Uncategorizedکالمکشور ناہیدلکھاری

ذہنی اور فکری آزادی کہاں تلاش کریں؟ ۔۔ کشور ناہید

گزشتہ ہفتے اپنے ملک کے سیاست دانوں کے اثاثوں کے بارے میں پڑھا ، کروڑوں سے کم نہیں بلکہ اربوں تک ہیں۔ کمال یہ ہے کہ سندھ کے خاص کر سیاستدانوں نے بتایا کہ ان کی بیویوں کے پاس بے شمار سونا ہے۔ ابھی تک تو ہم نے سنا تھا کہ سیاسی خاتون کے ساتھ جن صاحب نے شادی کی ہے، انہوں نے ایک کلو سونا منہ دکھائی میں دیا ہے۔ یہ لکھتے ہوئے یاد آیا کہ نہروجی اپنی جیب میں محض دو سو روپے رکھتے تھے۔ پہلے ان کی تنخواہ 3ہزار روپے مقرر ہوئی، پھر 2250روپےکردی گئی۔ بعدازاں دو ہزار روپے تنخواہ کر دی گئی۔ خیر وہ زمانے بھی اور تھے۔ ہماری اماں تحصیل دار کی بیگم تھیں۔ انہوں نے اپنا سونا تول تول کر بیٹے بیٹیوں کو دیا تھا (شکر ہے میں ان میں شریک نہیں تھی)، گناہ یہ تھا کہ شادی میری مرضی سے ہوئی تھی۔
اب تک لڑکیوں کو اس گناہ کی سزا قتل کرکے دی جاتی ہے جبکہ ہمارے زمانے میں سید زادے تو کیا، سب لوگ کوئی لڑکی گھر سے بھاگ جائے یا شادی کرلے تو اس کامقاطعہ کرتے تھے اور بس۔ اس زمانے میں عزت رکھنے کو لڑکی اور لڑکے کی رضامندی کو دل پر پتھر رکھ کر قبول کیا جاتا ہے کیونکہ دعوت میں 500یا ہزار لوگوں کو بتانا ہوتا ہے کہ لڑکی گھر سے رخصت ہورہی ہے مگر جن کی اربوں مالیت کی جائیداد ہے اور ٹنوں سونا ہے کیا وہ اسی کے مطابق ٹیکس دیتے ہیں؟ یہ سوال بزنس مین سے تو اسلئے نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے انکم ٹیکس والوں کو اپنا ملازم بغیر اعلان کئے رکھا ہوتا ہے۔
ایک طرف عیاشیاں ہی عیاشیاں، ایسے غریب ملک میں بلوچستان کی ایک خاتون نے اونٹ کے اوپر خانے بنوا کر کتابیں رکھوائیں اور وہ اونٹ گائوں گائوں لے جایا جاتا ہے اور لوگوں کی خاص کرجوان لڑکیوں کی کتابوں میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ یہ کام نیشنل بک فائونڈیشن کو کرنا چاہئے۔ افسوس کی تو یہ بات ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے لائبریریوں کو دیے جانے والے فنڈز بند کردیے گئے ہیں۔ کمال یہ ہے کہ جو حکومت بھی آتی ہے وہ غربت، ناکامی، مالی حالات، ہر چیز کا ذمہ دار، گزشتہ حکومت کو قرار دے کر خود بری الذمہ ہوجاتی ہے مگر اب تک کیا جن کے پاس منوں ٹنوں سونا ہے، وہ تحویل میں لے کر گرے لسٹ سے نہیں نکالا جاسکا۔ذرا سوچئے ایک طرف غربت ہے، دوسری طرف لاکھوں کروڑوں کے جوڑے صرف ایک رات کے لئے بنانے پر ہماری بچیاں ضد کرتی ہیں۔ پھر وہ کپڑے ساری عمر بکس میں بند رہتے ہیں۔ کیوں ایسا نہیں ہوتا کہ یہ جوڑے کرائے پر ملا کریں۔ لڑکیاں لاکھوں روپے دے کر بیوٹی پارلر جانا بند کریں اور ہمارے ڈیزائنرز بھی ملازمت پیشہ لوگوں کی حیثیت کو مدنظر رکھ کر اپنے لباس تیار کریں۔
کچھ لوگ میری باتوں کو غضب ناک نگاہوں سے دیکھیں گے لیکن کسی زمانے میں تو یہ چولا بدلا جائے۔ سادگی کے لئے میں نے تو شیری رحمٰن اور مریم نواز کو بھی کہا ہے ’’خدا کرے ان کے دل میں اتر جائے میری بات‘‘۔
اِسی طرح جہیز اور شادیوں کی تقریبات کی تیاری، کم از کم ایک ہفتہ تک جاری رہتی ہے۔ رسمیں دکھاوا زیادہ اور فرض تو ہیں ہی نہیں۔اگر خدا نے دیا ہے تو اولاد کے لئے کوئی بزنس، کوئی گھر یا مستقبل کے منصوبے بھی رشتے کے وقت طے کئے جائیں۔کیا ضروری ہے کہ سرکار ہی ایسے قانون بنائے اور وہ سرکار جو ڈھائی سال میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات کا تدارک نہ کرسکی ہو، وہ بے چاری کیا کرے گی۔میں پریم چند کا آخری نامکمل ناول پڑھ رہی تھی۔خدا کی پناہ، آج سے 80سال پہلے پریم چند اور ان سے پہلے بھی ہندی اور اردو میں لکھنے والوں میں عورتوں کو چپ کی داد ہی ملتی ہے، البتہ ذہنی آزادی کے بارے میں، صرف مجاز نے ایک مصرعہ کہا ہے ’’تو اس آنچل کو ایک پرچم بنالیتی تو اچھا تھا‘‘۔ جب ذکر چلا ہے تو دو مسلمان شاعرات اور فکر کو ہم نے بھلا رکھا ہے۔ یہ ہیں بلقیس جمال اور رابعہ پنہاں۔ رابعہ پنہاں حرا خلیق کی والدہ تھیں اور بلقیس جمال ان کی خالہ، بلقیس جمال اور رابعہ پنہاں تو آپس میں بات بھی فارسی میں کرتی تھیں۔ بلقیس جمال کی شاعری میں نظموں اور غزلوں کے علاوہ فارسی کی شاعری بھی شامل ہے۔ عشق و عاشقی میں جیسے آجکل کچھ شاعرات کہتی ہیں ’’تو مری سرکار‘‘ ایسی واہیات باتیں نہیں ہیں۔ مخدوم محی الدین کی طرز پر ہوتے ہوئے مگر ذہنی آزادی کا ذکر آج سے چالیس سال پہلے شائع شدہ ان دونوں کی کتابوں میں مل جاتا ہے۔ مدحت رسولؐ اتنی عقیدت سے ہے کہ ’’صبح تلاوت، جنت قرآت‘‘ اور ’’لطف کا دریا، تیرا جلوہ‘‘۔ اسی طرح بلقیس جمال کے یہاں بعنوان جذبات پریشاں، جبروت اسلام، ترانہ ہائے مرتبہ، گل خانہ فطرت، قوس قزح، غیرمدون کلام اور پھر کلام فارسی، 500صفحات میں لکھا گیا ہے کہ ’’جنوں والوں کی آزادی پہ بے حد رشک آتا ہے‘‘۔ مختصر یہ کہ پریم چند اور ان کے زمانے کی شاعرات میں اتنی وسیع القلبی تھی تو ہمارے زمانے کو کیا بدقماشی ملی ہے کہ قتل ہیں، رہزنی ہے، ڈاکے ہیں اور مذہب کے نام پر دہشت گردی ۔ مرثیہ آخر کب تک اور مذہب کا دکھاوا بھی کب تک؟
( بشکریہ : روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker