عمران خان کا آفتاب جہاں تاب افق مغرب سے آن لگا ہے۔ انہونی کا نقارہ بج رہا ہے اور میرے دوست، اظہار الحق کے بقول
غلام دوڑتے پھرتے ہیں مشعلیں لے کر
محل پہ ٹوٹنے والا ہو آسماں جیسے
یہ آسمان کیوں ٹوٹا؟ خان صاحب کو فرصت ملے تو تین سو کنال پر پھیلے اپنے گھر کے سبزہ زار میں کسی تختہ گل کے پہلو میں بیٹھ کر اس سوال کی گتھیاں سلجھا سکتے ہیں۔ کچھ عرصے سے تسبیح ہر لمحے ان کے ہاتھ میں رہتی ہے۔ ان کے افکار میں بھی صوفیانہ رنگ خاصا گہرا ہو رہا ہے۔ ان کی تقاریر بھی اسلامی تاریخ کے روشن حوالوں سے آراستہ ہوتی ہیں۔ وہ اکثر درویشانہ بے نیازی کے ساتھ بتاتے بھی رہتے ہیں کہ انہیں اقتدار کا کوئی لالچ نہیں۔ اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ سو یقیناً وزارت عظمی کا چھن جانا ان کے لئے کسی صدمے کا باعث نہیں ہونا چاہیے۔ ایک قناعت شعار، لہو و لعب سے بے نیاز اور دنیا بیزار شخص کے لئے اقتدار میں رکھا ہی کیا ہے؟
لہذا مجھے مکمل یقین ہے کہ خان صاحب، فراغت کے کچھ شب و روز ضرور نکالیں گے اور اس سوال کا جواب تلاش کریں گے کہ آخر انہوں نے امریکہ کا کیا بگاڑا تھا کہ جو بائیڈن سارے کام چھوڑ چھاڑ کر ان کے پیچھے پڑ گیا؟ جس شخص کے پاس اتنا وقت نہیں کہ انہیں ایک آدھ منٹ کی فون کال ہی کر لے وہ امریکہ کے داخلی اور خارجہ مسائل کو چھوڑ چھاڑ کر پہروں شہباز شریف، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمن سے گفتگو کرتا اور خان صاحب کو وزیراعظم ہاؤس سے بے دخل کرنے کے منصوبے بناتا ہے۔ لندن میں بیٹھے نواز شریف سے پینگیں بڑھاتا ہے اور تو اور اس کا رابطہ، نچلی سطح کے سیاسی کارکنوں اور کچھ ٹی۔ وی اینکرز سے بھی ہے جن کے ساتھ مل کر وہ سازش کا تانا بانا بن رہا ہے۔ ایسا کیوں ہوا ہے؟ یقیناً خان صاحب رمضان المبارک کے ماہ مقدس میں، کسی گوشہ عافیت میں بیٹھ کر غور فرمائیں گے۔
اتوار، یکم رمضان المبارک، غروب آفتاب اور افطار کے لمحہ سعید سے پہلے پہلے، ڈرامے کا آخری منظر، تماشا گاہ سیاست کا حصہ بن جائے گا۔ کیا آئین، قوانین، قواعد، ضوابط اور جمہوری روایات و اقدار کے مطابق کارروائی چلے گی اور اکثریت کا فیصلہ خوش دلی سے مان لیا جائے گا؟ کیا کبھی ”ہار نہ ماننے“ اور ”آخری بال تک لڑنے والے“ خان صاحب سپیکر یا ڈپٹی سپیکر کی مدد سے اپنی زنبیل سے کوئی طلسماتی آلہ نکال کر اپوزیشن کی عددی اکثریت کو اقلیت میں بدل ڈالیں گے؟ کیا خان صاحب کی اپیل پر پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر جمع ہونے والا ایک لاکھ کا پرجوش مجمع، امریکی سازش کے ”وطن دشمن“ کرداروں کا ایوان میں داخلہ ناممکن بنا دے گا؟ کیا عدم اعتماد کی تحریک منظور ہو جانے کے بعد بھی خان صاحب آسانی سے وزیراعظم ہاؤس کا قبضہ چھوڑ دیں گے؟ ان سوالوں کے جواب ملنے میں کچھ زیادہ وقت نہیں رہ گیا۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ خان صاحب کو ”ایزی“ نہیں لینا چاہیے۔
خان صاحب جو کل تک اپنے قلعہ اقتدار کو قصر فولاد تصور کرتے تھے، اب فلک بوس بلندیوں سے زینہ زینہ نیچے اترتے سنگلاخ زمینی حقیقتوں تک آن پہنچے ہیں۔ 2018 سے بہت پہلے، علامہ اقبال کے الفاظ میں، ”فطرت نے لالے کی حنا بندی“ شروع کردی تھی۔ کوشش کے باوجود، مشرف کے مارشل لاء، شہرہ آفاق ریفرنڈم کی جنوں خیز حمایت اور آمر وقت کی بلائیں لینے کے باوجود خان صاحب کا غنچہ آرزو بن کھلے مرجھا گیا۔ تب موسموں کی صورت گری کرنے والی مقتدر ہواؤں نے ان کی تمناؤں کے چمنستان کو شاداب کرنے کی ٹھانی۔ خان صاحب کی راہوں کے کانٹے چنے جانے لگے۔ سب سے بڑے سیاسی حریف نواز شریف اور اس کی گستاخ بیٹی کو انتخابی میدان سے باہر کر کے مقدمات میں الجھا دیا گیا۔ جیلوں کی کوٹھڑیاں آباد ہو گئیں۔ انتخابات کی بساط بچھی۔ کرنا خدا کا کیا ہوا کہ عین ووٹ شماری کے وقت نتائج کی ترتیب و ترسیل کے نظام (RTS) کی نبضیں ڈوب گئیں۔ مشک بو ہوائیں ملک کے طول و عرض میں پھیل گئیں۔ صبح دم انہوں نے لوح تاریخ پر رقم کیا ”نصر من اللہ و فتح قریب“ اور خان صاحب فاتحانہ شکوہ و جلال کے ساتھ ایوان اقتدار میں داخل ہو گئے۔
خان صاحب کی تکمیل آرزو کے بعد بھی مشفق ہواؤں نے خان صاحب کو تنہا نہ چھوڑا۔ پونے چار سال تک ان کی بلائیں لیتی اور ان کے سر پر منڈلاتی بلاؤں سے لڑتی رہیں۔ بات پھر بھی نہ بنی تو ہوائیں تھک سی گئیں۔ تھکن اتارنے اور آرام کے لئے اپنے اپنے منطقوں کو چلی گئیں۔
خان صاحب کو یکایک یوں لگا جیسے وہ لق و دق صحرا میں تنہا کھڑے ہیں۔ اچانک چاروں سمت سے بگولے اٹھنے لگے۔ ہاتھ پاؤں مارنے کے باوجود خان صاحب کو سجھائی نہیں دے رہا تھا کہ کیا کریں۔ انہوں نے اپنی مشفق ہواؤں کو پکارا لیکن صحرائی بگولوں کے فلک شگاف شور میں ان کی آواز دب گئی۔ یوں بھی مشفق ہوائیں سالوں پر محیط اپنی بے کراں شفقت اور بے پایاں مہر و محبت کے باوجود خان صاحب کی کشت ویراں کی لاحاصلی سے مایوس ہو کر گوشہ نشین ہو چکی تھیں۔ سو، خان صاحب کو لق و دق صحرا میں اپنے دست و بازو پر چھوڑ دیا گیا۔ ستم یہ ہوا کہ سالوں تلک آغوش مادر مشفق میں رہنے کے سبب ان کے دست و بازو مفلوج ہوچکے تھے۔ انہیں عادت ہی نہیں رہی تھی کہ انہیں کیسے حرکت میں لائیں۔
تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے کے لئے تنہا ہو جانے کے بعد خان صاحب نے اپنے عالی دماغ مشیروں کی شوریٰ بلائی اور اپنے قلعہ اقتدار پر حملہ آور ہونے والی سپاہ کا راستہ روکنے کے لئے نئی دفاعی لشکر بندیاں کیں۔ انہیں بتایا گیا کہ اپوزیشن آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ بائیس کروڑ عوام کے دل آپ کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ آپ جلسوں پہ نکلیں۔ لاکھوں عوام متحرک ہوں گے تو ماحول بدل جائے گا اور عدم اعتماد کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی۔ سو پہلی دفاعی لائن کے طور پر خان صاحب رابطہ عوام کی مہم پر نکل پڑے۔ بڑے جلسے کیے ۔ اپوزیشن کو وہ وہ سنائیں کہ آسمان بھی لرز گیا۔ لیکن تحریک عدم اعتماد قائم رہی۔ دوسری دفاعی لائن کے طور پر عدالت عظمی میں ایک بے سروپا ریفرنس دائر کر دیا گیا تاکہ دانہ دانہ بکھرتی پارٹی کو سمیٹا جا سکے لیکن یہ حربہ بھی کارگر نہ ہوا۔ ان کی جماعت کے منحرفین میں اضافہ ہوتا گیا۔ تب تیسری دفاعی لائن کے طور پر دس لاکھ کے عظیم الشان مجمع عام پر انحصار اٹھا رکھا گیا جو منہ زور سیلاب کی طرح حرکت میں آئے گا اور قرارداد عدم اعتماد کو بہا لے جائے گا۔
جلسہ ہو گیا۔ مجمع ایک لاکھ کی تعداد سے بھی کوسوں دور رہا۔ اس مجمع کی پٹاری سے ایک سفارتی جائزہ رپورٹ کا کینچوا نکلا جسے امریکی سازش کا نام دے کر ساری اپوزیشن کو غداروں کا ٹولہ قرار دے دیا گیا۔ یہ سودا بھی نہ بکا تو وزیراعظم کو اسٹیبلشمنٹ کی مدد لینا پڑی۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے سامنے کچھ تجاویز رکھیں اور التماس کی کہ بیچ بچاؤ کرا دیں۔ یہ تجاویز اپوزیشن کے سامنے رکھی گئیں جس نے اجتماعی طور پر ’این۔ آر۔ او‘ دینے سے انکار کر دیا اور کہا ”خان صاحب قرار داد عدم اعتماد کا سامنا کریں۔“
اپنی اس بے بسی و لاچارگی کا تصور خان صاحب کے احاطہ وہم و گمان میں بھی کبھی نہیں آیا تھا۔ آخری دفاعی لائن کے طور پر خان صاحب سپریم کورٹ کو متحرک کرنا چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف ہونے والی ”امریکی سازش“ کا نوٹس لیتے ہوئے متحدہ اپوزیشن میں شامل جماعتوں کو غدار قرار دے۔ ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمات کی اجازت دے اور قرارداد عدم اعتماد کی کارروائی کو آگے بڑھنے سے روک دے۔ عدالت عظمی نے نہ سنی تو ایک لاکھ کا لشکر جرار بہر حال متحرک ہو گا اور پارلیمنٹ کے مطبخ میں پکنے والی ہنڈیا عین ’ڈی۔ چوک‘ میں کرچی کرچی ہو جائے گی۔
توقع کے عین مطابق خان صاحب کے قانونی ماہرین ایک ایسی آئینی شق نکال لائے ہیں جس کے تحت عدم اعتماد ہو جانے کے بعد بھی وزیراعظم اپنے عہدے پر کام کرتا رہے گا جب تک صدر مملکت فرمان جاری نہیں کرتے۔ شیخ رشید احمد نے بتایا ہے کہ اس فرمان کے جاری کرنے کی کوئی مدت مقرر نہیں لہذا خان صاحب عدم اعتماد ہو جانے اور پارلیمانی اکثریت کھو جانے کے بعد بھی بدستور وزیراعظم رہیں گے اور امکانی طور پر ڈیڑھ سال کی باقی مدت اقتدار پوری کریں گے۔ اس صورتحال میں قومی معیشت، داخلی و خارجہ معاملات اور ملکی سلامتی و استحکام پر کیا گزرتی ہے؟ اس سے خان صاحب کا کچھ تعلق واسطہ نہیں۔ یہ ”حب الوطنی“ اور ”غداری“ کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ ہے۔
آئین کچھ بھی کہتا رہے، ملک کا مفاد زیادہ عزیز ہو گیا ہے۔ ماضی کے تمام آمر بڑی صراحت کے ساتھ یہ بتا چکے ہیں۔ اگرچہ یکایک خان صاحب کو کئی آزار لاحق ہو گئے ہیں لیکن ان کے دل میں زہرآلود خنجر کی طرح ترازو دکھ ایک ہی ہے کہ مادر مشفق جیسی ان ہواؤں کو کیا ہوا جو برسوں انہیں لوریاں دیتی، ان کے ماتھے پہ بوسے ثبت کرتی، ان کی طرف اٹھنے والی میلی آنکھ میں سلائیاں پھیر دیتی، اور ان کی شان میں گستاخی کرنے والوں کی زبانیں کھینچ لیتی تھیں، وہ یکایک اجنبی کیوں ہو گئی ہیں؟ میرے خیال میں خان صاحب کو وزارت عظمی جانے کا اتنا قلق نہیں جتنا قلق دیرینہ رفاقت رکھنے والی ان دل نواز ہواؤں کی بے رخی کا ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ سازشی عناصر ان کی جان کے درپے ہیں لیکن اجنبیت کی چادر اوڑھے ہواؤں میں ہلکی سی لرزش بھی پیدا نہیں ہوئی۔ خان صاحب کو ایسی بے مہری و بے نیازی کی توقع نہ تھی۔
زخم خوردہ انا کی آخری ہچکی ڈوب جانے کو ہے۔ جلد یا بدیر خان صاحب کو اس سوال کا سامنا کرنا پڑے گا کہ یہ آسمان کیوں ٹوٹا؟
میں غور کرتا ہوں تو اپنے ایک اور دوست امجد اسلام امجد کا شعر یاد آ جاتا ہے
نہ آسماں سے نہ دشمن کے زور و زر سے ہوا
یہ معجزہ تو مرے دست بے ہنر سے ہوا
( بشکریہ : ہم سب ۔۔ لاہور )
فیس بک کمینٹ

