ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد آج رات سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد ہونے والا تھا۔ لیکن اسرائیل کے بعد ایران پر امریکی حملوں نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قانون کی دھجیاں بکھیری ہیں۔ ایران تو ہو سکتا ہے کہ اس تباہی سے باہر نکل آئے تاہم یہ اصول طے ہونے کے بعد کہ طاقت ور جو چاہے کرسکتا ہے ، دنیا میں انارکی اور تباہی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔
صدر ڈونلڈٹرمپ نے امن پسند ہونے کا ڈھونگ رچانے کے بعد گزشتہ رات فرودو، نطنز اور اصفہان میں ایرانی جوہری تنصیبات پر فضائی اور میزائل حملے کیے۔ 30 ہزار پونڈ وزنی بنکر بسٹر بم لے جانے والے بی ٹو طیاروں نے فرودو میں زیر زمین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جبکہ دیگر ٹھکانوں پر امریکی سب میرینز کے ذریعے ٹام کروز میزائل پھینکے گئے۔ ان حملوں کے فوری بعد وہائٹ ہاؤس میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ نے ایران کی جوہری صلاحیت تباہ کرنے میں شاندار فوجی کامیابی حاصل کی ہے۔ اب ایران کو جنگ کی بجائے امن قائم کرنے کے لیے بات کرنی چاہئے۔ ورنہ اس کی تکلیف اور تباہی ناقابل بیان ہوگی۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان حملوں کے بعد استنبول میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہم تو کبھی مذاکرات کی میز سے گئے ہی نہیں تھے لیکن اب سفارت کاری کا وقت ختم ہوچکا ہے۔ امریکہ نے ہماری خود مختاری پر حملہ کرکے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ اب ہمیں مقابلہ کرنا ہے اور ہمارے پاس اس جارحیت کا جواب دینے کے لیے متعدد آپشنز ہیں۔ اس دوران پاسدارانِ انقلاب کے ایک بیان میں کہا گیا ہے’ آج کے حملوں نے ایران کو اپنے دفاع کے جائز حق کے تحت جواب دینے کا اختیار دیا ہے۔ ایرانی سرزمین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اب سخت ردعمل کا انتظار کرنا چاہیے جو ان کے لیے پچھتاوے کا سبب بنے گا۔ ایران کا جواب ایسا ہوگا جس کے بارے میں دشمن نے سوچا بھی نہیں ہو گا۔ مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈے امریکہ کے لیے طاقت کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کی کمزوری ہے‘۔
امریکی حملوں کے بعد ایران نے اسرائیل کے متعدد شہروں پر شدید حملے کیے جس سے متعدد عمارات تباہ ہوئیں اور درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں ۔ اسرائیل نے بھی متعدد ایرانی شہروں پر بمباری کی ہے۔ اگرچہ امریکہ نے مزید حملے نہ کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن اس کا زیادہ تر انحصار ایرانی حکمت عملی پر ہوگا کہ وہ امریکہ کو جواب دینے کے لیے کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ یہ جواب معتدل یا سنگین ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے خیال میں اسی پر منحصر ہوگا کہ اب یہ جنگ مشرق وسطیٰ میں کیا صورت اختیار کرتی ہے۔ پاکستان سمیت متعدد عرب ممالک نے بھی امریکی حملوں کی مذمت کی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی سب ممالک فریقین کو تحمل سے کام لینے کا مشور دے رہے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ ایرانی جوہری تنصیبات تباہ کرنے کے بعد اسرائیل کو ایران پر حملے کرنے سے باز رہنے کا مشورہ دے گا۔ اور کیا ایران اپنے بیان کردہ مؤقف کے مطابق اس قسم کے کسی اقدام کا مثبت جواب دے گا۔
