھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات میں اور بعض دیگر مواقع پر ’ثالثی‘ کی پیش کش ضرور کی تھی جسے ایک وقت میں پاکستان میں ایک مثبت پیش رفت اور موجودہ حکومت کی شاندار سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے لیکن یہ پیش کش ٹرمپ کے خاص انداز میں شہرت حاصل کرنے کی کوشش سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی تھی۔ بھارت پاکستان کے ساتھ معاملات میں کسی قسم کی ’ثالثی‘ کو مسترد کرتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ پیشکش کرتے ہوئے کبھی اس تجویز کو باقاعدہ یا ٹھوس انداز میں سامنے لانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔ امریکہ نے گزشتہ سال بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں یک طرفہ اور عالمی قوانین و اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برعکس اقدامات کو مسترد نہیں کیا۔ امریکی میڈیا اگرچہ مقبوضہ کشمیر میں عائد کی گئی پابندیوں اور کشمیری عوام کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر متعدد رپورٹس شائع کرچکا ہے لیکن ٹرمپ حکومت نے بھارتی حکومت کی سرزنش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس کی بنیادی وجہ دونوں ملکوں کے مشترکہ مفادات ہیں۔ امریکہ ، بھارت کو اپنا اسٹریجک پارٹنر بنانے کے علاوہ اس کے ساتھ دفاعی معادہ بھی کرچکا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کو ترجیحی بنیادوں پر جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا معاہدہ بھی کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کے احتجاج کو کبھی خاطر میں نہیں لایا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی ’امریکہ فرسٹ‘ کے اصول پر استوار رہی ہے۔ وہ امریکی مفاد کے لئے شمالی کوریا سے معاہدہ کرنے پر بھی راضی تھے اور عرب ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی ٹرمپ حکومت کو کوئی خاص تشویش نہیں تھی۔ جو بائیڈن کے صدر بننے کے بعد کسی حد تک امریکہ انسانی حقوق اور جمہوری روایات کے حوالے سے ایک بار پھر عالمی قیادت سنبھالنے کی کوشش کرے گا لیکن پاکستان کو امریکہ سے کسی ہمدردی یا سفارتی اعانت کی امید نہیں کرنی چاہئے۔ بھارت امریکی مصنوعات کی منڈی ہے اور سرمایہ داروں کے لئے ایک دلکش معیشت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ چین کے خلاف امریکی صف بندی میں بھی بھارت جنوبی ایشیا میں امریکہ کا واحد حلیف ہے۔ واشنگٹن میں کوئی بھی حکومت ہو، اس کا جھکاؤ نئی دہلی ہی کی طرف ہوگا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان الزام تراشی کی مہم جوئی کے عالمی سفارتی پہلو سے قطع نظر دونوں ملکوں کے داخلی حالات بھی پر جوش رویہ اختیار کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ پاکستان کو مقبوضہ کشمیر سے اپنی یک جہتی ثابت کرنے کے لئے بھارت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت رہتی ہے تاکہ عوام کو یقین دلایا جاتا رہے کہ اسلام آباد کے حکمران کشمیری عوام کے حق خود اختیاری کے لئے مسلسل کام کررہے ہیں۔ حالانکہ اب ان باتوں کی حیثیت ایک نعرے سے زیادہ نہیں رہی۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیری علاقوں میں پاکستانی پالیسیاں اگر بھارت جتنی بری نہیں تو انہیں مثالی بھی نہیں کہا جاسکتا۔
پاکستان بدستور کشمیر کا ’وکیل‘ بننے پر اصرار کرتا ہے اور کشمیریوں کے حق خود اختیاری کا نعرہ لگاتے ہوئے بھی اس کی سرکاری پالیسی یہی ہے کہ پورا کشمیر پاکستان کا حصہ بنایا جائے۔ اس سیاسی مؤقف کی مخالفت کرنے والے کشمیریوں کو پاکستان میں بھی اسی طرح کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسی بھارت میں آزادی کے متوالوں کا مقدر ہیں۔ بھارت نے اگر مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے انتظامی یونٹ بنا لیا ہے تو پاکستان بھی گلگت بلتستان کے ساتھ یہی سلوک کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اگرچہ دونوں ملکوں کے سیاسی مؤقف میں یہ بنیادی فرق موجود ہے کہ پاکستان کشمیری علاقوں پر دسترس کے باوجود یہ کہتا ہے کہ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی ریفرنڈم میں کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ بھارت کشمیریوں کے اس بنیادی انسانی حق کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی انتظامی حیثیت تبدیل کرنے کا فیصلہ نئی دہلی کی ہٹ دھرمی اور غیر انسانی طرز عمل کی دلیل ہے۔
اس کے باوجود کشمیر میں ریفرنڈم کا معاملہ موجودہ حالات میں دور کی کوڑی لانے کے مترادف ہے۔ اس حوالے سے اس وقت تک کوئی پیش رفت ممکن نہیں ہوسکتی جب تک پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد کی فضا بحال نہ ہو۔ دونوں ملک جانتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے جنگ کی پوزیشن میں نہیں ہیں لیکن دونوں ملکوں کی قیادت اس سچائی کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے۔ بھارت لائن آف کنٹرول پر جارحیت کے مظاہرہ کے علاوہ سرجیکل اسٹرائک کے دعوؤں سے بھارتی عوام کو گمراہ کرتا رہتا ہے۔ جبکہ پاکستان کشمیر کی انسانی صورت حال کو بنیاد بنا کر بھارت پر الزام تراشی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔
دونوں ملکوں کی حکومتیں داخلی سیاسی حالات کی وجہ سے بھی ایک دوسرے کے خلاف تند و تیز لب و لہجہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ اس طرز عمل کی وجہ سے البتہ جنوبی ایشیا میں شدت پسندی کا ناگوار ماحول استوار ہورہا ہے۔ نریندر مودی بھارت میں پاکستان دشمن ہندو مزاج کو مطمئن کرنے کے لئے مسلمان اقلیت کے لئے عرصہ حیات تنگ کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ روز بروز بڑھتا ہؤا ہندو فاشزم بھارت کی آئینی سیکولر بنیادوں کو کھوکھلا کررہا ہے۔ دوسری طرف پاکستانی حکومت اپنے سیاسی مسائل کو بھارت کے خلاف الزام تراشی سے ’حل‘ کرنے کی امید لگابیٹھی ہے۔ اسلام آباد اور نئی دہلی کی یہ سیاسی عاقبت نااندیشی سرحد کے دونوں طرف مذہبی انتہاپسندی کو فروغ دے رہی ہے۔ جو اس خطے کے عوام کے لئے یکساں طور سے تباہی کا پیغام ہے۔
پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات میں موجودہ تعطل ختم کرکے ہی مصالحت اور امن و آشتی کا راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے۔ فی الوقت اسلام آباد اور نئی دہلی میں یہ ماحول موجود نہیں ہے۔ دونوں ملکوں کے حکمرانوں کو بالآخر سمجھنا ہوگا کہ دنیا کا کوئی دوسرا ملک ان کی مدد کے لئے نہیں آئے گا۔ انہیں خود ہی اس بحران سے نکلنے کی کوشش کرنا پڑے گی۔
بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker