اس میں کوئی شک نہیں کہ عالم انسانیت کو اس وقت کورونا سے بڑا کوئی مسئلہ در پیش نہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ سارا عالم اس وبا سے نجات، اس سے بچاؤ کے لئے مقدور بھر کوشش کر رہا ہے اور انہی کوششوں کو جزوی کامیابی سے ویکسین کی شکل میں امید کی کرن دکھائی بھی دے رہی ہے۔ مگر یہ بات بھی شک و شبہ سے بالا تر ہے کہ عالم انسانیت کو اپنی بقا کے دیگر چیلنج بھی درپیش ہیں۔ ان میں کشمیرا ور فلسطین کے پون صدی سے سلگتے مسائل شامل ہیں۔ کشمیر پر ایک طاغوتی ملک کا غاصبانہ قبضہ ہے اور فلسطین پر بھی ایک عفریت کا کنٹرول ہے۔ کشمیر میں گاہے بگاہے قابض بھارتی فوج کے مظالم کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں مگر کشمیری عوام اپنے حقِ خودارادیت کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں۔
اسی طرح فلسطینی عوام تمام تر ظلم و تشدد کے باوجود اپنی آزاد ریاست کے عزم پر قائم ہیں۔ گزشتہ ہفتے مسئلہ فلسطین اچانک پھر سے بھڑک اٹھا۔ اسرائیل نے یہ کہہ کر نیم خودمختار فلسطینی علاقے غزہ پر فضائی حملہ کر دیا کہ وہاں سے اسرائیل پر میزائل داغے گئے ہیں۔ حالانکہ یہودی جارحیت کی ابتدا تو رمضان المبارک کے آخری جمعہ کی شام اس وقت ہو گئی تھی جب مسجد اقصیٰ میں پر امن عرب مسلمان شہری افطاری میں مصروف تھے۔ سینکڑوں مسلح یہودی فوجی اچانک مسجد میں حملہ آور ہوئے اور انہوں نے نہ صرف مسلمانوں کو زخمی کیا بلکہ مسجد اقصیٰ کے ایک حصے کو آگ لگا دی۔ اس جارحیت کی وجہ یہ بتائی گئی کہ یہ لوگ (عرب فلسطینی) شیخ جراح کے علاقے میں فلسطینیوں کی بے دخلی اور یہودیوں کی آبادی کے خلاف احتجاج کی تیاری کے سلسلے میں جمع ہو رہے تھے یہی نہیں بلکہ میڈیا پر یہ مناظر بھی چلے کہ آگ لگانے کے بعد یہودی فوجی مسجد میں خوشی کے مارے رقص کر رہے ہیں۔
اس سے اشتعال پھیلنا فطری تھا۔ فلسطین کے نیم خود مختار علاقے غزہ میں رد عمل ہوا۔ احتجاج پھیل گیا۔ اسرائیل کے فوجیوں نے ان پر ربڑ کی گولیاں چلائیں۔ احتجاج گلی گلی گھر گھر پھیل گیا۔ غزہ کا علاقہ کاغذوں میں خود مختار ہے اور فلسطین کی ایک حکومت بھی قائم ہے مگر غزہ پوری طرح سے اسرائیل کے نرغے میں ہے اس ”لینڈ لاکڈ“ پٹی میں میزائل بنانے کی فیکٹریاں کہاں سے آ گئیں؟؟ خشکی اور سمندر سب پر یہودی فوج اور بحریہ کا پہرہ ہے۔ باہر سے بھی میزائل راکٹ اور لانچنگ پیڈ نہیں آ سکتے تو پھر میزائل اسرائیل پر کیسے اور کہاں سے فائر ہو گئے۔ اس کی تحقیق کا بھی کوئی انتظام یا اعلان سامنے نہیں آیا۔ بس فلسطینیوں کی ایک بار پھر نسل کشی شروع کر دی گئی۔ راکٹوں، میزائلوں اور بموں سے غزہ کو کھنڈر بنا دیا گیا آتش و آہن کی اس بارش سے سینکڑوں بچے بڑے، مرد و زن شہید کر دیئے گئے۔ اسرائیل کی طرف سے یہ خونریزی پہلی بار نہیں کی گئی 2014ء میں بھی ایسی ہی کارروائی کی گئی تھی۔
یہ سلسلہ اسرائیل کے قیام 1948ء سے ہی جاری ہے۔ خطہ فلسطین میں اس کی ابتدا پہلی جنگ عظیم کے خاتمے پر سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے ساتھ ہی 1918ء میں ہو گئی تھی۔ علاقے پر برطانیہ کا قبضہ ہو گیا تو اس نے یہودی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنا شروع کر دی مختلف (جبری) معاہدوں کے بعد اسرائیل وجود میں آ گیا تو غزہ کی پٹی اور دریائے اردن کے مغربی کنارے پر بالترتیب مصر اور اردن کی عملداری تھی۔ پھر 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں غزہ کی پٹی، صحرائے سینا، مغربی کنارے، بیت المقدس اور جولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا۔ 1973ء میں البتہ مصر نے نہر سویز پار کر کے اسرائیل کو معاہدہ امن پر مجبور کر دیا جس نے صحرائے سینا خالی کر دیا۔
عالمی سطح پر علاقے میں دو ریاستی فارمولا سامنے آیا جس کے تحت اسرائیل اور فلسطین کے نام سے دو خود مختار ریاستیں قائم ہونا تھیں۔ اسرائیل پہلے سے موجود تھا۔ دریائے اردن کے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر ریاست فلسطین بننا تھی اور کاغذوں میں بن بھی گئی۔ بیت المقدس کو یہودی نام یروشلم سے اسرائیل کا دارالحکومت بنا دیا گیا۔ جبکہ چھ ہزار بیس مربع کلومیٹر پر (کاغذی خود مختار) ریاست فلسطین بنا دی گئی۔ اس کی آبادی 50 لاکھ کے قریب ہے۔ اس کا دارالحکومت بھی مشرقی بیت المقدس رملہ کو کہا جاتا ہے۔ ریاست فلسطین پر حماس کے نام سے فلسطینی تنظیم کی حکومت ہے۔ جس کا نام بھی ہے پرچم بھی ہے۔ صدر محمود عباس اور وزیر اعظم محمد شتیعہ ہیں تین کرنسیاں چلتی ہیں۔ ان میں قصری پونڈ، اسرائیلی شیکل اور اردنی دینار شامل ہیں۔ فلسطینی ریاست ”دولت فلسطین“ کو اقوام متحدہ کے 138 رکن ممالک نے تسلیم کر رکھا ہے مگر اس کی حیثیت اقوام متحدہ کے غیر رکن مبصر کی ہے۔ یعنی اس کے نزدیک ”ہرچند کہیں کہ ہے نہیں ہے“ والی بات ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی سچائی ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“ یہاں بھی بال کھولے ناچ رہی ہے۔ بم برس رہے ہیں، لاشے اٹھ رہے ہیں مگر اسرائیل کے مربی امریکہ کی آشیر باد کے بغیر اقوام متحدہ کا اجلاس تک نہیں ہو سکتا۔ اجلاس ہو بھی جائے تو مذمت کی قرارداد تک منظور نہیں ہو سکتی۔ مسلمان ملکوں کی سب سے بڑی تنظیم او آئی سی (تنظیم اسلامی) اجلاس کر سکتی ہے کر بھی لیا قرارداد مذمت منظور کر سکتی ہے اور کر بھی لی۔ مگر لائحہ عمل کوئی نہیں۔ ایکشن کر نہیں سکتی سو نام تک نہیں لیا۔ شاعر مشرق علامہ اقبالؒ پر کلام اترتا تھا اور یہ لازوال کلام نوے سال (تقریباٰ) قبل اترا کہ ”ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات“ ایک ارب سے زائد آبادی کے 57 مسلمان ملکوں کے پاس آبادی بھی ہے، خطے بھی ہیں، حکومتیں، جھنڈے، نام، فوجیں، تنظیمیں بھی ہیں مگر وہ طاقت نہیں جو اقوام متحدہ میں فیصلے کرا سکے۔ اگر کوئی فیصلہ ہو بھی جائے تو اس پر عملدرآمد کرا سکے۔ دو سو سے زائد ممالک کی اس دنیا کے فیصلے پانچ طاقتور ملکوں کے ہاتھ میں ہیں جن کے پاس ویٹو پاور ہے۔ ان میں سے ایک ملک بھی اٹک جائے تو باقی دنیا ”ٹک ٹک دیدم“ ہی ہو سکتی ہے عملاً کر کچھ نہیں سکتی ان میں امریکہ، برطانیہ، روس، فرانس اور چین شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے مرکزی دفاتر امریکہ میں ہیں اور اقوام متحدہ کو چلانے کے لئے سب سے زیادہ فنڈ (چندہ) امریکہ دیتا ہے جو دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ اس کے اثرات بھی اقوام متحدہ میں سب سے زیادہ ہیں اور وہ اسرائیل کا مربی ہے وہ اسرائیل کے خلاف کوئی قرارداد تک منظور نہیں ہونے دیتا ایک تو اسرائیل خود سائنسی اور عسکری لحاظ سے ترقی یافتہ ہے۔ دوسرے سب سے بڑی عالمی عسکری و اقتصادی طاقت امریکہ کی پشت پناہی اسے حاصل ہے۔
امریکہ کو چین دھیرے دھیرے چیلنج کر رہا ہے مگر امریکہ سے آگے بڑھنے میں ابھی اس کو وقت لگے گا۔ اقوام متحدہ پر امریکی اثرات تب ہی کم ہوں گے جب اقوام متحدہ کا انحصار امریکہ پر نہیں رہے گا۔ دوسرے یہ کہ اقوام متحدہ کے فیصلہ کن مستقل پانچوں ارکان میں سے ایک بھی مسلم ملک نہیں چھٹے مستقل رکن کی جب بات ہوتی ہے تو تب بھی ہندوستان کا نام آتا ہے کسی مسلم ملک کا نہیں۔ ایسے میں عالمی فورم پر مسلم دنیا کے معاملات میں مثبت فیصلے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے اب عالمِ اسلام کے سامنے ایک ہی راستہ ہے ترقی، ترقی اور ترقی، اقتصادی ترقی، سائنسی ترقی اور عسکری ترقی……
مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ
( بشکریہ : روزنامہ پاکستان )

