کہنے کو دو قدم کا فاصلہ ہےلیکن عمر کٹ جاتی ہے فاصلہ نہیں کٹتا ہم چل رہے ہیں مسلسل صبح چلتے ہیں شام چلتے ہیں خوابوں میں سفر کرتے ہیں ہم ہی کیا ہمارے ساتھ راستے بھی سفر میں ہیں منزل ملےتو منزل سفر میں ہوتی ہے یہ کائنات بھی تو مسافر ہے ہر شے راہی ہےہر شے سفر میں ہے نامعلوم کا سفر بے خبر مسافرنا آشنائے منزل ہوتے ہیں ۔
کوئی وجود ہمیشہ ایک جگہ نہیں رہ سکتا سفر کا آغاز سفر سے ہوا اور سفر کاانجام ایک نئے سفر سے ہوگا مسافر بے بس ہےمسافت کے سامنے ہم ہمہ تن گوش تھے تب وہ بولے پرندے اڑتے چلے جاتے ہیں فضائیں ختم نہیں ہوتیں مچھلیاں تیرتی چلی جاتی ہیں سمندر ختم نہیں ہوتا یہ سفر کب سے ہے نہ ابتدا کی خبر ہےنہ انتہا معلوم ہےلوگ آ رہے ہیں لوگ جا رہے ہیں آنسوؤں سے الوداع ہیں مسکراہٹ کے ساتھ خوش آمدید ہے جانے والے بھی مسافر اورابھی آنے والے بھی مسافر سب مسافر ہیں ہمیشہ سفر ہی سفر لیکن بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے جانے پر فضا اداس ہوجاتی یادیں بھولنے نہیں دیتیں ایک ایک پل یاد آتا ہے کہ اس کا دنیا میں رہنا کیسا تھا وہ صرف انسانیت کی خدمت کے لیے آیا اور انسانیت کی خدمت کرتا دنیا سے چلا گیا۔
ملتان کی اس عظیم ہستی کا نام قمر الحق قمر ہے جو ملتان کی صحافت کا روشن باب ہے ملتان میں پرنٹ میڈیا کی ترقی میں آپ کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا لاتعداد شاگرد آپ کے نقش قدم پر چل کر میڈیا کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں وہ نام کے ہی قمر نہیں تھے انہوں نے اس خطے کی صحافت کو منور کیے رکھا ۔آپ11جولائی 2003 کو اس جہان فانی سے کوچ کر گئے آپ کی وفات کو 19 سال بیت گئے لیکن آج بھی آپ ہمارے دلوں میں زندہ ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے آمین
فیس بک کمینٹ

