جبار مفتیکالملکھاری

جبارمفتی کا کالم:کالا کوٹ کالی ٹائی- اب کس کی شامت آئی؟

یادش بخیر! اپنے وزیر اعظم عمران خان کے ممدوح فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے اقتدار کے دس سال مکمل ہونے پر عشرہ ترقی منانے کا اعلان کیا۔ شہر شہر تقریبات، میلوں، ٹھیلوں کے انعقاد کا اہتمام کیا جانے لگا۔ دستیاب ذرائع ابلاغ پر دور ایوبی کی صنعتی ترقی اور معاشی خوشحالی کو نمایاں کیا جانے لگا۔ الیکٹرانک میڈیا، ریڈیو اور ٹیلی ویژن سارے کا سارا سرکاری تھا۔ جو اخبارات این پی ٹی کی ملکیت سے باہر تھے ان میں البتہ آزاد روی اور آزاد خیالی کی جھلک کہیں کہیں نظر آ جاتی تھی۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی الیکشن میں ایوب خان کے ہاتھوں شکست کے بعد اپوزیشن پر مایوسی اور جھنجھلاہٹ طاری تھی۔ وہ تو طلبہ اور وکلاء مائل بہ احتجاج ہو گئے ورنہ ایوبی حکومت مزید دس سال حکمرانی کے خواب دیکھ رہی تھی۔ کہتے ہیں کہ اگر تب عشرہ ترقی کے نام پر کامیابیوں کا جشن منانے کی غلطی نہ کی جاتی تو شائد وہ حکومت کچھ عرصہ مزید سکون سے چلتی رہتی۔ یوں ایوبی جشنِ ترقی کو نظر لگ گئی اور زوال شروع ہو گیا۔ اِدھر ِاقتدار کا عشرہ مکمل ہوا ادھر کرسی سے فراغت ہو گئی۔
نصف صدی سے زائد پرانا یہ معاملہ ہمیں یوں یاد آیا کہ موجودہ حکومت نے اپنے تین سال پورے ہونے پر ہی اپنے کارناموں (تعمیر و ترقی کے) پر مشتمل رپورٹ جاری کرنے کا نہ صرف اعلان کیا ہے بلکہ تقریبات منعقد کرنے کا پروگرام بھی جاری کر دیا ہے جس کے مطابق 26 اگست کو وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں میں تقریبات کا اہتمام ہوگا اسلام آباد میں وزیر اعظم اور لاہور میں وزیر اعلیٰ خطاب کریں گے ہو سکتا ہے اس موقع پر سرکاری عمارات پر چراغاں کا انتظام بھی کیا جائے۔ عمران خان عموماً تعمیر و ترقی کے حوالے سے ایوبی دور کا ذکر کرتے رہتے ہیں جس سے لگتا ہے کہ وہ ایوب خان کے دور کی ترقی اور ان کے طرز حکومت سے متاثر ہیں۔ ایوب خان کے پوتے عمر ایوب وفاقی کابینہ میں شامل ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ وزیر اعظم کو اپنے دادا جان کے دور کی ترقی کی تفصیلات سے آگاہ کرتے رہتے ہوں اسی لئے ایوب دور کی پیروی میں دس سالہ دور ترقی کی بجائے سہ سالہ دور ترقی کو اجاگر کرنے کی ٹھان لی گئی ہو۔ لیکن صورتحال یہ ہے کہ قوم ایوب دور کے دس سال میں جتنی اکتا گئی تھی اتنی موجودہ تین سال میں ہی اکتا گئی ہے۔ تب حکومت مخالف میڈیا نہیں تھا اب ہے۔ تب اپوزیشن مایوس تھی اب حکومت کی مخالفت میں متحد اور متحرک ہے۔ تب وکلاء اور طلبہ میں اتنی بے چینی نہیں تھی جتنی اب ہے۔ ترقیاتی رپورٹ ابھی آئی نہیں اور ماحول احتجاجی بنتا جا رہا ہے۔
دو روز قبل کراچی میں سندھ بار ایسوسی ایشن کا جو کنونشن ہوا اس میں ایک اور وکلاء تحریک جنم لیتی نظر آ رہی ہے۔ تحریک انصاف کے سابق رہنما حامد خان اور عدلیہ بحالی تحریک کے ہیرو علی احمدکرد نے جتنی خوفناک تقاریر کیں ان کا ذکر بھی توہین عدالت کا باعث ہو سکتا ہے۔ اگرچہ یہ تحریک چیف جسٹس سمیت اعلیٰ عدلیہ کے حالیہ اقدامات کے خلاف بتائی جا رہی ہے لیکن وکلاء کا اعلان کردہ دھرنا تو اسلام آباد میں ہونے جا رہا ہے۔ اس موقع پر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