تاہم حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ امریکہ کے بعد اب یورپی ممالک ایران سے جنگ بند کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ لیکن اسرائیل جس نے یہ جنگ شروع کی تھی، اس سے ابھی تک کسی نے حملے روکنے اور امن کو ایک موقع دینے کا مطالبہ نہیں کیا ہے۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایک مشترکہ بیان میں ایران پر زور دیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم کرنے کے لیے مزید کوئی قدم نہ اٹھائے۔برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر، فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے بیان میں کہا ہے کہ وہ واضح رہے ہیں کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔ اور وہ اسرائیل کی سلامتی کی حمایت کرتے ہیں۔بیان میں امریکی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’ہمارا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے‘۔ اس بیان کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ایک بیان سامنے آیا ہے جو انہوں نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں سے ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد جاری کیا ہے۔ ایرانی ایوان صدر کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے بیان میں پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کو عسکری جارحیت کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اس نے ثابت قدمی سے اپنا دفاع کیا ہے۔ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن دوسرے فریق نے منطق کو قبول کرنے کی بجائے ایرانی قوم سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ۔’ہماری قوم کبھی بھی غنڈہ گردی اور جبر کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گی ۔ یہ فطری ہے کہ وہ جارحیت کا مناسب جواب دیں گے‘۔
اس دوران ایران کی پارلیمنٹ نے ایک قرار داد کے ذریعے آبنائے ہرمز بند کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ البتہ ایران کی طرف سے ایسے کسی اقدام کا باقاعدہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ اس کا حتمی فیصلہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کریں گے۔ اب یہ انہی پر منحصر ہے کہ کیا ایران فیس سیونگ کا کوئی سفارتی راستہ تلاش کرکے امریکی حملوں کے بعد جنگ بندی پر آمادہ ہوجائے گا یا اس جنگ کو بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔ آبنائے ہرمز بند ہونے سے عرب ممالک ، چین اور باقی ماندہ دنیا کو اقتصادی چیلنج کا سامنا ہوگا۔ اسی لیے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے چین سے کہا کہ وہ ایران کو اس آبنائے کو بند کرنے سے باز رکھے کیوں کہ اس کا سب سے زیادہ نقصان خود ایران کو ہوگا جس کی تیل کی تمام ترسیلات فوری طور سے رک جائیں گی۔ چین بھی اس راستے سے تیل کی کافی مقدار حاصل کرتا ہے ۔ اس لیے اس آبی راستے کی بندش اس کے لیے بھی ایک سنگین مسئلہ ہوگا۔
ایران بلاشبہ اس وقت خود کو تنہا محسوس کررہا ہے۔ کیا یہ تنہائی اسے شکست خوردگی کی طرف لے جائے گی یا وہ اب جنگی کارروائیوں کو پورے مشرق وسطیٰ میں پھیلا کر ایک طویل اور غیر یقینی جنگ جوئی کا آغاز کرے گا۔ یہ فیصلہ کرنے کی صورت میں ایران کو مزید تباہی اور معاشی مسائل کا سامنا کرنا ہوگا۔ وہ اسرائیل پر جو میزائل پھینک رہا ہے، ان کا ذخیرہ بھی لامتناہی نہیں ہے اور چند ہفتوں میں ختم ہوسکتا ہے۔ البتہ دوسری طرف اسرائیل کو مکمل امریکی امداد کی بدولت جنگ جاری رکھنا آسان ہوگا۔ اس کے علاوہ عرب ممالک میں واقع امریکی اڈوں یا فوجیوں کو نشانہ بنانے سے ایک تو امریکہ کو مزید حملے کرنے کا موقع ملے گا ،دوسری طرف عرب ممالک کی سرد مہری میں اضافہ ہوگا۔
اس صورت حال میں یہ آپشن موجود ہے کہ ایران چند روز جنگ جاری رکھ کر ، اسے بند کرنے پر راضی ہوجائے اور کسی طرح اپنی معاشی و عسکری قوت کو مجتمع کرنے کی کوشش کرے۔ البتہ دیکھنا ہوگا کہ کیا امریکہ جنگ بندی کی صورت میں حالات کو قبول کرلے گا یا وہ اصرار کرے گا کہ ایران اس کے ساتھ اپنے مستقبل کے جوہری منصوبوں کے بارے میں کوئی باقاعدہ معاہدہ کرے۔ اگر امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کے لیے ایسے مذاکرات پر اصرار کیا گیا تو شاید ایران کے لیے اس حد تک پسپائی قبول کرنا ممکن نہ ہو۔ ایران شاید چند دنوں میں جنگ بندی کی کسی تجویز کو مان لے لیکن یہ واضح ہورہا ہے کہ وہ جوہری منصوبے سے مکمل دست بردار ہونے کا اعلان نہیں کرے گا۔
اس دوران امریکہ نے ایران پر حملوں کے بعد اگرچہ اصرار سے ایران کی جوہری صلاحیت کو تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اس بارے میں کوئی واضح اور ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آئے ہیں۔ یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ ایران نے جوہری کنٹرول کے عالمی ادارے کے مطابق 400 کلو کے قریب جو یورینیم ساٹھ فیصد تک افزودہ کیا ہے، وہ کہاں ہے۔ جوہری ٹھکانوں کی تباہی کے باوجود کسی قسم کی تابکاری کی اطلاع نہیں دی گئی۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے افزودہ یورینیم پہلے ہی محفوظ مقام کی طرف منتقل کردیاتھا۔ تاہم جیسے ان امریکی دعوؤں کے بارے میں سوالات موجود ہیں کہ ایران کے جوہری مراکز تباہ ہوگئے ہیں، اسی طرح یہ بھی پوچھا جارہا ہے کہ سیٹلائٹ نگرانی کے اس دور میں ایران افزوہ یورینیم کیسے اور کہاں لے گیا۔ اگر یہ یورینیم ایران کی دسترس میں ہے تو وہ جنگ بند کرنے کے کچھ عرصہ بعد حقیقی معنوں میں جوہری ہتھیار بنانے کی شدت سے کوشش کرے گا۔ اسے بم بنانے کے لیے 60 فیصد افزودہ یورینیم کو 90 فیصد تک افزودہ کرنا ہوگا۔ یہ کام نئے سرے سے جوہری کام شروع کرنے کی نسبت سہل ہوگا۔
عام اندازے کے مطابق آئیندہ دو تین روز میں صورت حال واضح ہوگی اور پتہ چلے گاکہ ایران کیا حکمت عملی اختیار کرتا ہے اور امریکی حملوں کا جواب دینے کے لیے کیا پالیسی اختیار کی جاتی ہے۔ اس دوران ایرانی عوام بدستور پریشانی کا شکار رہیں گے اور دنیا میں بے یقینی میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ ایران کے خلاف امریکہ کے غیر معمولی طور سے جارحانہ حملوں کے بعد دنیا میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا جو اصول نافذ ہؤا ہے، اس کے نتیجے میں متعدد علاقائی تنازعات میں جنگ جوئی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ روس پر یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ میں کمی آئے گی، غزہ کی صورت حال بدستور بے یقینی کا شکار رہے گی اور وہاں آباد چوبیس لاکھ نہتے فسلطینی تن تنہا بھوک اور بمباری کا مقابلہ کریں گے۔
تازہ امریکی جنگ کے بعد اقوام متحدہ کے عالمی کردار کو رسمی کہنا بھی ممکن نہیں رہے گا کیوں کہ اب یہ ایک ڈبیٹنگ کلب سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ البتہ اگر ایران نے مشرق وسطیٰ میں اپنے ہمدرد گروہوں کے ساتھ مل کر گوریلا وار فئیر کے ساتھ جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تو امریکہ ایک نئی اور تباہ کن جنگ میں ملوث ہونے پر مجبور ہوجائے گا۔ ایسی صورت میں آج ایران کی تباہی کو ’ شاندار‘ قرار دینے والا امریکی صدر اپنے ملک کے معاشی زوال و تباہی کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکے گا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

