وطن عزیز میں ان دنوں سیلاب نے تباہی مچا رکھی ہے ہر طرف تباہی کا عالم ہے۔پانی ساری رکاوٹیں توڑتا، مکانوں ،بستوں گھروں اور کھڑی فصلوں کو روندتا آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔جانوروں اور انسانوں کی لاشیں ساتھ ساتھ پانی میں بہہ رہی ہیں اور لوگ بچارے اپنی اوراپنے بچوں کی زندگیاں بچانے کے لئے تنکوں کا سہارا ڈھونڈ رہے ہیں ایسی خبریں سن سن کر دماغ سن سا ہوتا جا رہا ہے اور پانی کی سطح بلندی کی آخری حدوں کو چھونے لگی ہے ۔اور سوچ و بچار ہے کہ فلاں بستی ،فلاں شہر کو بچانے کے لئے بند میں شگاف ڈالا جائے گا یا بند توڑ دیا جائے گا ۔
ہمارا سوشل میڈیا خطر ناک بلکہ خوف ناک حد تک خبروں کو توڑ موڑ اور بڑا چڑھا کر ایسے سوشل میڈیا پر ڈال رہا ہے کہ لوگوں کی گھر بیٹھے بھی سانسیں پھولنے لگتی ہیں۔
اکثر سننے اور دیکھنے میں آیا ہے ذکر ایسے ممالک کا جن میں انسانوں کی بے قدری،عڑت ونفس کی پائمالی بھوک و افلاس کی حکمرانی اور وسائل کی کمی ہے جس وجہ سے لوگ اپنے ملک سے نکلنے کے لئے نا جائز راستے اختیار کرتے ہیں۔اور سب سے بڑا راستہ یہ کہ وہ چھپ چھپا کر بحری راستوں سے کشتیوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں اور لالچی اور بے رحم لوگ اوور لوڈنگ کرتے ہیں اور اکثر کشتیاں ڈوب جاتی ہیں۔اور وہ زندگی کی تلاش میں نکلے لوگ موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔
بات جو میں کرنے جا رہا ہو ں وہ یہ ہے کہ پانی کے اندر صرف کشتی ہی چل سکتی ہے عام حالتوں میں لوگ دریا کے کنارے تفریح کے لئے جاتے ہیں اور دریا کی سیر کے لئے کشتی میں بیٹھ کر ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور اگر کوئی ایسا وقت آ جائے جیسا کے ہمارے وطن عزیز میں آیا ہے کہ پانی نے بستیوں کی بستیوں اور گاؤں کے گاؤں کو اپنے شکنجے میں لے رکھا ہے ایسے مشکل وقت میں چاہیے تو یہ کہ کشتیوں والے ان لوگوں کو وہاں سے نکالیں جو پانی میں پھنسے ہوئے ہیں ۔لیکن
سننے میں یہ آیا ہے کہ یہ لوگ یہ کام کر رہے ہیں لیکن ان کا ریٹ 5 ہزار روپے فی کس ہے اور اگر کوئی سالم کشتی لے تو 70 ہزار،80 ہزار اور ایک لاکھ تک ہے۔ اس پر ستم یہ کہ جس کے پاس رقم نہیں اسے منت سماجت اور اللہ تعالیٰ کے واسطے پر بھی پانی کے رحم کرم پر چھوڑ آتے ہیں۔
میں سوچ رہا تھا کے ایسے لوگ انسان کہلانے کے مستحق ہیں ؟
فیس بک کمینٹ