میڈیا سے وابستہ تمام تنظیموں، بشمول مالکان و کارکنان نے حکومت کی طرف سے میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ وکلاء کا اگلا کنونشن اسی روز (26 اگست) کو ملتان میں ہو گا جس روز حکومت جشنِ ترقی منانے کا ارادہ رکھتی ہے وکلاء کے اس کنونشن میں آئندہ کا لائحہ عمل جاری ہوگا۔ وکلاء اعلیٰ ترین عدلیہ میں ججوں کی ترقی کے حالیہ واقعات پر احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے آئین میں کی گئی 19 ویں ترمیم ختم کی جائے اور پارلیمانی کمیٹی کے وہ اختیارات بحال کئے جائیں جو اسے اٹھارہویں ترمیم کے تحت حاصل تھے اور جو انیسویں ترمیم میں کم کر دیئے گئے ہیں۔ کراچی کنونشن میں ججوں کی حالیہ ترقیاں اور تعیناتیاں مسترد کر دی گئی ہیں۔ کنونشن میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کے خلاف دائر زیر التوا معاملات کا جلد فیصلہ کیا جائے۔ یوں لگتا ہے کہ اس مرتبہ بار اور بنچ میں تنازعہ سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے وکلاء کی طرف سے جس جارحانہ انداز میں اعلیٰ عدالتی فیصلوں کو مسترد کر کے احتجاج کا اعلان کیا جا رہا ہے اس کی مثال پہلے نہیں ملتی پہلے یہ انداز تکلم حکمرانوں یا مخالف دھڑوں کے بارے میں ہوتا تھا۔ اب تو ساری جھجک ختم ہو گئی لگتی ہے جس عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں وکلاء نے بے مثال قربانیاں دیں۔
قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ پولیس تشدد کا سامنا کیا اب اسی عدلیہ کی مخالفت میں تمام حدود پار کی جا رہی ہیں۔ گزشتہ تحریک میں وکلاء اور عوام کا ”روئے احتجاج“ صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف تھا۔ اسی لئے تب یہ نعرہ جلوسوں میں تواتر کے ساتھ لگتا تھا کہ ”کالا کوٹ کالی ٹائی، پرویز مشرف کی شامت آئی“ اب تحریک چلے گی تو پتہ چلے گا کہ اب شامت کی زد میں کون کون آتا ہے۔ میڈیا تنظیموں کے احتجاج میں تو نشانہ وزیر اطلاعات فواد چودھری اور ان کے کپتان ہوں گے ہو سکتا ہے کہ میڈیا والے وکلاء کو کھینچ کھانچ کر اپنے احتجاج میں شامل کر لیں لیکن دونوں کا مزاج مختلف اور انداز احتجاج تو بہت ہی مختلف ہے۔ قلم کے مجاہد ”ڈنڈے سوٹے“ میں ویسی مہارت نہیں رکھتے جیسی مختلف مواقع پر کالے کوٹ نے دکھائی۔ یوں بھی اپنی اپنی محدودات اور اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ وزیر اطلاعات گفتار کے غازی ہیں وہ اپنے محبت بھرے طرز تکلم سے معاملات سلجھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں البتہ وکلاء کا مخاطب فریق مذاکرات وغیرہ کی لمبی چوڑی تاریخ نہیں رکھتا۔ ان کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لئے بھی شاید تیسرے فریق کی ضرورت پڑے۔ وہ فریق حکومت کا ہوتا ہے جس کی نمائندگی وزیر قانون فروغ نسیم کریں گے جو آجکل ویسے ہی دباؤ میں ہیں۔ اور ان کی فراغت کی افواہیں گردش میں ہیں۔ اگر وہ اس موقع پر اپنی مہارت دکھانے میں کامیاب ہو گئے تو ان کی وزارت قائم رہنے کے امکانات روشن ہو جائیں گے اور حکومت کے ساتھ ساتھ اعلیٰ عدلیہ کا امتحان آسان ہو جائے گا اور کسی کی شامت آنے کا خطرہ بھی کم ہو جائے گا۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker